مرکزی مواد پر جائیں

امریکہ ‘اسرائیل اور ایران

امریکہ کی تاریخ محض 434 سال پر محیط ہے جبکہ ایران چھ ہزار سال سے زائد پرانی تہذیب اور غالب سیاسی قوت ہے، مگر امریکہ کو اپنے یورپی اجداد سے مسلمانوں کے…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

امریکہ اور اسرائیل

امریکہ 1492میں دریافت ہوا اس سے پہلے مہذب انسانوں‘ دنیائوں کی نظروں میں گویا تھا ہی نہیں۔ یوں اس کی عمر اور تاریخ 434سال پر محیط ہے اس کی 99 فیصد انسانی آبادی زیادہ تر یورپ اور کچھ دیگر ملکوں سے متعار ہے جبکہ ایران چھ ہزار سے سال سے بھی پرانی تہذیب ہے گزشتہ پانچ ہزار سال سے وہ نمایاں تہذیب اور غالب سیاسی قوت کے طور پر زندہ ہے۔ امریکہ اپنی دریافت سے 284ء سات تک برطانیہ کی کالونی یا سلطنت برطانیہ کی توسیع کے طور پر جانا جاتا تھا۔ 1776ء میں برطانوی تاج سے علیحدگی تک اصل مقامی باشندے یورپ کے قاتلین کے ہاتھوں نابود ہو چکے تھے‘ اب کل انسانی آبادی سفید فارم یورپی افراد پر مشتمل تھی جو عیسائی مذہب‘ یورپی تمدن اور تہذیب سے تعلق رکھتے تھے‘ خیال رہے کہ امریکہ میں اہل یورپ کی آمد سے صرف 96 سال پہلے آخری صلیبی جنگ عثمانی خلافت اور عیسائیوں کے یورپی اتحاد کے درمیان لڑی گئی تھی جس میں یورپی اتحاد کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ صلیبی جنگوں میں ذلت آمیز نتائج نے اہل یورپ کو مایوس ہو کر بیٹھ رہنے کی بجائے‘انتقام اور بدلے کے لئے نئی راہیں تلاش کرنے کے جذبے کو ابھارا یورپ کے فلسفی دانشور مصنفین لکھاری‘ سیاستدان مہم جو ماہرین ایک نئے جذبے کے ساتھ بروئے کار آئے یہیں سے ’’یورپ کی نشاۃ الثانیہ‘‘ کا آغاز ہوتا ہے۔ سولہویں صدی یورپ کے عروج کا آغاز اور مسلمان تہذیب کے زوال کی ابتدا ہوتی ہے ’’فاتح مفتوح اور مفتوح فاتح کیونکر ہوئے اس پر بعد میں بات کریں گے‘‘ مسلمانوں کے خلاف تعصب اور دشمنی امریکہ کو اپنے اجداد اہل یورپ سے وراثت میں ملی ہے۔ دوسری جنگ عظیم نے یورپ کو تباہ حال اور کنگال بنا دیا۔ تب عیسائی یورپ کی قیادت امریکہ کے ہاتھ آ گئی جو فاصلے کی دوری اور سمندروں کے حائل ہونے کی وجہ سے دونوں عظیم جنگوں کی نہ صرف تباہی سے بچ رہا بلکہ دفاعی صنعت نے اسے اقتصادی طور پر بہت طاقت ور اور مضبوط بنا دیا۔ جنگ عظیم کے بعد 1979ء افغانستان میں روس کی شکست تک امریکہ نے دنیا بھر میں تقریباً 25 ملکوں پر یکطرفہ حملے کئے ان میں ایک بھی مسلمان ملک نہیں تھا جو امریکی حملے کی زد میں آیا ہو۔1997ء کے آخر میں روس کے افغانستان پر حملے کے بعد پاکستان کی عملی امداد اور مسلم ممالک کے تعاون سے روس کو شکست ہوئی۔ مشرقی یورپ اور سنٹرل ایشیا کے ملکوں کو روسی چنگل سے آزادی مل گئی روس یو ایس ایس آر‘ ختم ہو گیا اکیلا روس باقی رہا سرد جنگ سے امریکہ کی گلو خلاصی ہوئی۔ سرد جنگ سے نجات امریکہ نے حاصل نہیں کی تھی۔ یہ جنگ افغانوں نے اپنے خون اور پاکستان کی حکمت عملی سے جیتی گئی تھی۔ وہی امریکہ جس نے جنگ عظیم کے بعد درجنوں ملکوں پر حملے کئے ۔ ان میں ایک بھی مسلمان ملک نہیں تھا جو یکطرفہ امریکی دشمنی کا شکار ہوا ہو لیکن 1990ء سرد جنگ کے خاتمے کے بعد مختصر عرصے میں امریکہ نے 9مسلمان ریاستوں کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا گویا سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ کی سب دشمنیاں ختم ہو کر مسلم دشمنی پر مرکوز ہو گئیں۔ خیال رہے کہ امریکہ یورپ کی توسیع ہے۔ اس کا مذہب اس کی دوستی دشمنی اس کے تعصبات امریکہ کی وراثت ہیں۔ (1)سرد جنگ کے خاتمے اور روس کے بکھر جانے کے بعد نیٹو کے سیکرٹری جنرل جیفرڈ ورنر۔ سے سوال کیا گیا کہ روس کی شکست اور سرد جنگ ختم ہو جانے کے بعد جب کوئی خطرہ باقی نہیں رہا تو کیا نیٹو کی ضرورت ختم ہو گئی ہے؟ سیکرٹری جنرل کا جواب تھا ’’نہیں ابھی مسلمانوں کا خطرہ باقی ہے۔(2) یوگو سلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد صرف 40لاکھ مسلم آبادی کے ملک ’’بوسنیا ہرزگوینیا ‘‘ کی آزادی کے ہنگام برطانوی وزیر اعظم جان میجر نے کہا ہم یورپ میں ایک مسلم ملک قبول نہیں کر سکتے۔ (3) 11ستمبر 2001ء میں امریکہ (نیویارک) میں جڑواں میناروں پر حملے کے بعد امریکہ نے افغانستان کے خلاف اعلان جنگ کو صلیبی جنگ قرار دیا حالانکہ نیو یارک حملے میں افغانستان کا ایک بھی حملہ آور شامل نہیں تھا۔ جنگ عظیم دوم کے بعد سے 2000ء تک امریکی حملوں کا کوئی خاص تاریخی پس منظر نہیں تھا لیکن 2001ء افغانستان کی طالبان حکومت پر حملے اور یکے بعد دیگرے 9مسلمان ملکوں کو نشانہ بنانے کا پس منظر اور نتائج بھی یکسر مختلف ہیں۔ ’’اسرائیل‘‘ اسرائیل یہودیوں نے نہیں بتایا۔ اسرائیل کا قیام اور اب تک اس کی موجودگی یورپ کے صلیبی جنگ زدہ ذہن کی پیداوار ہے نہ یہودی اسے بنانے پر قادر تھے نہ اسے باقی رکھ سکنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ یہودیوں کی مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کا کوئی قابل ذکر تاریخی پس منظر نہیں ہے۔ عیسائیوں کی یہودیوں کے ساتھ ازلی دشمنی ہے جب تک یہودی غالب تھے انہوں نے حضرت عیسیٰ کے قتل کی سازش کی اور عیسائیوں کو زندہ جلایا۔ روم کے بادشاہ نے جونہی عیسائی مذہب اختیار کیا تب سے تقریباً ہر سو سال کے بعد عیسائیوں کے ہاتھوں یہودیوں کا قتل عام ہوتا رہا یہودیوں کا آخری قتل عام تقریباً اسی سال (80) پہلے ہٹلر کے ہاتھوں انجام پایا آخری قتل عام برپا ہوئے 80سال گزر چکے ہیں سو سال گزرنے کے بعد اگلے قتل کا بندوبست مسلمانوں کے ہاتھوں انجام پانے کا بندوبست کر دیا گیا ۔ گریٹر اسرائیل ایک نعرہ ہے جو یہودیوں کو بہلانے اور عربوں کو دھمکانے کے لئے گھڑا گیا۔ اسرائیل کوئی آزاد اور طاقت ور ریاست نہیں ہے بلکہ یوں کہیے کہ اسرائیل سرے سے ریاست ہی نہیں ہے۔ یہ مشرق وسطیٰ میں یورپ اور امریکہ کا ہر اول دستہ ہے ایک مضبوط چوکی ہے جس میں کرائے کے قاتل رکھے گئے ہیں کرائے کے ان قاتلوں کے لئے یہودی بدمعاشوں کا انتخاب ۔ برطانوی عیارانہ چیرہ دستیوں کا شاہکار ہے۔ اسرائیل کو آپ امریکہ کی پراکسی کہہ سکتے ہیں جس کو اسلحہ ‘ پیسہ تنخواہ ‘ تحفظ سفارتی تحفظ غرض ہر ضرورت امریکہ مہیا کرتا ہے پراکسی جب کبھی شکست کھانے کو ہوتی ہے تو امریکہ کیل کانٹے سے لیس اپنی افواج دنیا بھر میں بے بدل جنگی مشین کے ساتھ حملہ آور ہو جاتا ہے۔1973ء رمضان المبارک میں مصر اردن شام نے اسرائیل پر حملہ کیا انہوں نے اسرائیل کا بھرکس نکال کے رکھ دیا قریب تھا کہ اسرائیل صفحہ ہستی سے مٹ جائے تب امریکہ پورے جاہ و جلال سے یورپ کے تعاون سے عربوں پر حملہ آور ہو گیا۔ مصر کے صدر انوار السادات یہ کہتے ہوئے جنگ بند کر دی کہ ہم اسرائیل کو شکست دے سکتے ہیں امریکہ سے نہیں لڑ سکتے۔

مصنف کے بارے میں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

طارق چوہدری. «امریکہ ‘اسرائیل اور ایران.» اقبال فورم، 15 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=51903.

حوالہ دینے کے انداز

طارق چوہدری. (15 اکتوبر 2026). امریکہ ‘اسرائیل اور ایران. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/?p=51903

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔