آبنائے ہرمز۔ایک ارضیاتی عجوبہ

آبنائے ہرمز۔ایک ارضیاتی عجوبہ

آبنائے ہرمزاتنا مشہور ہوچکا ہے کہ دنیا کا تقریبا ہر شخص اس عجوبے کو جاننے کی جستجو رکھتا ہے،کیونکہ اسی کی بندش کی وجہ سے امریکہ اور ایران برسرپیکار ہیں اور نہ جانے کب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔درحقیقت آبنائے ہرمز ایک تنگ آبی گزرگاہ ہے جو خلیج فارس اور خلیج اومان کو آپس میں ملاتی ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے شعبہ ارتھ سائنسز (ارضیات) کے پروفیسر مائیک سیئرل کا کہنا ہے کہ یہ ایک ارضیاتی عجوبہ ہے۔جہاں آپ دو براعظموں کے باہم ٹکرانے کی واضح نشانیاں دیکھ سکتے ہیں۔دنیا میں سمندری راستے پر ہونے والی تیل کی تجارت کا تقریبا چوتھائی حصہ آبنائے ہرمز سے گزرکر منزل مقصود تک پہنچتا ہے۔یہ بات اردو ڈائجسٹ کے شمارے جولائی میں ہادی شاہ نے بتائی۔ خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع یہ تقریباً 33 میل چوڑی آبی گزر گاہ ہے۔یہ تنگ راستہ دنیا کے اہم ترین سمندری ”چوک پوائنٹس“(یعنی تنگ راستوں) میں سے ایک ہے،یعنی ایسی مصروف ترین تجارتی گزرگاہ جو اگر بند ہو جائے تو عالمی معیشت میں تباہی مچانے کی طاقت رکھتی ہے۔ جیسا کہ مشرق وسطی میں جاری تنازع کے باعث فروری 2026ء کے آخر سے اب تک دیکھا جا رہا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مائیک سیئرل کے مطابق یہاں دو براعظموں کے باہمی ملاپ کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ اس تصادم کے شواہد پورے خطے کی ارضیات (جغرافیے) میں جا بجا نظر آتے ہیں۔جنوبی ایران کے کوہ زاگرس سے لے کر آبنائے ہرمز کے سب سے تنگ حصے تک جہاں اومان کا جزیرہ نما مسندم ایک خنجر کی طرح شمال میں ایران کی طرف نکلا ہوا ہے۔اپنی ڈھلوان، سیاہ چٹانوں اور سمندر برد وادیوں کی وجہ سے مشہور جزیرہ نما مسندم زمین کے ان چند نایاب مقامات میں سے ایک ہے جہاں اوفیولائٹ(وہ چٹانیں جو عام طور پر سمندری تہہ کے نیچے گہرائی میں دفن ہوتی ہیں) انتہائی شاندار اورواضح طور پر نظر آتی ہیں۔ سیئرل کہتے ہیں یہ دنیا بھر میں اوفیولائٹ کا اب تک کا سب سے بڑا اور بہترین ذخیرہ ہے۔تاہم جس ارضیاتی عمل نے آبنائے ہرمز کو اتنا منفرد اور ممتاز بنایا ہے، وہی عمل اسے حساس اور کمزور بھی بنا دیتا ہے۔آبنائے ہرمز کو جنم دینے والا عمل تقریبا ساڑھے تین کروڑ سال پہلے دو براعظموں (جنوب میں عربین پلیٹ اور شمال میں یوریشین پلیٹ) کے ٹکراؤ سے شروع ہوا۔ اس وقت یہ براعظم قدیم سمندر، ٹیتھیس کے ذریعے ایک دوسرے سے الگ تھے جس کا نام یونانی مالامال اساطیر کے سمندری دیوتا کے نام پر رکھاگیا ہے۔ برطانیہ کی ڈرہم یونیورسٹی میں ارتھ سائنسز شعبہ کے سربراہ مارک ایلن،جنہوں نے عرب۔یورشیا تصادم کا مطالعہ کیا ہے، وہ بتاتے ہیں کہ عربین پلیٹوں نے شمال کی طرف یوریشین پلیٹوں کے نیچے دھنسنا شروع کیا۔اس عمل کو اصطلاح میں ”سب ڈکشن“کہا جاتا ہے اس کے نتیجے میں ٹیتھیس سمندر ختم ہو گیا، کیونکہ دونوں براعظمی پلٹیں اور ان کے اوپر موجود خشکی کے ٹکڑے آپس میں جڑ گئے۔ایلن مزید کہتے ہیں جیسے جیسے عربین پلیٹ یوریشیا کے نیچے اپنا راستہ بناتی رہی، دونوں پلٹیں بالاخر سمٹنے اور موٹی ہونے لگیں۔بالکل ویسے ہی جیسے دو کاریں آپس میں ٹکرا جائیں۔ جب یہ دونوں پلٹیں آپس میں ٹکرا کر اُبھریں تو انہوں نے ایران میں موجود ہ دور کے کوہ زاگرس کو جنم دیا۔اس ٹیکٹونک حرکت نے آبنائے ہرمز کے معرض وجود میں آنے کے لئے سازگار حالات بھی پیدا کیے۔ایلن کہتے ہیں کہ تقریباً 20 ہزار سال پہلے آخری برفانی دور کے دوران خلیج فارس میں پانی اتنا کم گہرا تھاکہ بعض مقامات سے پیدل چل کر اسے پار کیا جاسکتا تھا، لیکن جیسے ہی برف کی چادریں۔پگھلنا شروع ہوئیں، عالمی سطح پر سمندروں کا پانی کافی حد تک بلند ہو گیا، یعنی محض15 ہزار سال میں تقریبا سو میٹر تک کا اضافہ ہوا۔ایلن کہتے ہیں ایک ارضیات داں کے نقطہ نظر سے یہ تبدیلی کافی تیز رفتار تھی۔وقت کے ساتھ اس عمل نے موجودہ عراق کے مشرقی ساحل تک پانی پہنچایا اور خلیج فارس کو بھی پانی سے بھر دیا۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب دریائے دجلہ اور دریائے فرات جیسے دریاؤں کے پانی نے آبنائے ہرمز کو بھر دیا تھا۔اگر آپ آبنائے ہرمز کے آس پاس نظر دوڑائیں تو اس کے دونوں اطراف موجود مناظر کی سیر کریں تو آپ کو براعظموں کے اس تصادم کے حیرت انگیز نشانات دیکھنے کو ملیں گے۔ایلن مزید کہتے ہیں ”کوہ زاگرس کو طویل عرصے سے سٹرکچرل جیولیوجسٹس (چٹانوں کی ساخت کا مطالعہ کرنے والے ماہرین) کے لئے جنت سمجھا جا تا رہا ہے۔یعنی وہ ماہرین جو اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ چٹانیں کیسے اور کیوں بنتی ہیں؟کیونکہ آپ ان بڑی ساختوں پر پیدل چل کر اور سیٹلایٹ امیجز کے ذریعے بھی ان کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔یہ زمین پر پائے جانے والے سب سے زیادہ متاثر کن ارضیاتی مناظر میں سے ایک ہے“۔جنوب کی طرف جزیرہ نما مسندم عمان کے الھجر پہاڑی سلسلے کا حصہ ہے جو جزیرہ نما عرب کے شمال مشرقی ساحل تک پھیلا ہوا ہے۔ سیئرل بتاتے ہیں کہ یہ پہاڑ زیادہ تر اوفیولائٹ (Ophiolite) پر مشتمل ہیں جو قدیم ٹیتھیس سمندر کی نچلی تہہ اور مینٹل (پرت)کا ایک حصہ ہے۔یہ حصہ آج سے دس تا چھ کروڑ ملین سال پہلے کریٹاسیس دور کے آخر میں ایک براعظمی ٹکراؤ کے دوران عربین پلیٹ پر آ چڑھا تھا۔ ایسی ارضیاتی طاقت جس نے آبنائے ہرمز کو جنم دیا، جزیرہ کو مشرق کی طرف اس حد تک جھکا دیا کہ یہ آبنائے ہرمز کو بھینچتا (تنگ کرتا) ہوادکھائی دیتا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے اسی براعظمی ٹکراؤ نے اس خطے کو تیل کے ناقابل یقین ذخائر بھی عطاء کئے۔ایلن کہتے ہیں کہ یوریشیاسے ٹکرانے سے پہلے کروڑوں سال تک عربین پلیٹ سطح سمندر سے ذرا نیچے موجود تھی، جہاں وہ تمام چٹانیں جمع ہوتی رہیں جو تیل اور گیس کے ذخائر بنانے کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔وقت کے ساتھ ساتھ پلیٹوں کے ٹکراؤ نے تیل اور گیس کے ان ذخائر کو عربین پلیٹ کے شمالی سرے پر چٹانوں کے نیچے قید کردیا جو اب ایران، عراق اور شام کے کچھ حصوں کے نیچے واقع ہے۔ایلن بتاتے ہیں کہ مشرق وسطی کو جو چیز منفرد بناتی ہے وہ اس کا وسیع پیمانہ ہے۔یہ سب کچھ ایک بہت بڑے علاقے پر ایک طویل عرصے کے دوران ہوا اور یہاں تیل کے زیر زمین ذخائر اتنے بڑے ہیں کہ معاشی طور پر آپ کو اپناسارا پیسہ کسی ایسے کنویں پر ضائع نہیں کرنا پڑتا جو چند سال بعد خشک ہوجائے، بلکہ ان کے پاس ایسے ذخائر ہیں جو کئی دہائیوں تک چلتے ہیں۔تاہم اس تیل اور گیس کو بقیہ دنیا تک پہنچانے کے لئے سب سے پہلے آبنائے ہرمز اور جزیرہ نما مسندم کے تراشے ہوئے اس تنگ ترین راستے سے گزرنا پڑتا ہے۔جزیرہ نما مسندم اب بھی مسلسل متحرک ہے اگرچہ اس کی رفتار ارضیاتی طور پر بہت سست ہے۔

اس مضمون کے مصنفین

متعلقہ

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔