اداریہ
یہ تحریر اداریے کے طور پر شائع ہوئی ہے۔ اس کے کسی انفرادی مصنف کے بارے میں مزید معلومات درج نہیں۔
پروفائل دیکھیںایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے راستے کی جغرافیائی حدود سے متعلق ممکنہ معاہدے کی خبریں نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق دونوں ممالک مشترکہ اعلامیے کی تیاری میں مصروف ہیں، تاہم اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ کوئی تیسرا فریق اس عمل میں رکاوٹ نہ ڈالے۔ اگر یہ پیش رفت عملی شکل اختیار کرتی ہے تو یہ صرف دو ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحدی یا بحری انتظام کا معاملہ نہیں رہے گا، بلکہ عالمی توانائی، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور سفارتی تعلقات پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس کو بحرِ عمان اور بحرِ ہند سے ملانے والی یہ تنگ آبی راہداری عالمی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا میں سمندری راستے سے برآمد ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، عراق، قطر اور ایران جیسے توانائی پیدا کرنے والے ممالک کی برآمدات کا انحصار بھی بڑی حد تک اسی گزرگاہ پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں پیدا ہونے والا معمولی تناؤ بھی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، شپنگ انشورنس، نقل و حمل کے اخراجات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر فوری اثر ڈالتا ہے۔اگر ایران اور عمان باہمی مفاہمت کے ذریعے جہاز رانی کے لیے واضح اور قابلِ قبول انتظام پر متفق ہو جاتے ہیں تو اس سے نہ صرف بحری نقل و حمل زیادہ محفوظ ہوگی بلکہ خطے میں کشیدگی میں بھی نمایاں کمی آسکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں استحکام پیدا ہوگا، توانائی کی فراہمی میں رکاوٹوں کا خدشہ کم ہوگا اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آبنائے ہرمز گزشتہ کئی دہائیوں سے بڑی طاقتوں کی سیاسی کشمکش، عسکری موجودگی اور علاقائی رقابتوں کا مرکز رہی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدہ تعلقات، اقتصادی پابندیاں، بحری افواج کی موجودگی، اسرائیل اور ایران کے تنازعات اور بعض اوقات تیل بردار جہازوں پر حملوں یا انہیں روکنے کے واقعات نے اس حساس گزرگاہ کو بارہا عالمی توجہ کا مرکز بنایا ہے۔ یہی عوامل اس خطے میں عدم اعتماد کو جنم دیتے رہے ہیں اور امن کی کوششوں کو متاثر کرتے رہے ہیں۔ جب بھی طاقت کے استعمال، دھمکیوں، یکطرفہ اقدامات یا پراکسی تنازعات کو ترجیح دی جاتی ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ اس کے برعکس جب سفارت کاری، مذاکرات اور باہمی احترام کو بنیاد بنایا جاتا ہے تو نہ صرف علاقائی کشیدگی کم ہوتی ہے بلکہ عالمی تجارت بھی زیادہ محفوظ ماحول میں جاری رہتی ہے۔پاکستان نے ہمیشہ ایسے حساس معاملات میں متوازن، ذمہ دارانہ اور اصولی مؤقف اختیار کیا ہے۔ پاکستان کے ایران، عمان، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں، جبکہ وہ بین الاقوامی قوانین اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں کی بھی حمایت کرتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوا، پاکستان نے مسلسل مذاکرات، تحمل اور سفارتی حل پر زور دیا۔ اسلام آباد نے کبھی بھی کسی ایسے اقدام کی حوصلہ افزائی نہیں کی جو خطے کو مزید تصادم کی طرف دھکیل دے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم پہلو یہ بھی رہا ہے کہ وہ مسلم دنیا میں اتحاد، باہمی احترام اور تنازعات کے پرامن حل کا حامی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان مختلف علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر بارہا اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں، بلکہ پائیدار امن صرف مذاکرات، اعتماد سازی اور بین الاقوامی قوانین کے احترام سے ہی ممکن ہے۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی پاکستان کا یہی مؤقف نہ صرف خطے بلکہ عالمی برادری کے مفاد میں ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں امن قائم رہتا ہے تو اس کے مثبت اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، جبکہ اس کی برآمدات اور درآمدات کا ایک اہم حصہ سمندری راستوں سے وابستہ ہے۔ تیل کی قیمتوں میں استحکام، بحری نقل و حمل کی روانی اور شپنگ لاگت میں کمی پاکستان سمیت ترقی پذیر معیشتوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اسی طرح خطے میں امن سرمایہ کاری، علاقائی تجارت اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتا ہے۔آج دنیا کو طاقت کے مظاہروں سے زیادہ اعتماد سازی کی ضرورت ہے۔ اگر ایران اور عمان باہمی مفاہمت کے ذریعے ایک قابلِ عمل انتظام پر پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور دیگر متعلقہ فریق بھی اس عمل کو مثبت انداز میں آگے بڑھنے دیتے ہیں تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی سفارتی مثال قائم کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر بیرونی مداخلت، سیاسی مفادات یا عسکری کشیدگی دوبارہ غالب آ گئی تو اس کا نقصان صرف خطے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت کو بھی بھگتنا پڑے گا۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ آبنائے ہرمز کو تصادم کی علامت کے بجائے تعاون، مشترکہ ذمہ داری اور امن کی راہداری بنایا جائے۔ دنیا کی معیشت، توانائی کا مستقبل اور کروڑوں انسانوں کی معاشی خوشحالی اسی حقیقت سے وابستہ ہے۔ ایسے میں پاکستان سمیت تمام ذمہ دار ریاستوں کو سفارت کاری، مکالمے اور امن کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھنا چاہیے تاکہ یہ اہم بحری گزرگاہ آنے والی نسلوں کے لیے استحکام اور خوشحالی کی علامت بن سکے۔
یہ تحریر اداریے کے طور پر شائع ہوئی ہے۔ اس کے کسی انفرادی مصنف کے بارے میں مزید معلومات درج نہیں۔
پروفائل دیکھیں
اے آئی اسسٹنٹ
تیز اور قابل اعتماد جواب