ایران اور پاکستان میں فرق کیا ہے؟

ایران اور پاکستان میں فرق کیا ہے؟

 ہمسایہ اسلامی ملک ایران جو ایک ماہ دس دن سے دنیا کی دو سپرطاقتوں امریکہ اور اسرائیل سے برسر پیکار رہ چکا ہے بلکہ اب بھی سینہ تان کر امریکہ کے جابر حکمرانوں کے سامنے کھڑا ہے۔ اس کے برعکس پاکستانی حکمرانوں کا المیہ یہ ہے کہ دنیا میں بہت مقبول اور انقلابی دکھائی دیتے ہیں لیکن اندرون ملک عوام  کے لئے کوئی ریلیف نہیں۔اس بات کا ثبوت ایران امریکہ جنگ کے دوران دیکھا جا سکتا ہے،پاکستان کو سعودی عرب سے نہایت سستا تیل فراہم کیا جاتا ہے،جبکہ ہمارے تمام بحری جہازوں کوآبنائے ہرمز سے انتہائی محبت اور احترام کے ساتھ گزار دیا جاتا ہے،اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں کہیں بھی پٹرول کی قلت نہیں محسوس ہوئی۔اس کے باوجود پاکستانی حکمرانوں نے بین الاقوامی تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بہانہ بنا کر پاکستانی عوام کے لئے فی لیٹر ڈیڑھ سو روپے سے زائد کا اضافہ کیا، ساتھ ہی یہ کہتے ہوئے پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں کو جمعہ، ہفتہ،اتوار بند کردیا  ہے کہ اس طرح پٹرول کی بچت ہوگی، لیکن عوام نے کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ جہاں جہاں بھی صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ سفر کرتے ہیں تو ان کے پیچھے تیس پینتیس گاڑیاں فضول میں بھاگتی ہیں۔گویا عوام کو نصیحت کرنے والے پاکستانی حکمرانوں کا عمل یکسر مختلف ہے۔بد قسمتی سے ہمارے حکمران بھول جاتے ہیں کہ انہیں مسند ِ اقتدار تک پہنچانے کے لئے عوام ہی موسمی صعوبتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے انہیں ووٹ دیتے ہیں،میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی عوام اگر سخت پریشان ہیں تو اس کی وجہ امریکی صدر ٹرمپ کے پسندیدہ پاکستانی حکمران ہیں۔ پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خون جماتی ہوئی سردی کے دِنوں میں گیس نہیں ملتی اور گرمی کے موسم بجلی نہیں ملتی۔ بجلی کی بے تحاشا لوڈشیڈنگ نے پاکستانیوں کا سکون اور قرار چھین رکھا ہے۔افسوس تو اس بات ہے کہ اس مرتبہ تو گرمیوں میں بھی کھانا پکانے کے لئے گھروں میں گیس موجود نہیں۔اس بدانتظامی کا ذمہ دار سوائے حکمرانوں کے اور کون ہے۔ہمارے حکمرانوں کو اس سے غرض نہیں کہ ان کو ووٹ دینے والے مریں یا جئیں۔ ان کی جہازی سائز کی کابینہ رنگ رلیاں مناتی رہے۔
اب آیئے ایران کے اندرونی حالات کا عمیق جائزہ لیں۔ اس وقت تک ایران نے کسی ملک سے مالی مدد نہیں لی۔ کھانے پینے کی اشیاء کے لئے اپیل نہیں کی۔ ادویات کی اپیل نہیں کی۔ ملک کے اندر جنگ شروع ہوتے ہی روٹی، پٹرول اور ڈیزل مفت کر دیا گیا ہے۔ ڈیڑھ مہینے جنگ اور مسلسل پوری عالم کفر کی شب و روز بمباری کے باوجود ایک بھی ایرانی نے ملک سے ہجرت نہیں کی،بلکہ دوسرے ملکوں میں مقیم ایرانی وطن کے دفاع کے لیے واپس آ رہے تھے۔لاک ڈاؤن کی اصطلاح کسی ایرانی کو شاید معلوم ہی نہ ہو۔ بڑے بڑے تاجروں نے لکھ کر لگا رکھا ہے کہ مال لے جاؤ، جنگ کے بعد پیسے دے دینا۔ جنگ اور بمباری میں وزراء عوام کے درمیان سڑکوں پر امریکی مخالف مظاہروں میں برابر شریک رہے ہیں۔ ایرانی صدر خود شاپنگ مالز پر جا کر ریٹ اور سہولیات چیک کر رہا تھا۔ میں نے بذاتِ خود ٹی وی چینلز پر ایرانی صدر کو ایک بائیک کے پیچھے سوار ہوکر برستے گولوں میں تہران کا چکر لگاتے دیکھا ہے۔نہ عوام کو جنگ کی فکر تھی اور نہ بچے کھچے ارباب اختیار کو۔دنیا نے کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ ایرانی عوام نے برستے گولوں میں روزے بھی رکھے۔نمازیں بھی پڑھیں،عیدکی نماز اور شہید ہونے والے قائدین کی نماز جنازہ بھی پرہجوم شکل میں ادا کیں۔یہ سب کیسے ممکن ہوا کہ 47 سالہ پابندیوں اور جنگوں میں جکڑے ہوئے ملک کے عوام پُرسکون رہے اور اب بھی پرسکون حالت میں ہیں، کیونکہ نئے سپریم لیڈر نے ذاتی گھر تک نہیں خریدا اور نہ خرید سکیں گے۔وزراء  اور جرنیلوں کے بچوں پر بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کی پابندی ہے۔ حکومتی اراکین اور انتظامیہ بیرون ملک اکاؤنٹ نہیں رکھ سکتے، کسی بھی وزیر یا جرنیل کا ملک سے باہر کوئی دوسرا گھر نہیں ہے۔ سپریم لیڈر محتاط اندازے کے مطابق روزانہ 18 گھنٹے کام کرتا ہے۔ کو ایجوکیشن کے نام پر بے غیرتی کے اڈے ایران میں موجود نہیں ہیں۔ امریکن یا یورپین سکول کالجز نہیں ہیں۔ تعلیم مفت ہے، جس کی وجہ سے ہر دوسرا جوان انجینئر، پی ایچ ڈی اور کم از کم ایم اے پاس ملے گا۔ رات کی تاریکی میں شب خون مار کر ریٹ نہیں بڑھائے جاتے بلکہ حکومت پہلے پارلیمنٹ میں بل پیش کرتی ہے، پھر سپریم لیڈر فیصلہ کرتے ہیں۔اس لئے سال میں ایک آدھ مرتبہ ہی کسی چیز کا دو تین پرسنٹ ریٹ بڑھ سکتا ہے وہ بھی ریٹ کے ساتھ سپریم لیڈر کی جانب سے عوام کو ریلیف دے دیا جاتا ہے۔ گھر میں روٹی پکانا منع ہے، جس سے خواتین پڑھ لکھ سکتی ہیں یا اجتماعی پروگراموں میں آسانی سے شرکت کر سکتی ہیں۔ ڈیلیوری کیسز فری ہیں،بلکہ بچے کی پیدائش پر کم از کم 20000 روپے والدہ کے بنک اکاؤنٹ میں گفٹ کے طور پر ٹرانسفر کر دیئے جاتے ہیں۔ علاج میں 70 فیصد حکومت ادا کرتی ہے 30 فیصد مریض خرچ کرتا ہے۔ چوری ڈکیتی نہیں ہے۔ شاہی کلچر نام کی چیز ہے اور نہ پروٹوکول۔آپ کو ایران میں تلاش کرنے کے باوجود بھکاری نہیں ملے گا۔ بے نمازی ہونا گنہگارسمجھا جاتا ہے۔ سورج غروب ہونے سے طلوع ہونے تک پولیس قاتل کے گھر میں بھی داخل نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ وقت اس کی بیوی بچوں کا ہے۔ جیلیں خالی ہیں اور اگر کسی سے جرم ہو بھی جائے تو اسے جیل میں کام دیا جاتا ہے جس کی سیلری اس کے گھر بھیج دی جاتی ہے تاکہ اس کا فیملی بجٹ ڈسٹرب ہونے کی وجہ سے غیر اخلاقی جرائم میں مبتلا نہ ہو جائے۔ جمعہ کے خطبہ میں انتظامیہ کو وارننگ دے دی جا سکتی ہے۔ وزراء  اور صوبائی و ضلعی انتظامیہ کے افسران نماز جمعہ کی پہلی صف میں سب سے پہلے موجود ہوتے ہیں۔ چھوٹے بڑے خاندان کا تصور ایران میں موجود نہیں ہے۔سادات اور غیر سادات میں پوری قوم تقسیم ہوتی ہے۔ معلم سر کا تاج ہوتا ہے، اسے تھانے یا کچہری میں نہیں بلوایا جا سکتا کیونکہ معلم اور استاد ایسا کام ہی نہیں کرتا۔ نوکر رکھنے کا رواج نہیں  ہے۔ ذہنی طور پر ہر شخص مطمئن اور ہشاش بشاش دکھائی دیتا ہے۔ ایرانی حکمران  وطن عزیز کی حفاظت کے لئے سب کچھ قربان کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں۔ان کے اس جذبے اور قربانی اور پھر سچے ایمان کی وجہ سے اس وقت عالم اسلام اور یہاں تک کہ غیر مسلم ممالک بھی ان کی تعریف کر رہے ہیں۔ اگر ایسی حکومت سپر پاور بن جائے تو دنیا کے غم ختم ہو جائیں گے۔درحقیقت یہی وہ عدل و انصاف پر مبنی عالمی حکومت ہے جس کا پوری دنیا کو صدیوں سے انتظار ہے۔ہر آنے والا دن ایرانی مسلمانوں کے لئے ترقی اور خوشحالی کا سورج  لے کر نکلتا ہے اور پوری دنیا پرغالب آنے کی وجہ بھی یہی ہے۔

اس مضمون کے مصنفین

ادارۂ فکر اقبال کی ادارتی ٹیم

ادارۂ فکر اقبال کی ادارتی ٹیم

ادارۂ فکر اقبال کی ادارتی ٹیم سفارت کاروں، سیاست دانوں، ادیبوں، محققین، اساتذہ اور ایران و پاکستان کی معتبر جامعات کے طلبہ پر مشتمل ہے؛ فکر میں ہم آواز اور نگاہ میں متنوع

پروفائل دیکھیں

متعلقہ

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔