امریکہ، ایران جنگ: کیا کھویا، کیا پایا؟

امریکہ، ایران جنگ: کیا کھویا، کیا پایا؟

تاریخ کی رفتار ہمیشہ فاتحین کے گھوڑوں کی ٹاپ سے نہیں ناپی جاتی۔ بسااوقات ایک جلتے ہوئے شہر کی راکھ، ویران عبادت گاہوں کی خاموشی،اجڑے ہوئے کتب خانے کے بکھرے ہوئے اوراق اور ایک ماں کی بے آواز آہ پوری صدی کا نوحہ بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تہذیبوں کا حقیقی حافظہ جنگی اعلامیوں میں نہیں، انسانی دکھ کی ان تہوں میں محفوظ رہتا ہے جہاں وقت بھی آہستہ قدم رکھتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس تنازع کو دو ریاستوں کا عسکری تصادم نہیں بلکہ طاقت، تہذیب، سیاست، معیشت اور انسانی تقدیر کے باہمی تعلق کا ایک نیاتلخ دورانیہ تصورکیاجاناچاہیے۔ایران کی سرزمین تاریخ کے قدیم ترین مراکز میں شمار ہوتی ہے۔ ہخامنشی سلطنت کے شاہی راستوں سے لیکرساسانی درباروں تک، اس سرزمین نے اقتدار کے عروج بھی دیکھے اور زوال کی تلخیاں بھی۔ دوسری جانب امریکہ ایک نسبتاً نئی ریاست ہےمگر گزشتہ ایک صدی میں اس نے عالمی سیاست کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے رکھی ہے۔ ایک کے پاس ہزاروں برس کی تہذیبی یادداشت ہےتودوسرے کے پاس جدید سائنس، سرمایہ اور عسکری برتری۔ جب ایسی دو قوتیں آمنے سامنے آئیں تو تصادم سرحدوں تک محدودنہیں رہتا۔ اس کی بازگشت پوری دنیا میں سنائی دیتی ہے۔ طاقت کا نشہ ہمیشہ عارضی ثابت ہوا ہے۔ سکندر اعظم نے دریائے سندھ تک فتوحات کے پرچم گاڑے۔واپسی کا سفر اسکی آخری منزل بن گیا۔ رومی سلطنت نے نصف دنیا کو اپنے زیرنگیں رکھا۔اس کے محلات کھنڈرات میں بدل گئے۔ بغداد، جو کبھی علم، فلسفے اور تہذیب کا آفتاب تھا، 1258ء میں منگول یلغار کے بعد خون اور راکھ کی ایسی داستان بنا کہ دریائے دجلہ کا پانی سیاہی اور خون کے امتزاج سے رنگین ہونے کا استعارہ بن گیا۔ تاریخ کا یہ باب آج بھی یاد دلاتا ہے کہ جنگ صرف عمارتیں نہیں گراتی۔یہ علم، تہذیب اور اجتماعی حافظے کو بھی زخمی کر دیتی ہے۔گوامریکہ نے اس جنگ میں اپنی عسکری برتری کا بھرپور اظہار کیا۔ جدید طیارے، دور مار ہتھیار، انٹیلی جنس نظام اور برق رفتار حملے اسکی قوت کا اظہار تھے۔ اسکے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم رہی کہ اکیسویں صدی میں کوئی بھی جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی۔ معیشت، سفارت کاری، اطلاعات، توانائی اور عالمی رائے عامہ بھی اس جنگ کے خاموش محاذ ہوتے ہیں۔ ہر داغا جانے والا میزائل قومی خزانے سے وسائل بھی لے جاتا ہے۔عالمی سیاست میں نئے سوال بھی پیدا کرتا ہے۔ایران نےمزاحمت کی روایت کو برقرار رکھنے کی بھرپورکوشش کی لیکن مزاحمت کا ایک معاشی اور سماجی بوجھ بھی ہوتا ہے۔ بندرگاہیں سست پڑ جاتی ہیں، صنعت کا پہیہ دھیمی رفتار اختیار کرتا ہے، سرمایہ خوفزدہ ہو جاتا ہے اور عام آدمی کی زندگی مزید دشوارگزار ہو جاتی ہے۔ جنگ کی سب سے بڑی قیمت ہمیشہ وہ لوگ ادا کرتے ہیں جنہوں نے کبھی جنگ کا فیصلہ نہیں کیا ہوتا۔پہلی اور دوسری جنگِ عظیم نے دنیا کو یہ سبق دیا تھا کہ جدید جنگ میں فاتح بھی زخمی ہوتاہے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملوں نے جاپان کو جھکا دیامگر انسانی ضمیر پر ایسا سوال ثبت کر دیا جو آج تک مٹ نہیں سکا۔ ویتنام میں عسکری برتری سیاسی کامیابی میں تبدیل نہ ہو سکی۔ افغانستان میں دو عالمی طاقتیں مختلف ادوار میں داخل ہوئیں۔ دونوں کو تاریخ کے مشکل ترین اسباق سیکھنے پڑے۔ عراق میں حکومت تو بدل گئی۔ پورا خطہ طویل عدم استحکام کی گرفت میں آ گیا۔ ان تمام مثالوں سے ایک ہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ جنگ کا آغاز منصوبہ بندی سے ہوتا ہے،اس کا انجام اکثر منصوبوں کے تابع نہیں رہتا۔اس جنگ نے عالمی معیشت کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا۔ تیل کی قیمتوں میں بے یقینی پیدا ہوئی، سمندری راستوں کی سلامتی پر سوال اٹھے، سرمایہ کار محتاط ہوئے اور عالمی منڈیوں میں اضطراب پھیل گیا۔ دنیا اس قدر باہم مربوط ہو چکی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی ایک چنگاری ایشیا، یورپ، افریقہ اور امریکہ تک معاشی اثرات چھوڑتی ہے۔ اس تصادم کا سب سے گہرا زخم انسانی سطح پر محسوس ہوتا ہے۔ ایک طرف وردی پوش سپاہی ہیں۔ دوسری طرف وہ شہری جن کے گھروں کی کھڑکیوں سے دھواں اندر آتا ہے۔

ایک طرف عسکری کامیابیوں کے اعداد و شمار ہیں، دوسری طرف اسپتالوں میں بستروں کی کمی، خالی ہوتے اسکول، خاموش بازار اور خوف میں لپٹا ہوا بچپن۔ تاریخ ہمیشہ یہ سوال کرتی ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد بچے کیا سیکھتے ہیں: امن کی زبان یا نفرت کا ورثہ؟سوال یہ نہیں کہ امریکہ نے کیا پایا یا ایران نے کیا کھویا۔ اصل سوال یہ ہے کہ انسان نے کیا کھویا۔ امریکہ نے اپنی عسکری طاقت کا اظہار کیا۔ اسے مالی، سفارتی اور سیاسی قیمت بھی ادا کرنا پڑی۔ ایران نے اپنی مزاحمت کا تاثر برقرار رکھا۔ اس کے عوام، معیشت اور بنیادی ڈھانچے نے اس کی بھاری قیمت چکائی۔ دونوں نے اپنے اپنے بیانیے محفوظ رکھنے کی کوشش کی۔ دونوں کے سامنے مستقبل کے نئے چیلنج بھی کھڑے ہو گئے۔امریکہ اور ایران کی حالیہ جنگ کا آخری فیصلہ کسی عسکری بریفنگ، کسی سیاسی تقریر یا کسی سفارتی اعلامیے میں نہیں لکھا جائے گا۔ اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔

وقت کا قلم ہمیشہ بارود سے زیادہ طاقتور ثابت ہوا ہے۔ جب مورخ کئی برس بعد اس باب کو کھولے گا تو وہ شاید ہتھیاروں کی فہرست مرتب کرنےکےبجائے یہ لکھے کہ اکیسویں صدی کا انسان علم کی بلند ترین چوٹیوں تک پہنچ گیا تھا، مگر اسے ابھی تک امن کی سب سے بنیادی حکمت پوری طرح نصیب نہ ہو سکی۔ یہی ہر جنگ کا سب سے بڑا خسارہ ہے۔ یہی وہ سوال ہے جو ہر فتح کے جشن کے بعد بھی خاموشی سے زندہ رہتا ہے: آخر انسان نے کیا کھویااورکیا پایا؟

اس مضمون کے مصنفین

متعلقہ

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔