مرکزی مواد پر جائیں
خبریں

ایران کو صرف سرحدوں نے محفوظ نہیں رکھا؛ فارسی زبان نے سنبھال کر رکھا ہے

 زبان اور ادبِ فارسی کے ورثے نے صدیوں سے ایرانیوں کے اجتماعی حافظے، اساطیری منظومات، اخلاقی ڈھانچوں اور ان کے جیتے جاگتے تجربات کی حفاظت کی ہے اور قومی شناخت کو متحرک…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

 زبان اور ادبِ فارسی کے ورثے نے صدیوں سے ایرانیوں کے اجتماعی حافظے، اساطیری منظومات، اخلاقی ڈھانچوں اور ان کے جیتے جاگتے تجربات کی حفاظت کی ہے اور قومی شناخت کو متحرک انداز میں دوبارہ پروان چڑھانے کے مواقع فراہم کیے ہیں۔

 زبان و ادبِ فارسی کو تہذیبی اور شناختی نقطہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہمیشہ سے مفکرین اور ماہرین کے اہم تاکید کردہ نکات میں شامل رہی ہے۔ اسی سلسلے میں، رہبرِ شہیدِ انقلاب نے 25 فروری 1992 (1370/12/05) کو ریڈیو کے شعبہ ادب و آرٹ کے اراکین سے ملاقات کے دوران ادبیات کے باہم جوڑنے والے مقام و مرتبے کی اس طرح وضاحت فرمائی تھی:

“ادبیات درحقیقت کسی ملک کے ثقافتی ورثے کا ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہونے کا وہ ذریعہ اور رابطہ ہے، کہ اگر یہ نہ ہوتا تو ہمارے پاس ڈاکٹر ہو سکتے تھے، انجینئر ہو سکتے تھے، ٹیکنیکل ماہرین ہو سکتے تھے، سائنس دان ہو سکتے تھے، لیکن کسی دوسری دنیا کے لیے—اس معاشرے اور اس سرزمین کی دنیا کے لیے نہیں۔ ادبیات ان خصوصیات کو منتقل کرنے والے جینز (Genes) کی طرح ہیں جو اصل میں وراثت اور نسل کی حفاظت کرتے ہیں۔ کیا آپ نے توجہ فرمائی؟ ادبیات ہی ہے جو ایک قوم کے اپنے ماضی سے تعلق اور ایک نسل کے اپنے آباؤ اجداد سے رشتے کو محفوظ رکھتی ہے، قائم کرتی ہے اور درج کرتی ہے۔”

اس مضمون کے مصنفین

متعلقہ

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔