مصنوعی ذہانت کا تجزیہ
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں ایک غلط اندازہ یا محدود عسکری کارروائی پورے خطے کو وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ امریکہ نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ مراکز، میزائل تنصیبات اور ڈرون مراکز کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ ایران بھی خطے میں امریکی مفادات اور اتحادیوں پر اپنا دباؤ بڑھا رہا ہے۔ اس کشیدگی میں سب سے اہم پیش رفت سعودی عرب کا ایران سے وابستہ مسلح گروہوں کے خلاف امریکی کارروائیوں میں عملی تعاون ہے، جس نے خطے کی سیاسی و عسکری صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق حالیہ حملے اردن میں امریکی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کا جواب تھے، جبکہ اس سے قبل عراق میں ایران نواز گروہوں کے خلاف امریکی اور سعودی افواج نے مشترکہ کارروائیاں بھی کیں اگرچہ سعودی عرب نے براہِ راست ایران کی سرزمین کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ عراق میں سرگرم گروہوں کے خلاف کارروائی کی، تاہم تہران ان گروہوں کو اپنی علاقائی دفاعی حکمتِ عملی کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران ان حملوں کو صرف مقامی کارروائی نہیں بلکہ اپنے اثرورسوخ کو کمزور کرنے کی کوشش بھی تصور کر سکتا ہے۔ اگر ایران اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ سعودی عرب عملاً اس کے خلاف جنگ میں شریک ہو چکا ہے تو سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات، بندرگاہیں اور دیگر اہم مراکز ممکنہ اہداف بن سکتے ہیں۔ یہی خدشہ اس بحران کو مزید خطرناک بناتا ہے، کیونکہ ایک محدود کارروائی چند گھنٹوں میں وسیع علاقائی تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب گزشتہ چند برسوں سے ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز کرتا رہا۔ 2023 ء میں چین کی ثالثی سے دونوں ممالک نے سفارتی تعلقات بحال کیے، کیونکہ ریاض اپنی توجہ ویژن 2030ء، معاشی اصلاحات، سرمایہ کاری اور سیاحت پر مرکوز کرنا چاہتا تھا۔ دوسری جانب ایران بھی اقتصادی پابندیوں اور داخلی دباؤ کے باعث خلیجی کشیدگی کم کرنے کا خواہاں تھا۔ تاہم سفارتی تعلقات کی بحالی کے باوجود یمن، عراق، لبنان، شام اور خلیج فارس کے معاملات پر دونوں ممالک کے بنیادی اختلافات برقرار رہے۔اب یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں اور بحیرہئ احمر میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے سعودی عرب کو اپنی پالیسی پر نظرثانی پر مجبور کیا ہے۔ ریاض کا مؤقف ہے کہ بحری راستوں کا تحفظ عالمی معیشت کیلئے ضروری ہے، اسی لئے اس نے ان مقامات کو نشانہ بنایا جنہیں وہ حوثیوں کی عسکری سرگرمیوں کے مراکز قرار دیتا ہے۔ ساتھ ہی سعودی عرب بین الاقوامی سطح پر بحیرہئ احمر میں آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کیلئے تعاون بڑھانے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
ایران کی علاقائی حکمتِ عملی طویل عرصے سے ایسے اتحادی گروہوں پر قائم ہے جو لبنان، عراق اور یمن سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہیں۔ اگرچہ تہران ہر کارروائی کی براہِ راست ذمہ داری قبول نہیں کرتا لیکن ان گروہوں کو ملنے والی سیاسی، مالی اور عسکری حمایت ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ اسی لیے ان پر حملے ایران کیلئے صرف مقامی نوعیت کا معاملہ نہیں بلکہ اپنی دفاعی حکمتِ عملی پر حملہ تصور کیے جا سکتے ہیں۔اس بحران کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ مزید ممالک بھی غیر ارادی طور پر اس جنگ کے دائرے میں آتے جا رہے ہیں۔ عراق اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی پر احتجاج کر رہا ہے، اردن ایرانی میزائلوں کو روکنے پر مجبور ہے، اسرائیل پہلے ہی ایران کے ساتھ کشیدگی میں ہے جبکہ بحیرہئ احمر اور نہر سویز کے قریب بڑھتے خطرات عالمی تجارت کو متاثر کر رہے ہیں اگر ایران سعودی عرب کے کسی بڑے تیل کے مرکز کو نشانہ بناتا ہے یا سعودی کارروائیاں مزید پھیلتی ہیں تو خلیج کے دیگر ممالک کیلئے غیر جانب دار رہنا مشکل ہو جائے گا۔معاشی اثرات بھی نمایاں ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اُتار چڑھاؤ، آبنائے ہرمز اور بحیرہئ احمر میں بڑھتے خطرات نے عالمی توانائی کی سپلائی پر خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ اگر یہ بحران مزید بڑھتا ہے تو توانائی، نقل و حمل اور عالمی تجارت پر اس کے اثرات مزید گہرے ہوں گے۔
پاکستان جیسے درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک اس صورتِ حال سے براہِ راست متاثر ہوں گے۔ تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل، بجلی کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ اس کے ساتھ پاکستان کو ایک مشکل سفارتی توازن بھی برقرار رکھنا ہوگا، کیونکہ ایران اس کا ہمسایہ ہے جبکہ سعودی عرب اس کا اہم معاشی اور دفاعی شراکت دار ہے۔ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو اسلام آباد کے لئے غیر جانب دار کردار برقرار رکھنا پہلے سے کہیں زیادہ دشوار ہو جائے گا۔ عمان، پاکستان اور بعض دیگر ممالک پسِ پردہ رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا چاہتا ہے، جبکہ ایران اپنے علاقائی اتحادیوں کو اپنی سلامتی کا لازمی حصہ سمجھتا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب بھی اپنی سرزمین اور توانائی کی تنصیبات کو مزید حملوں کے خطرے سے محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جنگ کا آغاز کرنا آسان، مگر اسے محدود رکھنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ آج اصل سوال یہ نہیں کہ کون جنگ میں شامل ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا ریاض، تہران اور واشنگٹن اس کشیدگی کو ایک ایسی حد کے اندر رکھ سکتے ہیں جہاں سفارت کاری کو دوبارہ موقع مل سکے، یا پھر خطہ ایک ایسی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے جس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے۔
اس مضمون کے مصنفین