واشنگٹن کی بدلتی ترجیحات

واشنگٹن کی بدلتی ترجیحات

امریکی سیاست کی طویل تاریخ میں صدر ڈونلڈ جان ٹرمپ ایک ایسی شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں جنہوں نے روایتی سیاسی سانچوں کو بارہا چیلنج کیا۔ وہ صرف ایک سیاستدان نہیں بلکہ ایک کامیاب تاجر، غیر روایتی حکمتِ عملی کے حامل رہنما، فری ا سٹائل ریسلنگ کے شوقین اور ایسے فیصلہ ساز ہیں جن کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ وہ کسی ایک مؤقف پر زیادہ دیر قائم نہیں رہتے۔ ان کے حامی اسے حالات کے مطابق لچک قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے غیر یقینی، تضاد اور مسلسل بدلتی سوچ کا نام دیتے ہیں۔ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے، مگر یہ امر اپنی جگہ مسلم ہے کہ ٹرمپ کے فیصلوں میں اچانک تبدیلی کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں بلکہ ان کے سیاسی مزاج کا مستقل حصہ بن چکی ہے۔
ایران کے خلاف 28 فروری 2026ء کو شروع ہونے والی وسیع فوجی کارروائیوں سے لے کر جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت تک کے چند ماہ اس حقیقت کی نمایاں مثال پیش کرتے ہیں۔ اس مختصر عرصے میں ٹرمپ کی حکمتِ عملی میں یکے بعد دیگرے ایسی تبدیلیاں رونما ہوئیں، جنہوں نے نہ صرف واشنگٹن کے اتحادیوں بلکہ عالمی سفارتی حلقوں کو بھی حیرت میں مبتلا رکھا۔ اگر اس پورے دور کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو کم از کم سات بنیادی پالیسی تبدیلیاں واضح طور پر سامنے آتی ہیں۔
ابتدا میں صدر ٹرمپ کا مؤقف نہایت سخت اور دوٹوک تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام کو درپیش معاشی مشکلات کی کوئی اہمیت نہیں،اصل مقصد صرف یہ ہے کہ ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔اس وقت ان کی ترجیح صرف طاقت کا استعمال اور فیصلہ کن نتائج حاصل کرنا تھی۔ لیکن چند ہی ہفتوں بعد، جی-سیون اجلاس میں ان کا لہجہ یکسر مختلف دکھائی دیا۔اب وہ عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں، مالیاتی منڈیوں کے اضطراب اور ایک ممکنہ عالمی کساد بازاری کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے مذاکرات اور مفاہمت کی ضرورت پر زور دے رہے تھے۔یوں معاشی حقائق، جنہیں ابتداء میں نظرانداز کیا گیا تھا، رفتہ رفتہ امریکی پالیسی کا بنیادی عنصر بن گئے۔
اسی طرح ایران میں نظامِ حکومت کی تبدیلی بھی ابتدائی اہداف میں شامل تھی۔ صدر ٹرمپ نے ایک ویڈیو پیغام میں ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں کیونکہ شاید انہیں آئندہ کئی نسلوں تک ایسا موقع نہ ملے۔ لیکن بعد کے بیانات میں یہی مطالبہ خاموشی سے پس منظر میں چلا گیا۔ اس کی جگہ ایران کے ساتھ معمول کے تعلقات، مذاکرات اور موجودہ قیادت سے تعاون کی بات ہونے لگی، حتیٰ کہ بعض مواقع پر انہی رہنماؤں کو نسبتاً ”معقول“ بھی قرار دیا گیا جنہیں پہلے سخت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
ایران کے میزائل پروگرام کے بارے میں بھی امریکی مؤقف میں نمایاں نرمی آئی۔ ابتدا میں اعلان کیا گیا کہ ایران کے میزائل، انہیں بنانے والی صنعتیں اور ان کی پشت پر موجود بحری طاقت کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا لیکن بعد میں کہا جانے لگا کہ چونکہ دنیا کے دوسرے ممالک بھی میزائل رکھتے ہیں،اس لیے ایران بھی محدود دفاعی صلاحیت برقرار رکھ سکتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جون میں ہونے والے معاہدے میں میزائل پروگرام کے مکمل خاتمے کی کوئی شرط شامل نہ کی گئی۔
جوہری پروگرام کے معاملے میں بھی یہی صورتحال سامنے آئی۔ پہلے دعویٰ کیا گیا کہ ایران کی یورینیم افزودگی کی تمام صلاحیت ختم کر دی جائے گی تاکہ جوہری خطرہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔ بعدازاں اس مقصد کو محدود کرتے ہوئے صرف اس امر پر زور دیا گیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ مکمل انہدام کے بجائے نگرانی، معائنوں اور مستقبل کے مذاکرات کو زیادہ مؤثر راستہ قرار دیا جانے لگا۔
اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم، جسے ابتدا میں ناقابلِ گفت و شنید مسئلہ قرار دیا گیا تھا، بعد میں آئندہ مذاکرات کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ اسی طرح اقتصادی پابندیوں کی جگہ بھی رفتہ رفتہ مراعات نے لینا شروع کر دی۔ منجمد اثاثوں کی بحالی، ایرانی تیل کی محدود فروخت کی اجازت، تعمیرِ نو کے لیے مالی معاونت اور مستقبل میں مزید رعایتوں کے امکانات زیر بحث آنے لگے۔ یوں دباؤ کی سیاست بتدریج ترغیب کی حکمتِ عملی میں تبدیل ہوتی گئی۔
خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی وقت کے ساتھ اپنی شدت کھو بیٹھا۔اس کی جگہ جنگ بندی، کشیدگی میں کمی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور مشرقِ وسطیٰ میں وسیع تر امن کے امکانات زیادہ اہم قرار پانے لگے۔
یہ تبدیلیاں صرف پالیسی تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی اقدامات میں بھی بار بار اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ کئی مرتبہ بڑے فوجی حملوں کا اعلان ہوا، مگر چند گھنٹوں یا چند دنوں بعد انہیں مؤخر یا منسوخ کر دیا گیا۔ سات اپریل کو حملوں کی دھمکی کے باوجود دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پا گئی۔ اکیس اپریل کو اسے غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا گیا، اگرچہ بعد میں دوبارہ جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
اٹھارہ مئی کو ایک بڑے حملے کو مذاکرات کا موقع دینے کے لیے مؤخر کیا گیا، لیکن جب بات چیت تعطل کا شکار ہوئی تو کارروائیاں پھر سے شروع ہو گئیں۔ گیارہ جون کو صدر ٹرمپ نے ایران پر شدید حملے اور اس کے تیل و گیس کے ذخائر پر قبضے کی دھمکی دی، مگر چند گھنٹوں بعد ایک سفارتی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کارروائی منسوخ کر دی گئی۔ یہی پیشرفت بعد میں سترہ جون کو مفاہمتی یادداشت کی صورت اختیار کر گئی، جس میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی عارضی بحالی، محدود اقتصادی رعایتیں اور ساٹھ روزہ مذاکرات کا خاکہ شامل تھا، تاہم یہ شرط بھی رکھی گئی کہ اگر معاہدے پر عمل نہ ہوا تو فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں۔
جولائی میں بحری جہازوں پر حملوں کے بعد ایک مرتبہ پھر جنگ بندی ختم قرار دی گئی۔ متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ ہوئی اور سخت بیانات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس کے باوجود سفارتی رابطے منقطع نہ ہوئے۔ ستائیس جولائی کو شدید فضائی حملوں کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کا موقع دینے کے لیے روک دیا گیا، جبکہ اگست کے آغاز میں بھی نئی دھمکیوں کے باوجود ممکنہ سیاسی فریم ورک پر غور جاری رہا۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ابتدا کے زیادہ سے زیادہ اہداف—نظام کی تبدیلی، میزائل پروگرام کی مکمل تباہی،جوہری خطرے کا خاتمہ اور خطے میں ایرانی اثرورسوخ کا مکمل خاتمہ—رفتہ رفتہ محدود، قابلِ عمل اور قابلِ مذاکرات مقاصد میں ڈھلتے گئے۔ اس تبدیلی کے پس منظر میں کئی عوامل کارفرما دکھائی دیتے ہیں، جن میں جنگی اخراجات،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ،امریکی داخلی سیاست، اسلحے کی محدود دستیابی، ایران کی مزاحمت اور عالمی سفارتی دباؤ شامل ہیں۔
اس پورے منظرنامے سے ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت ضرور فیصلہ کن عنصر ہوتی ہے، مگر طاقت بھی زمینی حقائق، معاشی دباؤ، سفارتی تقاضوں اور عوامی رائے سے مکمل طور پر آزاد نہیں رہ سکتی۔ بڑے سے بڑا رہنما بھی وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنی حکمتِ عملی پر نظرِثانی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے اگست 2026ء تک کا عرصہ شاید یہی عالمی سیاست کا اٹل اصول ہے کہ میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیاں بھی آخرکار مذاکرات کی میز ہی پر اپنا حتمی مفہوم پاتی ہیں۔

اس مضمون کے مصنفین

محمد محسن اقبال

محمد محسن اقبال

محمد محسن اقبال کے بارے میں مزید سوانحی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ ان کا نام یہاں صوتی نقل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے تاکہ پروفائل مکمل ہو سکے۔

پروفائل دیکھیں

متعلقہ

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔