کشیدگی کے خاتمہ کے لیئے ایران اور امریکہ کے پاکستان سے از سرِ نو روابط

کشیدگی کے خاتمہ کے لیئے ایران اور امریکہ کے پاکستان سے از سرِ نو روابط

اسلام آباد میں گذشتہ روز پاکستان، ایران مشترکہ تجارتی کمیٹی کے دسویں اجلاس کا انعقاد ہوا جس میں دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ ہدف کے حصول کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خاں اور ایران کے وزیر صنعت و تجارت ڈاکٹر محمد اتابک نے مشترکہ طور پر کی اجلاس کے بعد دونوں وزراء میں دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کے لئے الگ سے ملاقات بھی ہوئی۔ ایرانی وزیر تجارت نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ حالیہ تنازعہ میں ایران کی حمایت کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایران پاکستان کی تعمیری سفارتی کوششوں اور مخلصانہ کاوشوں کا بھی یکساں طور پر معترف ہے جن کا مقصد مذاکرات اور ثالثی کے ذریعے تنازعہ کے خاتمہ میں مدد فراہم کرنا تھا۔ دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ایران کے فوجی دستوں کے ساتھ مکمل رابطہ ہے، وہ استعفیٰ نہیں دیں گے اور ڈٹے رہیں گے، ان کی فوج کے ساتھ مکمل ہم آہنگی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی حدود اور خود مختاری کا دفاع کرتا ہے لیکن ہم جنگ کو وسعت دینے کے خواہاں نہیں۔ دریں اثناء ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی کے لئے عمان کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچ جانا کافی نہیں، ایران آبنائے ہرمز میں کسی دوسرے راستہ کی اجازت نہیں دے گا۔ ہرمز امریکہ کی شرائط پر دوبارہ نہیں کھلے گی۔ دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا ہے کہ آببائے ہرمز سے متعلق معاہدہ آج یا کل طے پانے کا امکان ہے جس کے لئے ایران سے بات چیت جاری ہے اور آبنائے ہرمز کھولنے پر اتفاق ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول ہرمز مکمل طور پر کھلنے سے عالمی توانائی منڈی کو فائدہ پہنچے گا اور تیل گیس سمیت توانائی کی قیمتوں میں مزید کمی آسکتی ہے۔ علاوہ ازیں حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ میں اہران کامیاب رہا ہےاور وہ ایک بااثر عالمی طاقت بن کر سامنے آیا ہے۔ ادھر ایران نے کہا ہے کہ امریکہ سے مذاکرات نہیں کر رہے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایرانی بیان کا یہ مطلب نہیں کہ سفارتکاری نہیں ہو رہی۔ عرب میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے پاکستانی حکام اور دیگر ثالثوں سے رابطے ہوئے ہیں۔ ایران عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کھولنے کے میکنزم پر بات کر رہا ہے دوسری جانب روسی میڈیا نے کویت میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملے ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ عرب ٹی وی کے بقول آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ترجمان قطری وزارت خارجہ ماجدالانصاری کے مطابق تمام فریقین کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے بات چیت جاری ہے اور مثبت پیش رفت کا امکان ہے۔ یہ امر واقع ہے کہ ایران امریکہ کشیدگی نے پورے خطے کو شدید اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ عالمی میڈیا کے بقول ہرمز کے حوالے سے آج یا کل کسی اہم پیش رفت کا امکان ہے جس کے باعث عالمی برادری کی نظریں اس خطے پر مرکوز ہیں۔
بے شک ایرانی قیادت کی جانب سے پاکستان کی ثالثی اور حمایت پر اظہارِ تشکر اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان کو مسلم دنیا میں ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس وقت ایران داخلی سطح پر استحکام کا تاثر دینا چاہتا ہے تاکہ مذاکرات کے عمل میں مضبوط پوزیشن اختیار کر سکے۔ تاہم محض عسکری طاقت کسی بھی بحران کا دیرپا حل فراہم نہیں کر سکتی۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی شہ رگ تصور کی جاتی ہے۔ دنیا کے تیل کی بڑی مقدار اسی بحری راستے سے گزرتی ہے چنانچہ اس راستے میں معمولی سی رکاوٹ بھی عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی کیفیت، شپنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور عالمی منڈیوں میں بے چینی نے ترقی پذیر ممالک کو شدید متاثر کیا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی مہنگائی اور اقتصادی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، ایسی کشیدگی سے دہرا نقصان اٹھاتے ہیں کیونکہ ایندھن مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، بجلی، صنعت اور اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے جس کا براہِ راست بوجھ عام آدمی پر پڑتا ہے۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی صرف دو ممالک کا معاملہ نہیں رہا بلکہ اس نے پوری دنیا میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے۔ سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال سے پریشان ہیں، عالمی تجارت متاثر ہو رہی ہے جبکہ انسانی امداد کے کئی منصوبے بھی سست روی کا شکار ہیں۔ جنگی ماحول میں سب سے زیادہ نقصان ہمیشہ عام آدمی کا ہوتا ہے۔ بے گناہ شہری جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، لاکھوں افراد بے گھر ہوجاتے ہیں اور آنے والی نسلیں بھی اس کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتیں۔
دنیا میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں برسوں کی جنگ نے ترقی کے سفر کو روک دیا اور انسانی المیوں کو جنم دیا۔ اگر امریکہ اور ایران بھی اسی راستے پر چلتے رہے تو اس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ ایٹمی صلاحیتوں، جدید ہتھیاروں اور حساس جغرافیائی محلِ وقوع کے باعث اس تنازعہ کے اثرات کہیں زیادہ وسعت اختیار کر سکتے ہیں۔
اس صورت حال میں پاکستان کا کردار خصوصی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ برادر اسلامی ممالک کے مابین مفاہمت، تحمل اور مذاکرات کی حمایت کی ہے۔ اسلام آباد نے ماضی میں بھی مختلف تنازعات میں مثبت سفارتی کردار ادا کیا اور آج بھی اسی پالیسی پر گامزن ہے۔ اگر ایران پاکستان کی کوششوں کی تحسین کر رہا ہے تو یہ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی اور سفارتی ساکھ کا اعتراف ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام متعلقہ فریق پاکستان سمیت دیگر خیرخواہ ممالک کی مخلصانہ کوششوں کو سنجیدگی سے لیں اور مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔
اس تناظر میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو محض ایک سفارتی دستاویز کے بجائے عملی امن کا ذریعہ بنایا جانا چاہیے۔ اگر اس پر صدقِ دل سے عمل درآمد کیا جائے، اعتماد سازی کے اقدامات اٹھائے جائیں اور تمام فریق اپنے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر آمادہ ہوں تو نہ صرف آبنائے ہرمز میں معمول کی صورتحال بحال ہو سکتی ہے بلکہ پورے خطے میں امن و استحکام کی نئی راہیں بھی کھل سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں عالمی معیشت کو سہارا ملے گا، توانائی کی منڈیاں مستحکم ہوں گی اور ترقی پذیر ممالک کو بھی معاشی دباؤ سے کچھ نجات مل سکے گی۔
بلا شبہ یہ آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے کہ امریکہ اور ایران طاقت کے اظہار اور عسکری محاذ آرائی کے بجائے انسانی بقا، علاقائی استحکام اور عالمی امن کو ترجیح دیں۔ یقینناً جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں جبکہ مذاکرات باہمی اعتماد، ترقی اور پائیدار امن کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ اس تناظر میں فریقین کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیئے کہ دنیا مزید تباہی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اندریں حالات وقت کا یہی تقاضا ہے کہ تمام فریق دانشمندی، تحمل اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں تاکہ دنیا میں خوف و اضطراب کا خاتمہ ہو اور آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، مستحکم اور پرامن دنیا میسر آ سکے۔

اس مضمون کے مصنفین

اداریہ

اداریہ

یہ تحریر اداریے کے طور پر شائع ہوئی ہے۔ اس کے کسی انفرادی مصنف کے بارے میں مزید معلومات درج نہیں۔

پروفائل دیکھیں

متعلقہ

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔