مرکزی مواد پر جائیں
خبریں

کوئی بھی آزاد اور ذمہ دار حکومت خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز میں تجاوزکارانہ اور امن سوز اقدامات کی شراکت داری کے لیے امریکہ کے دباؤ اور دھمکیوں کے آگے تسلیم نہیں ہوگی

وزارتِ امورِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایکس (ٹویٹر) پر کوریائی زبان میں اپنے ایک پیغام میں لکھا: “ایران اور جنوبی کوریا کے تعلقات 64 سال سے زائد کی تاریخ رکھتے…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

وزارتِ امورِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایکس (ٹویٹر) پر کوریائی زبان میں اپنے ایک پیغام میں لکھا:

“ایران اور جنوبی کوریا کے تعلقات 64 سال سے زائد کی تاریخ رکھتے ہیں اور ہمیشہ باہمی احترام پر مبنی رہے ہیں۔ ایران، جنوبی کوریا کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ اس کے باوجود، یہ بات بالکل واضح ہے کہ موجودہ حالات میں—جہاں ایرانی قوم اپنے دفاع میں امریکی تجاوزات کے خلاف کھڑی ہے اور عورتوں اور بچوں کے خلاف امریکی جنگی جرائم کا دندان شکن جواب دے رہی ہے—خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز میں کسی بھی دوسرے فریق کی آپریشنل شراکت یا فوجی موجودگی کو متجاوز فریق کی براہِ راست حمایت تصور کیا جائے گا، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

کوئی بھی صاحبِ حاکمیت اور ذمہ دار ملک، عظیم ایرانی قوم کے خلاف تجاوزکارانہ اقدامات اور شنیع جرائم میں شراکت دار بننے کے لیے امریکہ کے دباؤ اور بلیک میلنگ کے آگے تسلیم نہیں ہوتا۔”

اس مضمون کے مصنفین

متعلقہ

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔