سید محمد خاتمی:

میں ایک باوقار (شرافت مندانہ) امن کا حامی ہوں

 امن نہ تو خیانت ہے اور نہ ہی امام حسین علیہ السلام کے مسلک و روش کے خلاف ہے۔

 اکثریت عوام دشمنی اور تنازع کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔

نظامِ حکومت (ریاست) ہوشیار رہے کہ موقع ہاتھ سے نہ نکل جائے اور یہ موقع کسی خطرے میں تبدیل نہ ہو جائے۔

 مفاہمت کے مخالفین اور اسرائیل ایک ہی راستے پر ہیں۔ بنیاد بحران سے نکلنے پر ہونی چاہیے؛ اسرائیل آسانی سے ہمیں پائیدار امن تک پہنچنے نہیں دے گا۔

 مصلحت اسی میں ہے کہ جنگ کے منحوس سائے کو دور کیا جائے۔

 میں صدرِ مملکت اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل (شورای عالی امنیت ملی) کے اس عظیم کام کو سراہتا ہوں اور معاہدے کی ہمہ جہت حمایت، اس کے تقاضوں اور وعدوں کو آگے بڑھانے، اور مذاکرات و مذاکرات کاروں کی پشت پناہی کی ضرورت پر زور دیتا ہوں۔

 میں تمام شخصیات، دانشوروں، دھڑوں، سول و سیاسی اداروں، میڈیا اور تشہیری اداروں سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ وہ میدان میں آئیں اور اس معاہدے کو آگے بڑھانے میں مدد کریں۔

اس مضمون کے مصنفین

متعلقہ

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔