عراقچی نے اپنے آرمینیائی ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: “کسی بھی فیصلے میں ممالک کی قومی خودمختاری کا مکمل احترام ہونا چاہیے”

عراقچی نے اپنے آرمینیائی ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: “کسی بھی فیصلے میں ممالک کی قومی خودمختاری کا مکمل احترام ہونا چاہیے”

آرمینیا کے وزیر خارجہ آرارات میرزویان نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی اور انہیں تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا، جس میں آذربائیجان کے ساتھ امن معاہدہ، علاقائی نقل و حمل کے راستوں کی رکاوٹیں ختم کرنے، رابطوں کو فروغ دینے اور ان معاہدوں پر عمل درآمد کے اگلے اقدامات شامل ہیں۔

آرمینیائی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ آرمینیا ایران کا ایک دوست اور پڑوسی ملک ہے اور انہوں نے واضح کیا کہ یریوان نے تہران کے ساتھ دوستانہ، اچھے ہمسائیگی پر مبنی اور باہمی مفاد پر مشتمل تعلقات کو ترجیح دی ہے اور ان تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان امن قائم ہونے کا خیرمقدم کیا اور مواصلاتی راستوں اور نیٹ ورکس کی رکاوٹیں ختم کرنے کے حوالے سے ایران کے تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے زور دیا کہ اس راستے کی وجہ سے علاقے کی جغرافیائی سیاست میں کوئی تبدیلی نہیں آنی چاہیے یا ایران کا دیگر مواصلاتی راستوں تک رسائی منقطع نہیں ہونی چاہیے۔ عراقچی نے مزید کہا کہ کسی بھی فیصلے اور اقدام میں ممالک کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام ہونا چاہیے۔

اس مضمون کے مصنفین

ادارۂ فکر اقبال کی ادارتی ٹیم

ادارۂ فکر اقبال کی ادارتی ٹیم

ادارۂ فکر اقبال کی ادارتی ٹیم سفارت کاروں، سیاست دانوں، ادیبوں، محققین، اساتذہ اور ایران و پاکستان کی معتبر جامعات کے طلبہ پر مشتمل ہے؛ فکر میں ہم آواز اور نگاہ میں متنوع

پروفائل دیکھیں

متعلقہ

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔