مصنوعی ذہانت کا تجزیہ
ایران کے خلاف امریکی جنگ قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یہ تنازع پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل گیا ہے، جہاں کم از کم پانچ دیگر ممالک میں حملے اور جوابی حملے ہو چکے ہیں۔ ایران کی حکومت گرانے کے مقصد سے شروع کی گئی ایک مختصر جنگ کے بجائے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسی علاقائی جنگ شروع کر دی ہے جو توانائی کی فراہمی اور قیمتوں کو شدید متاثر کر سکتی ہے اور عالمی کساد بازاری کا سبب بن سکتی ہے۔چند دنوں کے نسبتاً سکون کے بعد تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا۔ پینٹاگون نے ایران کے خلاف تقریباً ہر رات حملے کیے، جبکہ تہران نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر جواب دیا۔ یہ تنازع سعودی عرب، عراق، یمن، اردن اور مصر تک پھیل گیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات بھی زیادہ پیش رفت کرتے نظر نہیں آ رہے۔ سب سے خطرناک کشیدگی بدھ کے روز سامنے آئی، جب سعودی عرب نے اعلان کیا کہ اس نے امریکہ کے ساتھ مل کر عراق کے اندر ایرانی حمایت یافتہ پاپولر موبلائزیشن فورسز کے خلاف فضائی حملے کیے، جن میں کم از کم 20 جنگجو مارے گئے۔ پی ایم ایف زیادہ تر شیعہ مسلم ملیشیاؤں کا ایک نیٹ ورک ہے، جو 2014 میں تہران کی حمایت سے اس وقت قائم کیا گیا تھا جب شدت پسند تنظیم داعش نے عراق کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور سعودی فوجوں نے عراق کی حکومت کے ساتھ رابطے کے بعد یہ حملے کیے، لیکن عراقی رہنماؤں نے فوری طور پر اس کی تردید کر دی۔ اس تردید سے ظاہر ہوا کہ خطے کے بہت سے ممالک ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی جنگ کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ ان حملوں نے عراق کے اندر پہلے سے نازک طاقت کے توازن کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔2003 میں امریکہ کے عراق پر حملے کے بعد واشنگٹن نے صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ کیا، جو تہران کی مخالف اور سنی اکثریتی حکومت تھی۔ اس کے بعد امریکہ نے عراق میں پہلی مرتبہ ایک شیعہ قیادت والی حکومت قائم کرنے میں مدد دی، جس سے ایران کو اپنے پڑوسی ملک میں اثر و رسوخ بڑھانے اور طاقتور شیعہ ملیشیاؤں کو منظم کرنے کا موقع ملا۔ ایران کی ان کوششوں کی نگرانی بڑی حد تک قاسم سلیمانی کرتے تھے، جو ایران کی پاسداران انقلاب کی بیرونی کارروائیوں کے شعبے کے سربراہ تھے۔ جنوری 2020 میں بغداد میں ایک امریکی ڈرون حملے میں سلیمانی کو ٹرمپ کے حکم پر شہید کر دیا گیا۔ اس حملے نے موجودہ جنگ کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کیا اور امریکہ اور عراق کی پی ایم ایف اتحادی تنظیم کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھایا، کیونکہ پی ایم ایف کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس بھی اس حملے میں سلیمانی کے ساتھ مارے گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب ایک بڑے فوجی آپریشن کی تیاری کر رہا ہے جس کا ہدف حوثی ملیشیا ہو سکتی ہے، جو ایران کی ایک اور اتحادی تنظیم ہے اور یمن کے بڑے علاقوں پر قابض ہے۔ جب ٹرمپ نے فروری کے آخر میں ایران کے خلاف جنگ شروع کی تو ایران نے مؤثر طور پر آبنائے ہرمز بند کر دی، جہاں سے روزانہ دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور مائع گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔ اس کے نتیجے میں خاص طور پر سعودی عرب جیسے تیل پیدا کرنے والے ممالک نے اپنی برآمدات بحیرہ احمر کے راستے منتقل کرنا شروع کر دیں۔لیکن حوثی بحیرہ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے 2023 میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد کیا تھا، جب یمنی ملیشیا نے باب المندب آبنائے کے قریب بحری جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کیے تھے۔ اس سے بیمہ کی لاگت بہت بڑھ گئی تھی اور یورپ سمیت کئی علاقوں میں اشیا کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ اس کے بعد حوثیوں نے بحیرہ احمر میں کئی جہازوں پر حملے کیے، جس کے باعث سعودی عرب کو اپنی تقریباً نصف تیل برآمدات کو افریقہ کے جنوبی سرے کے گرد ایک طویل اور مہنگے راستے سے بھیجنا پڑا۔ 25 جولائی کو حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب کے اندر میزائلوں اور ڈرونز سے اہم تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے بحیرہ احمر کے سعودی برآمدی مرکز ینبع کو نقصان پہنچا۔ سعودی عرب نے یمن میں حوثی اہداف پر فضائی حملوں کے ذریعے جواب دیا۔ خلیج فارس کے دیگر ممالک کی طرح سعودی معیشت بھی جنگ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش اور خلیجی توانائی تنصیبات پر حملوں کے باعث۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی میں سعودی عرب کی مجموعی قومی پیداوار گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 5 فیصد کم ہوئی۔ سعودی رہنما تازہ حوثی کشیدگی کا ذمہ دار ایران کو قرار دے رہے ہیں اور انہوں نے بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ایک بین الاقوامی بحری اتحاد قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جمعرات کو سعودی وزارت دفاع نے بتایا کہ اب تک 14 ممالک، جن میں ترکی، پاکستان، مصر اور سوڈان شامل ہیں، اس اتحاد میں شامل ہونے پر رضامند ہو چکے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ سعودی قیادت میں بننے والی یہ نئی کوشش یورپی یونین کے موجودہ بحری تحفظ مشن آپریشن ایسپیڈز سے کس طرح مختلف ہوگی، جو بحیرہ احمر میں جہازوں کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے۔اگرچہ سعودی ولی عہد اور عملی حکمران محمد بن سلمان نے ایران کے ساتھ براہ راست تصادم سے بچنے کی کوشش کی ہے، لیکن حوثیوں کے ساتھ ان کی تازہ کشیدگی سعودی عرب کی حالیہ تاریخ کے ایک تکلیف دہ باب کو دوبارہ کھول سکتی ہے۔ آج سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان نازک جنگ بندی ختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے ۔ اور یہ ٹرمپ کی ایران کے خلاف تباہ کن جنگ کا ایک اور نقصان بن سکتی ہے۔
اس مضمون کے مصنفین