یہودی سازش کی تکمیل تک

یہودی سازش کی تکمیل تک

ایران اس وقت اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے۔ انقلاب ایران کو 47سال ہو چکے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل اسے ناکام بنانے پر تلے رہے ہیں۔ خمینی انقلاب سے پہلے ایران خطے میں سی آئی اے کا مرکز ہوتا تھا یہاں سے خطے کے دیگر ممالک پر نظر رکھی جاتی تھی۔ ایران مغربی تہذیب کا بھی مرکز تھا ایرانی خوبصورت الاصل و نسل ہیں۔ مغربی تہذیب نے انہیں اور بھی خوبصورت بنا ڈالا تھا لیکن خمینی انقلاب کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ انقلابی حکمرانوں نے ایران کو ایک مذہبی ریاست میں تبدیل کر دیا جہاں سپریم آیت اللہ کا حکم چلتا ہے۔ عورتیں مکمل پردہ داری کے ساتھ ہی گھر سے باہر نکل سکتی ہیں۔ ایرانی معاشرے پر مغربی تہذیب کی چھاپ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ مذہبی لوگوں کے احکامات سے سرمو انحراف بھی ممکن نہیں رہا۔ طویل معاشی پابندیوں نے معاملات میں بگاڑ پیدا کیا ہے۔ تیل کی دولت ہونے کے باوجود عالمی اقتصادی پابندیوں نے ایران کی تعمیر و ترقی نہیں ہونے دی۔ ایران غربت و افلاس کا شکار ہے۔ ملاؤں کی سخت گیر پالیسیوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ عوام میں بے اطمینانی پائی جاتی ہے۔ پاسداران انقلاب کے غیر منطقی رویوں نے بھی معاملات میں بگاڑ پیدا کیا ہے۔ پاسداران انقلاب کے سپریم لیڈر کے ساتھ موثر و مضبوط تعلقات نے حکومت کو کٹھ پتلی بنا رکھا ہے۔ ایرانی انقلابی قیادت نے انقلاب کی کامیابی کے فوراً بعد جہاں مرگ بر امریکہ اور مرگ بر اسرائیل کا شیوہ اپنایا وہاں امریکی حلیف مسلمان ممالک کے ساتھ بھی مخاصمت شروع کر دی تھی ان میں سعودی عرب اور پاکستان سرفہرست تھے اس وقت پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت تھی اور پاکستان امریکہ کے ساتھ شیرو شکر تھا۔ سعودی عرب بھی سی آئی اے کی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ ایران نے سعودی عرب کے خلاف بالخصوص محاذ آرائی کو فروغ دیا۔ عرب و عجم کی پرانی کشمکش ایرانی انقلاب کے بعد کھل کر ایک بار پھر سامنے آنے لگی۔ ایرانی حکومت نے شی کے فروغ کے لئے بھی کاوشیں کیں۔ پاکستان میں بالخصوص شیعہ مسلک کو بڑھاوا دیا گیا جس سے پاکستان میں شیعہ سنی آویزش بڑھی۔ فرقہ واریت نے اپنی جڑیں پھیلائیں۔ آگ بھڑکی۔ امریکہ نے ایران کا ہوا دکھا کر عربوں کو ڈرایا۔ دھمکایا اور ان کی دولت پر قبضہ جمایا۔ اب مشرق وسطیٰ کی سیاست ہی تبدیل نہیں ہوئی بلکہ عالمی سیاست کی حرکیات بھی تبدیل ہوچکی ہیں۔ گریٹر اسرائیل کا قیام کھل کھلا کر سامنے آچکا ہے۔ یہودی سازش جس کے بارے میں ہم کبھی پڑھا اور سنا کرتے تھے۔ طشت ازبام ہو چکی ہے۔ اسرائیل عربوں پر غالب آیا چاہتا ہے۔امریکی ریاست اور دیگر یورپی ممالک بربنائے مقتدہ تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر کیلئے اسرائیل کے معاون بنے ہوئے ہیں۔ عیسائی دنیا یسوع مسیح کی آمد ثانی کی منتظر ہے جس کی تیاری کی جا رہی ہے۔ تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر اس کی ایک اہم کڑی ہے۔ یہودی عالمی غلبے کے لئے اپنے مسیحا کے منتظر ہیں لیکن ان کا مسیحا یسوع مسیح نہیں ہے حالانکہ عیسیٰ ابن مریم ہی یہودیوں کے مسیحا تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں یہودیوں کی نجات کیلئے ان کی طرف بھیجا تھا۔ یہودیوں نے ان کی تکذیب کی،تکالیف دیں اور بالآخر انہیں صلیب پر چڑھا دیا ۔ اللہ رب العزت کا قہر یہودیوں پر نازل ہوا۔ انہیں تباہ و برباد کر دیا گیا۔ ہیکل سلیمانی برباد ہو گیا۔ یہودی منتشر کر دیئے گئے اس واقع کو دو ہزار سال سے زائد گزر چکے۔ یہودی اپنا دور عظمت لوٹانا چاہتے ہیں۔ 1948ء میں ریاست اسرائیل کا قیام ایسی ہی سوچ اور کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ یہودی اب ہیکل کی تعمیر میں یکسو ہیں، فلسطینیوں کو تباہ و برباد کیا جا چکا ہے۔ عربوں کی وقعت ختم ہو چکی ہے۔ حالیہ ایران۔ اسرائیل و امریکہ جنگ بھی اس سلسلے کی ایک کڑی نظر آ رہی ہے اس جنگ میں نہ امریکہ کو کوئی نقصان پہنچ رہا ہے اور نہ ہی اسرائیل کو۔ تباہی اگر پھیل رہی ہے تو عالم عرب میں۔ برباد ی عربوں کی ہو رہی ہے اور برباد کرنے والا ایران ہے اسے بڑھاوا امریکہ دے رہا ہے۔ اسرائیل خاموشی سے تماشا دیکھ رہا ہے۔ ایران۔امریکہ کشمکش میں ہر آنے والا دن عربوں کی تباہی کا پیغام لا رہا ہے۔ عربوں کی دولت تیل ہے اور تیل کی تجارت ہی نشانے پر ہے۔ ایران و عرب برباد ہو رہے ہیں۔ اسرائیل توانا ہو رہا ہے۔ اسرائیل بڑی تندہی کے ساتھ گریٹر اسرائیل کے نقشے میں رنگ بھرنے کے لئے عربوں کے ان علاقوں پر قبضہ کرتا چلا جا رہا ہے جو گریٹر اسرائیل کی سرحدوں میں شامل کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل آسانی سے اپنا جغرافیہ، اپنے طے کردہ نقشے کے مطابق بڑھاتا اور پھیلاتا چلا جا رہا ہے اسے روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ غزہ میں اس نے فلسطینیوں کا قتل عام کیا اور ہنوز یہ جاری ہے۔ ساڑھے تین لاکھ سے زائد فلسطینی قتل کئے جا چکے ہیں۔ غزہ تقریباً مکمل طور پر ناقابل رہائش بنا دیا گیا ہے۔ اسرائیلی عزائم کی راہ میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آ رہی، یہودی سازش اپنا آپ دکھا رہی ہے۔ جنگ کی آگ بھڑک رہی ہے عربوں پر تباہی نازل ہو رہی ہے۔ حوثی بھی فعال ہوتے نظرآ رہے ہیں۔ سعودی عرب بھی جنگ میں ملوث ہوتا نظر آ رہا ہے۔ لگتا ہے کہ مشرق وسطی کو مکمل تباہی سے ہمکنار کرنے کی سازش روبہ عمل ہے۔ یہودی سازش اب سازش نہیں بلکہ ایک زمینی حقیقت کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ امریکی سرپرستی میں یہودی سازش تکمیلی مراحل طے کررہی ہے۔ امریکہ میں اس حوالے سے مخالفت بھی پائی جاتی ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ معاملات کو مذہبی شدت کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ جنگ جاری رہے گی۔ آخری فتح تک۔ یہودی سازش کی تکمیل تک۔

اس مضمون کے مصنفین

متعلقہ

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔