نوید مسعود ہاشمی
نوید مسعود ہاشمی کو مصنفین کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ فراہم کردہ متن میں ان کی سوانح، تحریروں یا میدانِ عمل کے بارے میں تفصیلات درج نہیں ہیں۔
پروفائل دیکھیںمکہ دفاعی معاہدے کو ایرانی حکومت کی سطح پر مثبت انداز میں لیا گیا ہے،لیکن ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دستخط ہونے والے مکہ دفاعی معاہدہ پر بعض حلقوں کا ردعمل افسوس ناک ہے،وہ کہتے ہیں کہ حقیقی سکیورٹی بیرونی اتحادوں یا کاغذی معاہدوں سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔ دوسروں سے مانگی ہوئی سکیورٹی اور امریکہ کے سامنے سکیورٹی کے لئے گڑگڑانا انہیں نہیں بچا سکتا، پہلے والوں کے پاس بھی ڈرون تھے، پہلے والوں کے پاس بھی نیوکلیئر ہتھیار تھے،جبکہ ایران کے نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ خلیج کی سلامتی کو بیرونی مداخلت کے بغیر علاقائی ممالک کے ذریعے ہی یقینی بنایا جانا چاہیے، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ متحد ہوں اور خود اپنے آپ پر بھروسہ کریں۔دوسری جانب ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے ۔خطے کے تمام برادر ممالک بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں ،جبکہ سعودی وزارت خارجہ کے انڈر سیکرٹری سفیر ڈاکٹر رائد نے واضح کیاکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی بھی ملک کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ نہیں ہے اور نہ اس کا مقصد کوئی سیاسی یا عسکری گٹھ جوڑبنانا ہے بلکہ اس کا مقصد سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان اجتماعی سکیورٹی اور تزویراتی روک تھام کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ یہ معاہدہ کسی بھی ایٹمی کوششوں یا ہتھیاروں کی دوڑ سے منسلک نہیں ہے اور نہ یہ کسی فرقہ وارانہ محور یا بلاک کو تشکیل دینے کے رجحان کی نمائندگی کرتا ہے ایک ترک عہدیدار نے کہا ہے کہ سہ فریقی مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے جو صرف دفاع کے لئے باہمی حمایت کا عہد کرتا ہے۔ معاہدہ کسی مخصوص فریق کے خلاف نہیں ہے اور دیگر علاقائی ممالک کے لئے بھی کھلا ہے۔’’ہمارے دوست اور کراچی کے بزرگ اور سینئر صحافی ابرار بختیار نے سوال اٹھایا ہے ‘‘کہ اسرائیل، انڈیا کی چیخیں تو سمجھ آتی ہیں، مگر یہ سمجھ نہیں آرہا کہ اس معاہدے سے بعض اپنوں کو کیوں تکلیف ہے؟ حرمین شریفین کی حفاظت، تحفظ، سیکورٹی، دفاع ہر مسلمان کا دینی فریضہ اور لازم ہے، پاکستان اور ترکیہ اگر اس کے دفاع کا بیڑا اٹھا رہے ہیں تو اپنا دینی فریضہ ادا کر رہے ہیں، ایران کو بھی اس اتحاد کا حصہ بننا چاہیے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کی بریفنگ بھی یہی بتاتی ہے کہ وہ اس پروپیگنڈے کی حمائت نہیں کرتے ۔ ’’پیارے ابرار بختیار بھولے بادشاہ ہیں،سچی بات ہے کہ ہم جیسے صحافت کے طالب علم بعض شدت پسند عناصر کے شورو غوغا کی وجوہات بڑے شرح صدر کے ساتھ سمجھ چکے ہیں۔ عبداللہ رمضان زادہ (سابق ترجمان برائے اصلاح پسند حکومت)نے اپنے ایکس ہینڈل پر واضح الفاظ میں لکھا: ’’ایران کو مکہ معاہدے میں اپنی شمولیت (الحاق)کی پیشکش کرنی چاہیے اور اس معاہدے کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اسرائیل کے بغیر ایک علاقائی سیکیورٹی بلاک قائم کرنے کی تجویز دی جائے۔‘‘8اگست 2026 ء کو، ایران کے معروف معاشی و سیاسی اخبار ’’دنیائے اقتصاد‘‘اور’’اقتصاد نیوز‘‘ نے عبداللہ رمضان زادہ کا تفصیلی موقف شائع کیا، جس میں انہوں نے ایران کے لئے تزویراتی فوائد گنوائے، انہوں نے کہا کہ چونکہ ترکیے، سعودی عرب اور پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہے، تو ایران کو اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کرنی چاہیے تاکہ اس اتحاد کا رخ کسی دوسری سمت موڑا جا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کو چاہیے کہ وہ مکہ معاہدے کو اسرائیل کے مقابلے میں ایک مسلم سیکیورٹی بلاک کے طور پر ظاہر کرے، کیونکہ یہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے، اگر یہ واقعی کسی کے خلاف نہیں ہے، تو ہم بھی اس میں شامل ہو کر اس کا رخ بدل سکتے ہیں، لیکن کچھ طبقات پڑوسیوں کو دشمن سمجھنے کی وجہ سے ایسا نہیں سوچتے۔یہ ایک نادر موقع ہے کہ شعیہ یا سنی بلاکس کے بجائے امریکہ اور اسرائیل کو ایک متحد مسلم بلاک دکھایا جائے، اگر ایسا نہ ہو سکا تو دشمن ہمیں دونوں بلاکس کو ایک دوسرے سے لڑا دے گا۔
رمضان زادہ نے اعتراف کیا کہ بعض حلقے شاید اس سیکورٹی بلاک میں ایران کی شمولیت کی مخالفت کریں، لیکن ایران کو پاکستان اور ترکیے کے ساتھ اپنے اچھے روابط کا استعمال کر کے خطے میں شیعہ سنی تنا کو کم کرنے کے لئے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔اصل سوال یہ نہیں کہ اس معاہدہ کو زبر دستی ایران مخالف کیوں ثابت کرنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے ، جسے خود ایرانی ترجمان نے ہی ناکام بنا دیا ، اصل سوال یہ ہے کہ کیا خطے کے مسلمان ممالک اپنی سلامتی کے معاملات میں ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے باہمی دفاعی تعاون کا راستہ اختیار کیا ہے اور ساتھ ہی یہ واضح بھی کیا ہے کہ یہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سوال کا جواب ہاں میں ہے اور یہ خوش آئند امر ہے ۔ اگر واقعی مقصد خطے میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت کم کرنا اور مسلم ممالک کو اپنے معاملات خود حل کرنے کے قابل بنانا ہے تو ایران کو اس عمل میں شریک ہو کر اسے مثبت سمت دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ ایران کے تاریخی، مذہبی اور جغرافیائی روابط موجود ہیں، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ بھی حالیہ برسوں میں تعلقات میں بہتری کی کوششیں ہوئی ہیں۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ مسلم دنیا مشترکہ مفادات تلاش کرے۔ اختلافات اپنی جگہ، مگر حرمین شریفین، خطے کا امن، فلسطین کا مسئلہ اور بیرونی مداخلت سے نجات ایسے معاملات ہیں جن پر وسیع تر مسلم تعاون کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے، اور ہم سب کے لئے یہی سب سے بہتر اور باوقار راستہ ہے۔
نوید مسعود ہاشمی کو مصنفین کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ فراہم کردہ متن میں ان کی سوانح، تحریروں یا میدانِ عمل کے بارے میں تفصیلات درج نہیں ہیں۔
پروفائل دیکھیں
اے آئی اسسٹنٹ
تیز اور قابل اعتماد جواب