افتخار گیلانی
افتخار گیلانی ۹۲ نیوز کے کالم نگار ہیں۔ فراہم کردہ متن میں ان کی زندگی، تحریروں یا پیشہ ورانہ پس منظر کے بارے میں مزید معلومات درج نہیں ہیں۔
پروفائل دیکھیںمکہ مکرمہ میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا سہ فریقی دفاعی معاہدہ ایک بہترین ظاہری تاثر اور مثبت سفارتی منظرنامہ پیش کرتا ہے ۔ اس معاہدے کو عملی طور پر فعال بنانے کے لیے، اگلا منطقی قدم بنیادی عسکری معاہدوں کے ایک سلسلے کو طے کرنا ہے جو تینوں ممالک کی افواج کو امن اور جنگ کے حالات میں ایک ساتھ موثر انداز میں کام کرنے کو یقینی بنا سکیں۔ یہ مرحلہ ایک ایسا پیچیدہ، تکنیکی اور قانونی عمل ہے جس کی تکمیل میں مہینوں بلکہ برسوں کا وقت لگ سکتا ہے۔جب تک یہ تینوں ممالک ان بنیادی قانونی اور آپریشنل فریم ورکس کو حتمی شکل نہیں دیتے، اس وقت تک مکہ کا یہ مشترکہ دفاعی معاہدہ صرف ایک سیاسی اعلامیے کی حیثیت رکھے گا۔ ماہرینِ دفاع اور عسکری تجزیہ کاروں کا متفقہ ماننا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کو ایک سیاسی اعلان سے ایک عملی فوجی اتحاد میں تبدیل کر نے کیلئے چار بنیادی عسکری معاہدات پر دستخط ہونے ضروری ہیں۔ ان میں پہلا معاہدہ عسکری معلومات کی عام حفاظت کا معاہدہ ہے، جو خفیہ عسکری معلومات اور انٹیلی جنس کے تبادلے کے لیے ایک قانونی ڈھانچہ قائم کرے گا۔ یہ معاہدہ فریقین کو پابند کرے گا کہ وہ دوسرے ملک کی خفیہ معلومات کو جاسوسی، سائبر حملوں اور غیر مجاز افشا سے محفوظ رکھے۔ اس سے انٹیلی جنس کی شراکت داری، مشترکہ منصوبہ بندی اور دفاعی تعاون کے لیے اعتماد بحال ہوتا ہے۔دوسرا معاہدہ لاجسٹکس کے تبادلے کے بار ے میںہے، جو تینوں ممالک کی افواج کو لاجسٹک سپورٹ کے لیے ایک دوسرے کے فوجی اڈوں، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کو استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔ اس میں ایندھن کی بھرائی، خوراک کی فراہمی، پرزہ جات، دیکھ بھال اور مرمت کے امور شامل ہیں۔ یہ معاہدہ طویل فاصلے تک بحری تعیناتیوں، فضائی آپریشنز، انسانی بنیادوں پر مشنز اور فوجی مشقوں کو بے حد آسان اور اسکے بجٹ وغیرہ کو طے کریگا۔ تیسرا جزو مواصلاتی مطابقت اور سکیورٹی کا معاہدہ ہے، جو مشترکہ مشقوں اور آپریشنز کے دوران محفوظ اور انکرپٹڈ فوجی مواصلات کو ممکن بناتا ہے۔ اس سے کمانڈ سینٹرز، طیاروں، جنگی جہازوں اور زمینی افواج کو حقیقی وقت میں معلومات کا تبادلہ کرنے کی سہولت ملتی ہے۔ یہ بحران یا جنگ کے دوران مواصلاتی تاخیر کو کم کرکے آپریشنل صلاحیت کو بہتر بنانے سے متعلق ہے۔ چوتھا معاہدہ بنیادی تبادلہ اور تعاون کا معاہدہ ہے، جو جدید جغرافیائی انٹیلی جنس، ڈیجیٹل نقشوں اور سیٹلائٹ ڈیٹا تک رسائی فراہم کریگا۔ یہ میزائلوں، ڈرونز، طیاروں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والی توپوں کی نشانہ بازی کی درستگی کو بڑھاکر، میدان جنگ کی نگرانی کرکے مشترکہ کمانڈ کو جدید ترین بنائے گا۔ یہ چاروں معاہدے ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کو محفوظ طریقے سے انٹیلی جنس شیئر کرنے، مشترکہ تعیناتیوں کو برقرار رکھنے، بلا تعطل مواصلات قائم کرنے اور درست ترین آپریشنز انجام دینے کے قابل بنائیں گے، جس سے اجتماعی دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اگرچہ یہ ممالک تمام علاقائی امور پر مکمل طور پر ایک پیج پر نہیں ہیں اور ان کی ترجیحات میں فرق ہے، لیکن وہ شام اور عراق میں استحکام، فلسطینی ریاست کے قیام، لیبیا میں سیاسی مفاہمت، سوڈان کے اداروں کی بحالی، صومالیہ کی علاقائی سالمیت اور یمن کی یکجہتی پر یکساں موقف رکھتے ہیں۔ اس اتحاد کو اپنا پہلا بڑا امتحان بحیرہ احمر کی سکیورٹی اور سعودی عرب و حوثی تصادم کے تناظر میں دیکھنا پڑ سکتا ہے۔ حوثیوں کی طرف سے سعودی عرب کے خلاف مکمل کشیدگی کی دھمکیوں کے بعد، اطلاعات ہیں کہ ریاض ایک بڑے بحری اور زمینی آپریشن پر غور کر رہا ہے۔ چونکہ ترکیہ اور پاکستان دونوں ہی ایران یا حوثیوں سے براہ راست تصادم کے خواہاں نہیں ہیں، اس لیے یہ دیکھنا باقی ہے کہ وہ ان کی کس حد تک عملی عسکری امداد کر سکیں گے۔ پاکستان اپریل میں سعودی عرب کے ایک ہوائی اڈے پر جنگی طیاروں کا ایک سکواڈرن اور چین کا تیار کردہ فضائی دفاعی نظام پہلے ہی تعینات کر چکا ہے۔ اب ترکیہ کی ممکنہ عسکری اور بحری پیش رفت اس اتحاد کے دائرہ کار کو باب المندب اور شاخِ افریقہ تک پھیلا سکتی ہے جہاں ترکیہ کا صومالیہ میں سب سے بڑا غیر ملکی عسکری اڈہ موجود ہے۔ یہ اتحاد تین ایسی طاقتوں کو یکجا کرتا ہے جو ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کا کام کرتی ہیں۔ پاکستان اسلامی دنیا کی واحد تسلیم شدہ ایٹمی طاقت ہے جس کے پاس چھ لاکھ ساٹھ ہزار پیشہ ورانہ اور جنگی تجربے سے لیس فوج اور انتہائی جدید میزائل ٹیکنالوجی ہے۔ ترکیہ نیٹو کا رکن ہونے کے ساتھ ساتھ دس ارب ڈالر سے زائد کی برآمدات والی جدید ترین دفاعی صنعت کا مالک ہے، جس کے جنگی ڈرونز، بحری جہاز اور الیکٹرانک سسٹمز دنیا بھر میں مانے جاتے ہیں۔ دوسری طرف سعودی عرب جی20 کا اہم رکن اور دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ ہے، جس کے مالیاتی وسائل اس اتحاد کی معاشی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں دستخط ہونے والا یہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 1955 کے بغداد پیکٹ کی یاد تازہ کرتا ہے، جسے بعد میں مرکزی معاہدہ تنظیم سنٹو کا نام دیا گیا تھا۔ تاہم، کسی بھی تاریخی واقعے کا جائزہ اس کے مخصوص دور کے تناظر میں ہی لیا جانا چاہیے۔ ماضی کا سنٹو دو قطبی عالمی نظام، امریکہ کی طرف سے سوویت یونین کے اثر و رسوخ کو روکنے کی کوششوں اور ایران کے مغرب شاہی نظام کی شراکت داری کا نتیجہ تھا۔اس کے برعکس، مکہ معاہدہ امریکہ کی طرف سے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی ترجیحات کی تبدیلی اور بتدریج واپسی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خالی پن کا نتیجہ ہے۔ امریکی پالیسی سازوں کی ترجیح یہ رہی ہے کہ وہ خطے سے نکلتے وقت ایسا نظام چھوڑیں جو بالخصوص ان کے حلیفوں کی سکیورٹی کو یقینی بنائے۔ تاہم، ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی ناکامی اور امریکہ-اسرائیل عسکری اقدامات کے بعد پیدا ہونے والے بحران نے خطے کے تمام ممالک کو شدید معاشی نقصان پہنچایا اور سکیورٹی خدشات کو تاریخی سطح پر پہنچا دیا۔ ایران کے دارالحکومت تہران میں اس معاہدے کے دستخط ہونے کے بعد سے ہی ملا جلا اور گہرا ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس معاہدے کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ “خطے کے ممالک نے یہ محسوس کر لیا ہے کہ سکیورٹی کوئی ایسی جنس نہیں ہے جسے جھوٹے دلالوں یعنی امریکہ سے خریدا جا سکے”۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران کے پاس اس معاہدے سے پریشان ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ یہ معاہدہ بیرونی طاقتوں کے بجائے خطے کے ممالک کے اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس خطے کو باہر سے آنے والے کھلاڑیوں کی ضرورت نہیں ہے اور خطے کو امریکہ کے ذریعے سکیورٹی حاصل کرنے کے وہم میں نہیں رہنا چاہیے کیونکہ امریکہ خود خطے کی عدم سکیورٹی کا بنیادی سبب ہے۔ تاہم، اس سرکاری موقف کے برعکس، ایرانی سیاسی ایوانوں کے اندر ایک گہری تزویراتی بحث چھڑ چکی ہے۔ ایرانی تجزیہ کار احمد زید آبادی نے سوشل میڈیا پر اپنے تجزیے میں ایک اہم نقطہ اٹھاتے ہوئے لکھا کہ سعودی عرب کی سکیورٹی اب ایران کے دو مغربی اور مشرقی پڑوسیوں ترکیہ اور پاکستان کے لیے ایک سرخ لکیر بن چکی ہے ۔
افتخار گیلانی ۹۲ نیوز کے کالم نگار ہیں۔ فراہم کردہ متن میں ان کی زندگی، تحریروں یا پیشہ ورانہ پس منظر کے بارے میں مزید معلومات درج نہیں ہیں۔
پروفائل دیکھیں
اے آئی اسسٹنٹ
تیز اور قابل اعتماد جواب