مصنوعی ذہانت کا تجزیہ
پہاڑوں میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ جو شکاری صرف عقاب کی پرواز کو دیکھتا ہے، وہ چڑیا کی اڑان سے ہمیشہ دھوکا کھاتا ہے۔ جنگ بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اکثر بڑی سلطنتیں بڑے ہتھیاروں پر ناز کرتی رہیں اور شکست انہیں کسی چھوٹے، نظر انداز کیے گئے وسیلے نے دی۔ کبھی گھوڑے نے رتھ کو شکست دی، کبھی بارود نے تلوار کو، کبھی آہنی جہاز نے لکڑی کے بیڑے کو بے معنی کر دیا۔ اب ایک نئی باری آئی ہے۔ اس بار میدان میں نہ شور مچاتے بمبار ہیں، نہ آسمان چیرتے لڑاکا طیارے۔ اب ایک چھوٹا سا بے آواز پرندہ ہے، جسے انسان نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اور جس کا نام ڈرون رکھا۔جنگ کی زبان میں ہتھیار صرف لوہے کا ٹکڑا نہیں ہوتا، وہ سوچ کا نام بھی ہوتا ہے۔ بعض قومیں دولت سے ہتھیار بناتی ہیں اور بعض ضرورت سے۔ ضرورت کا ہتھیار اکثر دولت کے ہتھیار سے زیادہ دیر تک زندہ رہتا ہے، کیونکہ اسے ضرورت نے تراشا ہوتا ہے، نمائش نے نہیں۔
ایران نے یہی سبق سیکھا۔ اس نے یہ محسوس کیا کہ اگر وہ ہر میدان میں بڑی طاقتوں کا مقابلہ کرنا چاہے گا تو اس کے وسائل جواب دے جائیں گے۔ اس لیے اس نے میدان ہی بدل دیا۔ اس نے آسمان پر قبضہ کرنے کیلئے مہنگے لڑاکا طیارے نہیں خریدے بلکہ ایسے چھوٹے حملہ آور طیارے تیار کیے جو کم قیمت ہوں، آسانی سے بن جائیں اور سینکڑوں کی تعداد میں ایک ساتھ اڑ سکیں۔ شاہد سلسلے کے ڈرون اسی سوچ کی پیداوار ہیں۔ یہ لوٹ کر آنے کیلئے نہیں بنتے، بلکہ اپنے سفر کو ہدف پر ختم کرتے ہیں۔
ایک لمحے کیلئے تصور کیجیے کہ ایک تیر انداز کے پاس صرف دس تیر ہیں اور دوسرے کے پاس ہزار۔ ممکن ہے پہلے کے تیر زیادہ نفیس ہوں، مگر جنگ اکثر اس کے حق میں جاتی ہے جس کے ترکش میں تیر ختم نہ ہوں۔ جدید ڈرون بھی ایسے ہی تیر ہیں۔ ان کی اصل طاقت ان کی قیمت میں نہیں، ان کی تعداد میں ہے۔ایک جدید لڑاکا طیارہ تیار کرنا ایک شہر بسانے کے برابر خرچ مانگتا ہے۔ اس کیلئے برسوں کی تربیت، پیچیدہ دیکھ بھال، محفوظ ہوائی اڈے اور مہنگا ایندھن درکار ہوتا ہے۔ دوسری طرف ایک حملہ آور ڈرون ایک سادہ پرتابی نظام سے اڑ سکتا ہے۔ اس میں کوئی ہوا باز نہیں بیٹھا ہوتا، اس لیے اس کے گرنے سے کسی خاندان کا چراغ نہیں بجھتا۔ یہی سادگی اسے خطرناک بناتی ہے۔جنگ میں صرف یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کون زیادہ تباہی پھیلاتا ہے، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کون دشمن کو زیادہ خرچ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر چند ہزار کی قیمت والا ایک ڈرون روکنے کیلئے لاکھوں کی مالیت کا دفاعی میزائل داغنا پڑے تو حساب کتاب بدل جاتا ہے۔ حملہ آور اپنا ایک سستا ہتھیار کھوتا ہے، مگر مدافع اپنا قیمتی ذخیرہ کم کرتا جاتا ہے۔ جب ایک ساتھ درجنوں یا سینکڑوں ڈرون آسمان پر نمودار ہوں تو دفاعی نظام کی اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔ڈرون کی ٹیکنالوجی بھی اپنی جگہ ایک دلچسپ دنیا ہے۔ اس کا جسم ہلکا ہوتا ہے، انجن چھوٹا، راستہ پہلے سے متعین، اور رہنمائی کا نظام اتنا خودکار کہ اسے ہر لمحہ انسانی ہاتھ کی ضرورت نہیں رہتی۔ روانگی سے پہلے منزل کے نقاط اس کے حافظے میں رکھ دیے جاتے ہیں۔ پھر وہ خاموشی سے اپنے راستے پر چل پڑتا ہے۔ بعض نئے نمونوں میں ایسا داخلی نظام بھی موجود ہوتا ہے جو بیرونی برقی خلل کے باوجود اسے سمت سے بھٹکنے نہیں دیتا۔
ایران نے صرف ڈرون نہیں بنائے، ڈرون بنانے کا ایک پورا ماحول پیدا کیا۔ جامعات، تحقیقی مراکز، چھوٹے کارخانے، مقامی صنعت اور عام استعمال کے پرزے ایک ایسی زنجیر بن گئے جسکی ہر کڑی دوسری سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر ایک کڑی ٹوٹ بھی جائے تو پوری زنجیر نہیں ٹوٹتی۔ یہی وجہ ہے کہ چند کارخانوں کو نقصان پہنچانے سے پورا نظام ختم نہیں ہوتا۔لیکن شاید ایران کی سب سے بڑی کامیابی اس کی سوچ ہے۔ وہ ڈرون کو اکیلا میدان میں نہیں بھیجتا۔ وہ اسے میزائلوں، برقی جنگ اور مختلف سمتوں سے آنے والے حملوں کے ساتھ ملا دیتا ہے۔ پہلے سستے ڈرون بھیج کر دشمن کے راڈار اور دفاعی میزائلوں کو مصروف کیا جاتا ہے، پھر اصل حملہ دوسرے ہتھیار کرتے ہیں۔ یوں جنگ صرف طاقت کی نہیں رہتی، تدبیر کی بھی بن جاتی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ مجموعی فوجی قوت میں اب بھی کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ اس کے پاس جدید فضائیہ، بحری بیڑے، مصنوعی سیارے اور بے شمار وسائل موجود ہیں۔ مگر ہر زمانے کی طرح اس زمانے نے بھی ثابت کیا ہے کہ ہر طاقت کا ایک کمزور پہلو ہوتا ہے۔ ایران نے اسی پہلو کو تلاش کیا اور اپنی محدود طاقت کو وہیں مرکوز کر دیا جہاں کم خرچ میں زیادہ اثر پیدا ہو سکتا تھا۔
مستقبل شاید اور بھی عجیب ہو۔ کل کے ڈرون صرف احکام کے منتظر نہیں ہوں گے، بلکہ ایک دوسرے سے رابطہ بھی کریں گے، معلومات بھی بانٹیں گے، راستے بھی بدلیں گے اور اہداف بھی تقسیم کریں گے۔ ممکن ہے آنے والی جنگوں میں آسمان پر پرندوں سے زیادہ مصنوعی پروازیں دکھائی دیں۔
جنگ آخرکار صرف بارود کی آزمائش نہیں، عقل کی آزمائش بھی ہوتی ہے۔ کبھی کبھی ایک چھوٹا سا پرندہ آسمان کے سب سے بڑے عقاب کو یہ احساس دلا دیتا ہے کہ بلندی ہمیشہ طاقت سے نہیں، حکمت سے حاصل ہوتی ہے۔ ایران کی ڈرون حکمتِ عملی اسی حقیقت کی ایک مثال ہے کہ جدید دنیا میں فتح ہمیشہ سب سے مہنگے ہتھیار کو نہیں ملتی، بلکہ اس سوچ کو ملتی ہے جو اپنے وسائل، وقت اور حالات کو سب سے بہتر انداز میں سمجھ لے۔
اس مضمون کے مصنفین