مرکزی مواد پر جائیں

امریکا کی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملے کی تیاری

عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف توانائی کی تنصیبات اور جوہری و عسکری اہداف پر ممکنہ حملوں کی تیاریاں جاری ہیں، جس…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

ایران پر حملے کی تیاری

امریکی اخبار ’دی نیو یارک ٹائمز‘ اور دیگر عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق امریکا اور ناجائز صہیونی ریاست کی افواج ایران کے خلاف نئی کارروائی کے منصوبے تیار کیے بیٹھی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ممکنہ اہداف میں توانائی کا ڈھانچا، جوہری تنصیبات اور میزائل و ڈرون کے ذخائر شامل ہو سکتے ہیں اور یہ کہ کارروائی مختصر مگر شدید ہو گی۔ یہ خبریں ایسے وقت آ رہی ہیں جب خطہ پہلے ہی رواں برس فروری کے آخر میں امریکا اور ناجائز صہیونی ریاست کی طرف سے ایران پر مسلط کی جانے والی جنگ کے زخم چاٹ رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ طاقت کے کھلاڑیوں کے پاس کتنے منصوبے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان منصوبوں کی قیمت کون ادا کرے گا اور کیا اس قیمت کے بدلے کچھ ایسا بھی حاصل ہو گا جو مذاکرات کی میز پر نہیں مل سکتا؟
رپورٹوں کے مطابق، یہ تیاریاں محض کاغذی نہیں ہیں بلکہ دونوں ممالک کی افواج نے مشقیں بڑھا دی ہیں جن میں عراق کی فضائی حدود میں پروازیں بھی شامل ہیں تاکہ حملوں کے طریقۂ کار کی مشق کی جا سکے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اکتوبر کے وسط میں ناجائز صہیونی ریاست کا ایران پر کئی روزہ بمباری کا منصوبہ تھا مگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات سے پہلے نیا محاذ کھولنے سے گریز کیا۔ یہ بات بہت زیادہ تشویش کا باعث اس لیے ہونی چاہیے کیونکہ اس کی وجہ سے کروڑوں انسانوں کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔
خلیج کے ممالک اس صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کا یہ کہنا کہ اشتعال انگیزی جاری رہی تو امریکا کے علاقائی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا، دراصل ان تمام میزبان ملکوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے جہاں یہ اڈے موجود ہیں۔ ادھر، کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد امریکی سفارتخانے کو تمام قونصلر خدمات معطل اور شہریوں کو چوکس رہنے کی ہدایت کرنا پڑی۔ یہ معمولی انتظامی خبر نہیں۔ جب ایک ہوائی اڈا، جو عام مسافروں، تاجروں اور مزدوروں کی گزرگاہ ہے، حملے کی زد میں آ جائے اور سفارتخانے دروازے بند کرنے لگیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ جنگ کی آنچ عام شہری کی دہلیز تک پہنچ چکی ہے۔
اسی دوران امریکی سفیر اور شام و عراق کے لیے صدارتی ایلچی ٹام بیرک کا بیان خطے کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔ دوحہ میں گلوبل سکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امریکا اب تیل کے بدلے خطے کو تحفظ دینے کا کردار مزید ادا نہیں کر سکتا اور خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کی ذمہ داری خود سنبھالنی چاہیے۔ ان کے بقول، یہ اقدام خطے کو چھوڑ دینا نہیں بلکہ حکمتِ عملی کی ازسرِ نو ترتیب ہے۔ کوئی اس بیان سے اتفاق کرے یا اختلاف مگر یہ واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے کہ خطے کے ملکوں کے پاس اپنے مسائل بات چیت سے حل کرنے کے سوا اب کوئی پائیدار راستہ نہیں بچا۔ اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ دوسروں کی ضمانت پر قائم امن ہمیشہ ناپائیدار ہوتا ہے۔
دوسری طرف، اس حوالے سے ایران کا موقف بھی سامنے ہے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق، امریکا کو آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات کے لیے ایران کی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ انھیں امریکا سے بات چیت میں پیش رفت کی زیادہ امید نہیں۔ یہ بیان ایران کے امریکا کے رویے سے بیزاری کا اظہار تو ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ دروازہ ابھی مکمل بند نہیں ہوا۔ شرائط کا ذکر ہی اس بات کا اعتراف ہے کہ مذاکرات کی امید زندہ ہے۔ سفارت کاری کا فن یہی ہے کہ سخت بیانات کے پیچھے چھپے ہوئے مشترکہ مفادات تلاش کیے جائیں۔ ہر فریق عوامی سطح پر سخت زبان بولتا ہے لیکن خاموش رابطے وہاں بھی راستہ نکال لیتے ہیں جہاں اعلانات سب راہیں مسدود کر چکے ہوں۔
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ فوجی طاقت سے مسائل ’ختم‘ کر دینے کے دعوے اکثر کھوکھلے ثابت ہوتے ہیں۔ جنگ کی بحث میں ایک اور چیز اکثر نظرانداز ہو جاتی ہے اور وہ ہے اعداد و شمار کے پیچھے چھپا ہوا انسان۔ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کا مطلب صرف تنصیبات کی تباہی نہیں۔ اس کا مطلب اسپتالوں میں بجلی کا بند ہونا ہے، پانی صاف کرنے والے نظام کا رک جانا ہے، کارخانوں کا بند ہو جانا ہے اور ان لاکھوں خاندانوں کا بے سہارا ہو جانا ہے۔ بین الاقوامی قانون شہری بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کا تقاضا کرتا ہے اور یہ تقاضا محض قانونی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہے۔ کوئی بھی سیاسی ہدف لاکھوں معصوم جانوں کے ضیاع کا جواز نہیں بن سکتا۔
اس صورتحال میں پاکستان کا کردار بھی بہت اہمیت کا حامل ہے اور وہ سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں بھی شامل ہے۔ ہم ایران کے ہمسایے ہیں، ہمارے اس سے کئی طرح کے تعلقات ہیں اور ہماری معیشت، تجارت اور داخلی استحکام خطے کی صورتحال سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔ پناہ گزینوں کی ممکنہ آمد، سرحدی سلامتی، توانائی کی ترسیل اور بیرونِ ملک مقیم لاکھوں پاکستانی محنت کشوں کا روزگار، سب اس بحران سے جڑے ہیں۔ خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر ہماری معیشت کا اہم ستون ہیں۔ اگر وہاں جنگ پھیلتی ہے تو اس کا اثر محض سفارتی نہیں رہے گا بلکہ گھر گھر پہنچے گا۔ اس لیے ہماری ریاست اور سول سوسائٹی دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر دستیاب پلیٹ فارم پر مذاکرات کی بات کریں۔
اس موقع پر مسلم دنیا اور عالمی اداروں کا کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور خلیجی تعاون کونسل جیسے ادارے اگر محض بیانات پر اکتفا کرنے کی بجائے عملی ثالثی کی کوشش کریں تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔ قطر اور عمان جیسے ممالک ماضی میں پسِ پردہ رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کر چکے ہیں۔ چین، روس، یورپ اور دیگر طاقتیں جن کے مفادات استحکام سے وابستہ ہیں، اس سلسلے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کر سکتی ہیں۔ ثالثی کامیاب تب ہوتی ہے جب سب فریق یہ محسوس کریں کہ انھیں شکست نہیں بلکہ ایک باعزت راستہ پیش کیا جا رہا ہے۔ اسی لیے ایسی تجاویز سامنے آنی چاہئیں جن کے ذریعے ہر فریق اپنی عوام کو کامیابی کا تاثر دے سکے۔
اس حوالے سے ایک اور نکتہ یہ ہے کہ سیاسی قیادت کو جنگ کے فیصلوں کو انتخابی حساب کتاب سے الگ رکھنا چاہیے۔ اگر کسی ملک میں حملے کا وقت اس بنیاد پر طے ہو کہ ووٹروں پر اس کا کیا اثر پڑے گا تو یہ جمہوریت کے لیے اچھی علامت نہیں۔ جنگ کوئی ایسا ہتھیار نہیں جسے سیاسی موسم کے مطابق نکالا اور رکھا جائے۔ جب جنگ ملتوی کی جاتی ہے تو اسے امن کا وقفہ سمجھ لینا غلط فہمی ہے، حقیقی امن اس وقت قائم ہوتا ہے جب وقفے کو مذاکرات کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ اگلے حملے کی تیاری کے لیے، لہٰذا فریقین کو چاہیے کہ اپنے موقف میں لچک پیدا کریں اور دنیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں۔

مصنف کے بارے میں

اداریہ روزنامہ نوائے وقت

اداریہ روزنامہ نوائے وقت

فراہم کردہ ریکارڈ میں یہ اندراج روزنامہ نوائے وقت کے اداریے کے طور پر درج ہے۔ دستیاب معلومات میں اس اداریے یا اس کے لکھنے والوں کے بارے میں مزید تفصیل نہیں دی گئی۔

پروفائل اور تمام تحریریں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

اداریہ روزنامہ نوائے وقت. «امریکا کی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملے کی تیاری.» اقبال فورم، 24 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=52817.

حوالہ دینے کے انداز

اداریہ روزنامہ نوائے وقت. (24 اکتوبر 2026). امریکا کی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملے کی تیاری. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/?p=52817

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔