مرکزی مواد پر جائیں

شطرنج کے نئے مہروں کا خوفناک سفر

امریکی مڈٹرم انتخابات میں ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی اور اسرائیل میں نیتن یاہو کی عبرتناک شکست کے بعد خلیج میں قائم امریکی فضائی اڈوں کے متاثر ہونے اور عالمی سطح پر بڑھتی…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

شطرنج کے نئے مہروں کا خوفناک سفر

امریکی مڈٹرم انتخابات کے متوقع نتائج کے آتے ہی عالمی سیاست میں ایک بڑا بھونچال آ چکا ہے جہاں امریکہ سے لے کر اسرائیل تک اقتدار کے ایوان لرز اٹھے ہیں۔ واشنگٹن کو اس وقت بین الاقوامی سطح پر شدید سبکی کا سامنا ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف چھیڑی گئی جنگ امریکی ووٹرز کو شدید ناگوار گزری یے جس کا خمیازہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو سینیٹ اور ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز دونوں میں عبرتناک شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا ہے۔ صدر ٹرمپ کی اس سیاسی پسپائی کا براہِ راست اثر ان کے سب سے قریبی اتحادی پر بھی پڑا ہے جہاں اسرائیل میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں بینجمن نیتن یاہو کو بھی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور وہ اقتدار سے باہر ہو سکتے ہیں جس نے خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو ایک اور کاری ضرب لگائی ہے۔
امریکہ کو اس وقت سب سے بڑی تشویش اپنے اس وسیع فوجی نیٹ ورک کے تحفظ کی ہے جو دنیا کے کونے کونے میں پھیلی آٹھ سو ائیربیسز کی شکل میں اس کی چوہدراہٹ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ جنگ کے دوران خلیج میں بحرین کے مقام پر قائم اس کی سب سے بڑی ائیر بیس شدید متاثر ہو ہی ہے جس نے امریکی دفاعی منصوبہ سازوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ پینٹاگون کے اندر یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ اگر امریکہ بغیر کسی بڑی کارروائی کے پسپائی اختیار کرتا ہے تو دنیا کے دیگر حصوں میں موجود امریکی اتحادی ممالک بھی امریکی فوج کو اپنے ٹھکانے خالی کرنے کا کہہ سکتے ہیں۔ اس عالمی سبکی اور ساکھ کے گرتے ہوئے گراف کو بچانے کے لیے وائٹ ہاؤس کسی بھی وقت کوئی ایسا انتہائی قدم اٹھا سکتا ہے جو بین الاقوامی امن کو یکسر تہہ و بالا کر دے۔
دوسری جانب ایران کی اعلیٰ ترین قیادت نے بھی بدلتی ہوئی صورتحال کو بھانپتے ہوئے اپنی دفاعی حکمتِ عمل کو ایک بالکل نیا اور جارحانہ رخ دے دیا ہے۔ سپریم لیڈر کی جانب سے جاری کردہ حالیہ جنگی ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر امریکہ نے کوئی مہم جوئی کی تو اس بار جوابی کارروائیوں کا دائرہ کار روایتی حدود سے باہر نکل جائے گا۔ ایرانی دفاعی منصوبے کے مطابق خلیج کی تمام بڑی آئل تنصیبات، تجارتی بندرگاہیں ، انٹرنیٹ اور پینے کے پانی کے اہم ترین ذخائر کو فوری طور پر نشانہ بنایا جائے گا تاکہ مخالف فریق کو معاشی طور پر مفلوج کیا جا سکے۔ اس تزویراتی پیغام کو مزید واضح کرنے کے لیے سپریم لیڈر کے دفتر سے ایک علامتی گھڑی دکھائی گئی ہے جس کی سوئیاں یورپ اور امریکہ کی طرف اشارہ کر کے ممکنہ جوابی حملوں کی حدود کا اعلان کر رہی ہیں۔
اس تزویراتی تصادم میں ایران کا یہ دعویٰ خطرے کی شدت کو مزید بڑھا دیتا ہے کہ وہ اب ایک ایسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سے لیس ہو چکا ہے جس کی رینج ہزاروں کلومیٹر پر محیط ہے۔ جنرل محسن رضائی کے مطابق یہ بین البراعظمی بیلوسٹک ہتھیار کسی بھی جدید ترین فضائی دفاعی شیلڈ کو ناکارہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے جس سے طاقت کا روایتی توازن یکسر بدل چکا ہے۔ ایران کی یہ نئی عسکری صلاحیت امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے لیے ایک سٹریٹجک مشکل صورتحال پیدا کرسکتی ہے کیونکہ اب جنگ کسی ایک محاذ تک محدود نہیں رہے گی۔ اس ہتھیار کی موجودگی نے سکیورٹی ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی چنگاری اب براہِ راست مغربی دنیا کے محفوظ شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
اس پورے منظر نامے میں روس کا اچانک داخلہ صورتحال کو ایک نئی اور انتہائی خطرناک سرد جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے جہاں پرانے حریف ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں۔ روسی صدر نے ایرانی کمانڈروں سے براہِ راست رابطہ کر کے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ تہران کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے اور اس تعاون کی پشت پر دہائیوں کا انٹیلی جنس تجربہ موجود ہے۔ روس کے پاس دنیا بھر میں قائم تمام امریکی فوجی ٹھکانوں اور سویلین تنصیبات کا انتہائی دقیق اور حساس ڈیٹا موجود ہے جو وہ ایران کو فراہم کر سکتا ہے۔ روس کی جانب سے درست لوکیشنز اور کاؤنٹر فورس ٹارگٹس کی یہ فراہمی ایرانی میزائلوں کو غیر معمولی طور پر مہلک بنا دے گی جبکہ روس کا اپنا اٹھارہ ہزار کلومیٹر رینج والا ‘سربٹ’ میزائل اس اتحاد کو مزید خوفناک شکل دیتا ہے۔

عالمی دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے حملے کا فیصلہ کیا تو ایران کا پہلا اور سب سے بڑا ہدف اسرائیل کا ڈیمونا جوہری مرکز ہو سکتا ہے جو پورے خطے کو ایک بڑی ماحولیاتی تباہی سے دوچار کر دے گا۔ اس کے ساتھ ہی تہران کی نظریں بحرِ ہند کے دور دراز جزیرے ڈیگو گارشیا پر قائم امریکی فضائی اڈے پر بھی جمی ہیں جو ایران سے چار ہزار کلومیٹر دور ہونے کے باوجود اب محفوظ نہیں ہے۔ اس انتہائی حساس اہداف کی نشاندہی سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اپنے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے اور وہ امریکہ کے محفوظ ترین قلعوں کو نشانہ بنانے کی سکت رکھتا ہے۔ یہ ممکنہ جوابی حملے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آنے والا تصادم صرف دو ممالک کی جنگ نہیں بلکہ ایک عالمی المیہ ہوگا۔
اس نازک موڑ پر چین نے بھی اپنی روایتی خاموشی توڑ دی ہے اور امریکہ کو ایران پر کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی سے سختی سے منع کر رہا ہے۔ چین کا اپنا ‘بیدو’ نیویگیشن سسٹم اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ طاقتور اور درست ترین سیٹلائٹ گائیڈنس نیٹ ورک مانا جاتا ہے جو خلا سے زمین تک ہر نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چین یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی نئے تنازع کا بھڑکنا عالمی معیشت اور تجارتی سپلائی چین کو مفلوج کر کے رکھ دے گا جس کے اثرات چین پر بھی پڑیں گے۔ چین کا یہ سخت موقف سائنسی اور معاشی طاقت پر مبنی ہے جو امریکہ کو یہ پیغام دیتا ہے کہ عالمی امن کو کسی ایک لیڈر کی سیاسی انا کی قربان گاہ پر قربان نہیں ہونے دیا جائے گا۔
تاریخی طور پر اگر دیکھا جائے تو ماضی کی سرد جنگ کے دوران امریکہ اور سوویت یونین نے ایک دوسرے کی دفاعی خامیوں اور اہم تنصیبات کا جو باریک بینی سے مطالعہ کیا تھا وہ تجربہ آج دوبارہ زندہ ہو رہا ہے۔ روس اسی پرانی مہارت کو استعمال کرتے ہوئے تمام امریکی سٹریٹجک ٹارگٹس سے بخوبی واقف ہے اور وہ ان تمام راستوں کو جانتا ہے جہاں سے واشنگٹن کو زک پہنچائی جا سکتی ہے۔ یہ انٹیلی جنس تعاون ایران کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے جس کی وجہ سے امریکی جرنیل بھی کسی براہِ راست تصادم سے کتراتے نظر آتے ہیں۔ پرانے حریفوں کا یہ نیا تال میل ظاہر کرتا ہے کہ دنیا ایک بار پھر بلاکس کی سیاست میں تقسیم ہو چکی ہے جہاں طاقت کا کوئی ایک مرکز باقی نہیں رہا۔
موجودہ سنگین حالات کے پیشِ نظر عالمی برادری اور دنیا بھر کے اعتدال پسند رہنما صدر ٹرمپ پر مسلسل دباؤ بڑھا رہے ہیں کہ وہ کسی بھی جذباتی فیصلے سے گریز کریں کیونکہ اس جنگ کی شروعات تو ان کے ہاتھ میں ہو سکتی ہے مگر اس کا انجام کسی کے کنٹرول میں نہیں ہو گا۔ دفاعی ماہرین متفق ہیں کہ اگر یہ چنگاری ایک بار سلگ اٹھی تو اس کی لپیٹ میں نہ صرف خلیجی ممالک آئیں گے بلکہ یورپ اور ایشیا کے کئی اہم خطے بھی براہِ راست جنگ کے میدان میں تبدیل ہو جائیں گے۔ یہ خوف ہی ہے جس کی وجہ سے عالمی دارالحکومتوں میں خطرے کی گھنٹیاں لگاتار بج رہی ہیں اور ہر ممکن فورم پر امریکی صدر کو اس خودکش مہم جوئی سے روکنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔
اس وقت پردے کے پیچھے انتہائی تیز رفتار اور حساس سفارتی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے تاکہ واشنگٹن اور تہران کو کسی براہِ راست فوجی تصادم کی نہج پر پہنچنے سے روکا جا سکے۔ عالمی ثالث دونوں اطراف کے تحفظات کو دور کرنے اور ائیر بیسز کی سکیورٹی کے حوالے سے ایک درمیانی راستہ نکالنے کے لیے دن رات کوشاں ہیں تاکہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے سے واپس لایا جا سکے۔ تاہم جب تک امریکی صدر کی سیاسی بقا اور انتخابی شکست کا غصہ ان کے فیصلوں پر حاوی ہے تب تک عالمی امن کا مستقبل خطرے میں ہی رہے گا۔ آنے والے چند گھنٹے اس بات کا حتمی فیصلہ کریں گے کہ آیا دنیا سفارت کاری کے ذریعے بقا کا راستہ چنتی ہے یا پھر کسی ایک غلط فیصلے کے نتیجے میں تباہی کی گہرائیوں میں اتر جاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

شاہ نواز سیال. «شطرنج کے نئے مہروں کا خوفناک سفر.» اقبال فورم، 7 نومبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=54503.

حوالہ دینے کے انداز

شاہ نواز سیال. (7 نومبر 2026). شطرنج کے نئے مہروں کا خوفناک سفر. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/?p=54503

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔