مرکزی مواد پر جائیں

فیصلہ کن جنگ کے بڑھتے بادل

ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں ہلاکت خیزی بڑھ رہی ہے، جبکہ ایران عرب ریاستوں میں واقع امریکی مفادات اور اسرائیل کو ہدف بنا رہا ہے۔ اسرائیل کی…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

فیصلہ کن جنگ

ایران اور امریکہ و اسرائیل جنگ بڑھتی و پھیلتی چلی جا رہی ہے اس میں ہلاکت خیزی بھی بڑھ رہی ہے۔ ایران امریکی مفادات پر حملہ آور ہے یہ مفادات عرب ریاستوں میں واقع ہیں۔ خطے میں سب سے بڑا امریکی مفاد اسرائیلی سرزمین ہے جس کی حفاظت اور ترقی امریکی خارجہ پالیسی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ریاست اسرائیل ایک ناجائز تخلیق ہے جس کی پیدائش برطانوی استعمار کی مرہون منت ہے۔ اعلان باالفور سے لے کر 1984ء میں اسرائیل کے قیام تک برطانوی استعمار عربوں کے ساتھ دھوکہ دہی کرتا رہا۔ سازش کے تحت معاملات کرتا رہا، حتیٰ کہ عربوں کے سینے پر اسرائیل کا خنجر پیوست کر دیا گیا۔ ویسے اس سے پہلے عرب خود، بقائم ہوش و حواص عثمانیوں کے خلاف برطانوی سازش میں شریک ہوئے تھے۔ لارنس آف عریبیہ خلافت عثمانیہ کے خلاف برطانوی استعمار کی ایک مجسم سازش تھی جس کے ذریعے عربوں کے دلوں میں عثمانیوں کے خلاف نفرت کے بیج بوئے گئے انگریزوں کی سازش کبھی کامیاب نہ ہوتی اگر عرب اس میں شریک نہ ہوتے۔ انگریز خلافتِ عثمانیہ کے خلاف کاری ضرب لگانے میں کامیاب نہ ہوتے اگر انہیں عربوں کا تعاون حاصل نہ ہوتا۔ انگریزوں نے عربوں کے ساتھ جھوٹے وعدے کئے۔ خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد عربوں کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ ہاں فلسطینی تنازعہ، انسانی المیہ ظہور پذیر ہوا۔ 1948ء میں ریاست اسرائیل کے قیام سے قبل یہودیوں نے فلسطین میں زمینیں خریدیں۔ اس کی اجازت خلیفہ عبدالحمید نے دی تھی۔ انہوں نے ریگستان میں ایک بستی آباد کی۔ تل ابیب کے نام سے 1909ء میں ایک بستی جافاہ کے شمال میں بسائی گئی۔ جافاہ اس وقت عثمانی سلطنت کا حصہ تھا۔ پھر 1920ء تا 1930ء جب یہ علاقہ برٹش مینڈیٹ کے زیر انتظام آیا تو یہ بستی پھلی۔ یہودی مہاجرین کی بڑی تعداد دنیا کے اطراف سے یہاں آن بسی۔1948ء میں جب اسرائیل معرض وجود میں آیا تو تل ابیب ایک منظم شہر کے طور پر پہلے ہی موجود تھا اور اس کی آبادی 2لاکھ نفوس پر مشتمل تھی۔ آج تل ابیب خطے کا منظم ترین ماڈرن شہر ہے اسے ریاست اسرائیل کا دارالحکومت ہونے کا اعزاز بھی حاصل رہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مذہبی بنیادوں پر اسرائیل نے یروشلم کو دارالحکومت قرار دے دیا ہے لیکن تل ابیب آج بھی خطے میں بڑا جدید ترین شہر جانا اور مانا جاتا ہے۔ صہیونیوں نے ریاست اسرائیل کو خطے کی جدید ترین اور منظم ریاست بنانے کیلئے جو نظام ترتیب دیا وہ اپنی روح کے ساتھ وہاں نافذ العمل ہے۔ اسرائیل پارلیمان کے 120ممبران کا انتخاب ہوتا ہے۔ 26ویں پارلیمان کے قیام کیلئے انتخابات ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں 38ویں حکومت معرض وجود میں آئے گی۔ کسی نے انتخابات کے جعلی ہونے کا اعلان نہیں کیا۔ سیاستدان ایک دوسرے پر الزامات لگانے کی بجائے ایشوز پر بات کرتے نظر آئے۔ 120ممبران پر مشتمل اسرائیلی پارلیمان جسے کنیسبٹ کہتے ہیں۔ حکومت بنانے کیلئے 61ممبران کی حمایت ضروری ہوتی ہے۔ اسرائیل کے حالیہ انتخابات کے ابھی تک آمدہ نتائج کے مطابق کوئی بھی جماعت 61کا نمبر حاصل کرتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ نیتن یاہو کی جماعت کو 5نشستوں کی برتری حاصل ہے۔ حتمی نتائج آنے کے بعد بھی کسی جماعت کے پاس حکومت سازی کیلئے مطلوبہ نشستیں نہیں ہوں گی جبکہ عرب ووٹروں سے منتخب کردہ ممبران جن کی تعداد 19تک نظر آ رہی ہے، فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔85.6فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد نیتن یاہو کو 53اور آئزن کوٹ کو 48نشستیں مل سکی ہیں جبکہ عرب پارٹیوں کے پاس 19نشستیں آ سکی ہیں۔ 120کے ایوان میں حکومت سازی کیلئے 61نشستیں ہونا ضروری ہیں جو نہ نیتن یاہو حاصل کر پایا ہے اور نہ ہی آئزن کوٹ۔ اب فیصلہ عرب پارٹیاں کریں گی کہ وہ کس کا ساتھ دیں گی اور وہی حکومت بنائے گا، بلکہ شاید درست بات یہ ہوگی کہ نیتن یاہو اور آئزن کوٹ کس کو ساتھ ملا کر حکومت بناتے ہیں۔ عرب پارٹیوں کی پوزیشن واضح ہے ان کی سوچ شفاف ہے جبکہ عرب پارٹیوں کے بارے میں نیتن یاہو اور آئزن کوٹ بھی واضح نقطہء نظر رکھتے ہیں۔ امکانات موجود ہیں کہ انتخابات ہی دوبارہ ہوں اور پھر کوئی ایک 61کا نمبر حاصل کرکے حکومت بنائے۔ نیتن یاہو کے اتحادی پہلے بھی شدت پسند ہیں۔ عرب پارٹیوں کے بارے میں نفرت انگیز نقطہ ء نظر رکھتے ہیں۔ نیتن یاہو اگر کسی عرب پارٹی کے ساتھ اتحاد کرکے حکومت سازی کا فیصلہ کرتا ہے تو اتحادی ٹوٹ سکتے ہیں۔ حالات واضح نہیں ہیں اگر دوبارہ الیکشن ہونے کا فیصلہ ہوتا ہے تو درمیانی مدت میں نیتن یاہو بھی اقتدار میں رہے گا اور وہ زیادہ سے زیادہ ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے ایران کے بارے میں اپنے ناتمام ایجنڈے کو مکمل کرنے کیلئے جان کی بازی لگا دے گا۔ ایران کو مکمل طور پر تباہ کرنے اور جنگ میں فتح حاصل کرنے کیلئے وہ پہلے سے ہی بے تاب ہے اس لئے قوی امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران۔ امریکہ جنگ میں غیر معمولی شدت آجائے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ اپنی جنگی پوزیشن موثر بنا رہا ہے۔ جنگی بحری بیڑہ ابراہم لنکن عمان کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ہزاروں فوجی اپنی پوزیشن سنبھال چکے ہیں۔ امریکہ نے اپنے سب سے زیادہ ہلاکت خیز ہتھیار کی صلاحیت میں 100فیصد اضافہ بھی کرلیا ہے۔ یہ ہتھیار ایران کے زیرزمین چھپائے گئے ایٹمی کمپلیکس کی تباہی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ برطانیہ میں پارک امریکی B-52بمبار کی نقل و حمل بھی رپورٹ ہوئی ہے اس کا رخ مبینہ طور پر کسی خلیجی ممالک کی طرف بیان کیا گیا ہے۔ جنگ میں شدت اور ہلاکت خیزی بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ جنگ رکوانے کی سفارتی کاوشیں ناکام ہو چکی ہیں اب فیصلہ صرف جنگ کے نتائج کے ذریعے ہی ہوگا۔ ایک بات طے ہے کہ امریکہ و اسرائیل کو عسکری میدان میں شکست نہیں دی جا سکتی، دوسری طرف یہ بھی واضح ہے کہ ایران ہار ماننے والا نہیں ہے۔ ایرانی قیادت مکمل طور پر جنگ لڑنے اور لڑتے ہی چلے جانے کیلئے تیار بھی اور تلی ہوئی بھی ہے۔ روایتی انداز میں لڑی جانے والی جنگ میں جو 28فروری 2026ء سے شروع ہو کر ہنوز جاری ہے۔ ایران نے کامیاب حکمت عملی کے ذریعے شکست کو قریب نہیں آنے دیا۔اسرائیل نے خاصی حد تک ایرانی قیادت کا خاتمہ کرنے کی کاوشیں کی ہیں۔ اقتصادی پابندیوں کے باعث ایرانی معیشت شدید مشکلات کا شکار ہو چکی ہے۔ بمباری کے باعث تباہی بھی ہوئی ہے لیکن ایران کے لڑنے اور لڑتے چلے جانے کے عزم میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب کے راستوں سے ہونے والی تیل کی تجارت ہی نہیں بلکہ عام تجارت بھی شدید متاثر ہوئی ہے جس سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں قیادت پر امریکی و یورپی عوام کا دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے کہ جنگ کو ختم کیا جائے۔ اسلئے ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں جنگ کو حتمی انداز میں فیصلہ کن بنانے کی پوری کوشش کی جائے گی جس سے بڑے پیمانے پر تباہی و بربادی ہوگی۔ فریقین حتمی جنگ کیلئے تیار ہو چکے ہیں، چاہے انہیں آخری حربہ بھی استعمال کیوں نہ کرنا پڑے۔

مصنف کے بارے میں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

مصطفی کمال پاشا. «فیصلہ کن جنگ کے بڑھتے بادل.» اقبال فورم، 31 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=53576.

حوالہ دینے کے انداز

مصطفی کمال پاشا. (31 اکتوبر 2026). فیصلہ کن جنگ کے بڑھتے بادل. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/?p=53576

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔