مرکزی مواد پر جائیں

مڈ ٹرم الیکشن، فیصلہ قریب

3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات صدر ٹرمپ کی پالیسیوں، معاشی چیلنجز، امیگریشن، اور ایران کے ساتھ جاری جنگ و توانائی کے بحران کے باعث دونوں سیاسی جماعتوں کے لیے ایک…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

مڈ ٹرم الیکشن، فیصلہ قریب

امریکہ میں 3نومبر کو ہونیوالے وسط مدتی انتخابات صدر ٹرمپ کی پالیسیوں اور انکی جماعت ریپبلکن پارٹی کیلئے ایک اہم امتحان ہیں۔ یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مہنگائی، ایران کے ساتھ جنگ، ٹیرف ، امیگریشن اوربڑھتے عوامی اخراجات کے معاملات نے امریکی سیاست کو گرمایا ہواہے۔ دو بڑی جماعتوں کے درمیان مقابلے کے نتائج یہ بھی طے کرینگے کہ صدر ٹرمپ اپنے دورِ حکومت کے باقی دو برسوں میں کس حد تک اپنے میگا ایجنڈے پر عمل کر سکیں گے۔ امریکہ میں صدارتی انتخابات ہر چار سال بعد ہوتے ہیں، جبکہ دو سال بعد ہونیوالے وسط مدتی انتخابات میں صدر کا انتخاب نہیں کیا جاتا۔ اس مرتبہ ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں، سینیٹ کی 35 نشستوں اور 36 ریاستوں کے گورنرز سمیت متعدد ریاستی اور مقامی عہدوں کیلئے ووٹنگ ہو گی۔ کانگریس کے دونوں ایوان قانون سازی، حکومتی اخراجات اور حکومتی پالیسیوں اور صدر کی تجاویز کی نگرانی ، منظوری یا روک تھام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے وسط مدتی انتخابات کو اکثر صدر کی کارکردگی پر عوامی ردعمل جانچنے کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔اس انتخابی معرکے میں سب سے نمایاں مسئلہ معیشت ہے۔ روزمرہ اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ اشیائے خورونوش، پیٹرول ڈیزل ، رہائش ، بجلی و گیس کے بِل اور ہیلتھ کیئر و میڈیکل انشورنس کے اخراجات نے تقریباً سبھی امریکی گھرانوں کے بجٹ پر دباؤ ڈالا ہے۔ جبکہ ٹرمپ کا معاشی ایجنڈا امریکی عوام کو ریلیف دیناتھا،چنانچہ ٹرمپ کے وعدوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ اور مشرق وسطیٰ کے حالات نے معاشی دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ توانائی کی عالمی رسد میں خلل اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات عام امریکی شہریوں کے ساتھ کاروباری اداروں اور کاشتکاروں کو بھی متاثر کر رہے ہیں ، خصوصاً ڈیزل کی قیمت میں ریکارڈ اضافےسے ٹرانسپورٹ ، ڈیری اور ایگریکلچر فارمنگ انڈسٹری مشکلات کا شکار ہے۔ اس صورتحال میں ٹرمپ کو جنگی پالیسی کےدفاع کے ساتھ یہ بھی بتانا پڑ رہا ہے کہ اسکے معاشی اثرات سے عوام کو کیسے محفوظ رکھا جائیگا، دوسری طرف ڈیموکریٹس حکومتی فیصلوں کی وجہ سے ہونیوالی مہنگائی اور جنگ کے اخراجات پر سوال اٹھا رہے ہیں ۔ کانگریس میں اکثریت تبدیل ہونے کی صورت میں ٹرمپ مخالفین ایران جنگ کیلئے فنڈنگ کم اور حکومتی اقدامات کی نگرانی سخت کرنے جیسے اقدامات کر سکتے ہیں۔امیگریشن دوسرا بڑا معاملہ ہے جس پر دونوں جماعتوں کا مؤقف مختلف ہے۔ ٹرمپ غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات، کڑی سرحدی نگرانی اور قانونی امیگریشن کو کم کرنے کے خواہاںہیں۔انکے نزدیک یہ اقدامات ملکی سلامتی، سماجی ڈھانچے کی مضبوطی، بیروزگاری اور جرائم میں کمی کیلئے ضروری ہیں۔ دوسری طرف لبرلز اور ڈیموکریٹس کی اکثریت کا کہنا ہے کہ امیگریشن ریفارمز یقیناً ضروری ہیں اور سنگین جرائم میں ملوث تارکین وطن کیخلاف کارروائیاں ہونی چاہئیں مگر امن پسند محنتی افراد کو ملک بدر کرنے اور ویزا پابندیوں سے خاندان متاثر ہوتے ہیں اور زراعت و مینوفیکچرنگ سمیت بعض شعبوں میں کارکنوں کی دستیابی بھی مشکل ہو سکتی ہے۔ امریکہ کی زیادہ تر ریاستوں میں لاطینی نژاد ووٹروں سمیت دوسری اقلیتیں بڑی تعداد میں آباد ہیں جنکی اکثریت کو حکومتی سخت امیگریشن پالیسیوں پر تحفظات ہیں ، ان ووٹروں کی ریپبلکن امیدواروں سے دوری ٹرمپ کی پارٹی کیلئے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے ۔ بعض حلقوں خصوصاً بائیں بازو کے میڈیا کی طرف سے ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کی خبریں بھی تواتر سےآرہی ہیں۔ حالیہ دنوں مختلف سرویز میں انکی مجموعی کارکردگی کی ریٹنگ 31 فیصد سے 36 فیصد بتائی جا رہی ہے جبکہ تازہ پولز اور سروے میں لوئر ہاؤس ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی یقینی جیت اور اپر ہاؤس یعنی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی ممکنہ جیت کی پیشین گوئی کی جا رہی ہے ۔ اگرچہ یہ اعداد و شمار صدر کی پالیسیوں کے بارے میں عوامی عدم اطمینان کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن انہیں انتخابی نتائج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ اصل نتیجہ ووٹنگ کے دن ریاستی مقابلوں اور دونوں پارٹیوں سے وفاداری ، امیدواروں کی کارکردگی اور خاموش ووٹروں کے جھکاؤ اور ووٹر ٹرن آؤٹ سےبرآمد ہوگا۔کانگریس میں اکثریت کا سوال اسلئے بھی اہم ہے کہ صدر کے اختیارات ایگزیکٹیو آرڈر جاری کرنے کی طاقت کے باوجود لامحدود نہیں۔ اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو بجٹ، قانون سازی ، اعلیٰ تعیناتیوں سمیت حکومتی منصوبوں کی منظوری مشکل ہو سکتی ہے۔ طاقتور پارلیمانی کمیٹیاں حکومتی پالیسیوں کی تحقیقات اور نگرانی میں بھی زیادہ سرگرم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اسکے باوجود یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی صدر کے تمام منصوبوں کو ختم کر دئیگی۔ انتظامی اختیارات، موجودہ قوانین اور دونوں ایوانوں کے قواعد کے تحت صدر کئی معاملات میں اپنے اختیارات استعمال کر سکتے ہیں۔ البتہ سیاسی مخالفت بڑھنے اور اختیارات کی تقسیم سے فیصلوں پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا دشوار ہو سکتا ہے۔ ریپبلکن پارٹی کیلئے اصل چیلنج اپنے حامیوں کو متحرک رکھنے کے ساتھ ان ووٹروں کا اعتماد بحال کرنا ہے جو حکومتی پالیسیوں سے ناخوش ہیں۔ اسی سالہ ٹرمپ کئی ہفتوں سے انتخابی مہم میں سرگرم ہیں اورعوام کو یہ باور کرانےمیں کوشاں کہ انکی پالیسیوںکے نتائج وقت کیساتھ سامنے آئیں گے۔ دوسری طرف ڈیموکریٹس مہنگائی، صحت کی سہولتوں میں کمی ، حکومتی احتساب ، امیگریشن کریک ڈاؤن اور ایران جنگ کو اپنے انتخابی مؤقف کا مرکز بنا رہے ہیں۔

امریکہ میں قبل از وقت ووٹنگ اور ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی سہولت بھی انتخابی عمل کا اہم حصہ ہے۔ مختلف ریاستوں میں دو کروڑ سے زائد ووٹر اپنا حقِ رائے دہی استعمال بھی کر چُکے ہیں ۔ انتخابی نتائج پر صرف قومی سروے اثرانداز نہیں ہوتے بلکہ قومی و مقامی مسائل، امیدواروں کی ساکھ اور ووٹروں کی شرکت بھی کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لیے قومی سطح پر کسی جماعت کو حاصل برتری لازماً ہر ریاست یا ہر حلقے میں کامیابی کی ضمانت نہیں بنتی۔ 3 نومبر یہ تعین کرئیگاکہ امریکی عوام ٹرمپ کی پالیسیوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ اگر ریپبلکنز اکثریت برقرار رکھتے ہیں تو صدرکیلئے قانون سازی اور حکومتی ایجنڈے پر عمل کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ اگر ڈیموکریٹس اکثریت حاصل کر گئے تو آئندہ دو برسوں میں سیاسی کشمکش اور حکومتی نگرانی بڑھنے کا امکان ہوگا۔بہرحال یہ انتخابات امریکی جمہوریت میں عوامی پذیرائی، نظام کی مضبوطی اور احتساب کی اہمیت کو نمایاں کریں گے۔ حکمرانوں کے وعدے کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، ان کی سیاسی طاقت کا انحصار اس اعتماد پر ہوتا ہے جو شہری انہیں اپنے ووٹ کے ذریعے دیتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

احمد وقاص ریاض

احمد وقاص ریاض

احمد وقاص ریاض کے بارے میں فراہم کردہ معلومات صرف ان کے نام تک محدود ہیں۔ ان کی زندگی، تصانیف یا سرگرمیوں کے بارے میں مزید تفصیلات درج نہیں ہیں۔

پروفائل اور تمام تحریریں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

احمد وقاص ریاض. «مڈ ٹرم الیکشن، فیصلہ قریب.» اقبال فورم، 25 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=52919.

حوالہ دینے کے انداز

احمد وقاص ریاض. (25 اکتوبر 2026). مڈ ٹرم الیکشن، فیصلہ قریب. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/?p=52919

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔