مرکزی مواد پر جائیں
سیاست

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کا قیام

مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ایران کے کردار کو تسلیم کرنا ناگزیر ہے، جس کی عکاسی پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ دورۂ…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ ایران

مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں استحکام کی کوئی بھی کوشش اس وقت تک نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی جب تک ایران کے کردار کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے۔ پاک فوج کے سربراہ اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حالیہ دورۂ تہران کچھ دیگر معاملات کے علاوہ اسی حقیقت کا اعتراف ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب خطہ جنگ، پابندیوں، بحری راستوں کے خطرات اور بیان بازی کے بوجھ تلے دبا ہے۔ تہران میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات، علاقائی پیش رفت، سفارتی عمل اور کشیدگی میں کمی سمیت مختلف عالمی مسائل پر تبادلۂ خیال ہوا۔ انھوں نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے بھی الگ ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں کے دوران ہونے والی بات چیت کے موضوعات بتاتے ہیں کہ پاکستان اس معاملے کو صرف دو طرفہ تعلقات کے زاویے سے نہیں دیکھ رہا۔ اس کی نظر اس پورے علاقائی منظرنامے پر ہے جس میں ایک غلط قدم بڑی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
رواں برس فروری کے آخر میں امریکا اور ناجائز صہیونی ریاست کے ایران پر کیے گئے دہشت گرد حملے کے بعد سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ تہران کا چوتھا دورہ تھا۔ اس غیر معمولی پیش رفت سے انداز لگایا جا سکتا ہے کہ امریکا ایران کشیدگی کے دوران پاکستان نے دنیا کے زیادہ تر ممالک کی طرح خود کو محض ایک خاموش تماشائی بنانے کی بجائے رابطہ کار کے طور پر پیش کیا ہے اور یہ کردار اسے ایک مشکل مگر اہم مقام دیتا ہے۔ سفارت کاری میں تسلسل بسا اوقات کسی ایک بڑی پیش رفت سے زیادہ اہم ہوتا ہے کیونکہ اعتماد کی عمارت چھوٹی چھوٹی ملاقاتوں اور مسلسل رابطوں پر ہی کھڑی ہوتی ہے۔
ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری بریگیڈیئر جنرل محسن رضائی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں ایران کا موقف نہایت دو ٹوک انداز میں پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں افزودہ کیا گیا تمام جوہری مواد ملک ہی میں رہے گا اور اس کا ایک ذرہ بھی باہر نہیں جائے گا۔ انھوں نے اسے ایرانی عوام کا بڑا سرمایہ اور قومی دولت قرار دیا جو ملک کے اندر ہی استعمال ہوگی۔ یہ بیان واضح کرتا ہے کہ جوہری معاملہ اب تہران کے لیے محض تکنیکی یا قانونی مسئلہ نہیں رہا بلکہ قومی وقار اور خودمختاری کا سوال بن چکا ہے۔ بریگیڈیئر جنرل محسن رضائی نے یہ بھی کہا کہ ایرانی عوام اور حکام متفقہ طور پر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جب تک امریکا کی جانب سے اعتماد سازی نہیں کی جاتی، کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
دوسری طرف، صدر پزشکیان کا لہجہ نسبتاً نرم رہا۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے علاقائی ممالک کے ساتھ کوئی بنیادی اختلاف نہیں اور موجودہ مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے ایران تیار ہے۔ رپورٹوں کے مطابق وہ اس دورے سے کچھ دن پہلے بھی کہہ چکے تھے کہ جنگ ایسے وقت ختم ہونی چاہیے جب ایران کو برتری حاصل ہو۔ سخت گیر سلامتی بیانیے اور سیاسی قیادت کی اس نسبتاً لچکدار آواز کے درمیان فرق نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ممکن ہے یہ تقسیم محض حکمتِ عملی ہو جس کے ذریعے ایران معاملات کو مختلف سطحات پر آگے بڑھانا چاہ رہا ہو۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ ریاست کنساس میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف جنگ سے جلد نکل سکتا ہے مگر ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کے معاملے پر امریکا کو یورپی ممالک کی مدد درکار تھی لیکن یورپ ساتھ نہیں کھڑا ہوا۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر یورپ نے اپنا رویہ نہ بدلا تو امریکا کو یورپ سے نکلنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے مدد مانگنے کو ایک امتحان قرار دیا اور کہا کہ یورپی ممالک کا ساتھ نہ دینا وہ کبھی نہیں بھول سکتے۔ ان کے بقول امریکا کو درحقیقت مدد کی ضرورت نہیں تھی۔ اسی طرح، ایک نیوز چینل کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران سے جنگ کل ہی جیت سکتا ہے اور چاہے تو آج ہی اس سے نکل بھی سکتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا امریکی اقدامات پر بے حد شکرگزار ہے اور بہت جلد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئے گی۔
اس پورے منظرنامے میں پاکستان کی پوزیشن نازک بھی ہے اور نمایاں بھی۔ ایران اس کا ہمسایہ ہے، دونوں ممالک طویل سرحد، تاریخی روابط اور مشترکہ سماجی و ثقافتی رشتوں میں بندھے ہیں۔ دوسری طرف، امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی اپنی تاریخ اور حرکیات ہیں۔ دونوں کے ساتھ رابطہ رکھنے کی صلاحیت پاکستان کو ایک پل بناتی ہے مگر اس حیثیت میں خطرات بھی ہیں۔ ثالث پر دونوں طرف سے توقعات بھی ہوتی ہیں اور شبہات بھی۔ پاکستان کے لیے اس سفارت کاری کے داخلی پہلو بھی ہیں۔ خطے میں جنگ کا پھیلاؤ پاکستان کی سرحدوں، معیشت اور توانائی کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔ تیل مہنگا ہو تو مہنگائی بڑھتی ہے، تجارتی راستے متاثر ہوں تو برآمدات پر دباؤ آتا ہے اور سرحدی علاقوں میں بے چینی بڑھے تو سلامتی کے چیلنجز دوچند ہو جاتے ہیں۔ اس لیے امن کی کوشش پاکستان کے لیے اخلاقی فریضہ ہی نہیں بلکہ قومی مفاد کا تقاضا بھی ہے۔
جہاں تک کشیدگی کے فریقین کا تعلق ہے تو ایران اعتماد سازی کو امریکی اقدامات سے مشروط کر رہا ہے جبکہ امریکا جوہری معاملے پر کسی نرمی کا اشارہ دینے سے گریزاں ہے۔ یورپ کے بارے میں ٹرمپ کی ناراضی مغربی اتحاد میں دراڑ کی نشاندہی کرتی ہے اور یہ دراڑ کسی متفقہ مغربی حکمتِ عملی کو مشکل بنا دیتی ہے۔ ادھر، بحری راستوں میں بارودی سرنگوں کا خطرہ کسی بھی لمحے ایک چھوٹے حادثے کو بڑے بحران میں بدل سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں ثالث کے پاس وقت کم اور گنجائش محدود ہوتی ہے۔ اس کے باوجود مایوس اس لیے نہیں ہونا چاہیے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے تنازعات کا حل اکثر اس وقت نکلتا ہے جب فریقین کو یہ احساس ہو جائے کہ تنازع جاری رکھنے کی قیمت ختم کرنے کی قیمت سے زیادہ ہے۔ صدر پزشکیان کا مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرنا اور ٹرمپ کا جنگ سے نکلنے کی بات کرنا اسی امکان کی طرف اشارہ ہے کہ دونوں جانب تھکن اور حقیقت پسندی کا عنصر موجود ہے۔ ثالث کا کام یہی ہے کہ ایسے امکانات کو ٹھوس تجاویز کی شکل میں ڈھالے اور مرحلہ وار اقدامات کے ذریعے اعتماد کی وہ فضا بنائے جس کا تقاضا فریقین کر رہے ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ ایران کسی معجزے کی بنیاد تو نہیں بن سکتا لیکن یہ اس راستے کا ایک ضروری قدم ہے جس پر چل کر ہی مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ غیر جانبداری، سنجیدگی اور مستقل مزاجی کے ساتھ یہ کردار نبھاتا رہے اور راستے میں آنے والی مشکلات کے باوجود امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھے۔ بالعموم پوری دنیا اور بالخصوص اس خطے کے عوام جنگ کی قیمت بہت ادا کر چکے ہیں، اگر پاکستان کی ثالثی سے امن کا راستہ ہموار ہو جائے تو یہ ساری دنیا پر ہمارا احسان ہو گا۔

مصنف کے بارے میں

اداریہ روزنامہ نوائے وقت

اداریہ روزنامہ نوائے وقت

فراہم کردہ ریکارڈ میں یہ اندراج روزنامہ نوائے وقت کے اداریے کے طور پر درج ہے۔ دستیاب معلومات میں اس اداریے یا اس کے لکھنے والوں کے بارے میں مزید تفصیل نہیں دی گئی۔

پروفائل اور تمام تحریریں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

اداریہ روزنامہ نوائے وقت. «فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کا قیام.» اقبال فورم، 22 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=52633.

حوالہ دینے کے انداز

اداریہ روزنامہ نوائے وقت. (22 اکتوبر 2026). فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کا قیام. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/?p=52633

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔