تہران مذاکرات اور مسلم اتحاد کا امتحان
تہران میں ایران اور مکہ دفاعی معاہدے کے ارکان (پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ) کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات نے خطے میں امن اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک…
مصنوعی ذہانت کا تجزیہ
ایران اور مکہ دفاعی معاہدے سے وابستہ ممالک کی اعلیٰ شخصیات کے درمیان تہران میں ہونے والے مذاکرات نے خطے میں امن کے حوالے سے نئی امید پیدا کی ہے۔ ان مذاکرات کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن اس پورے سفارتی عمل میں پاکستان کا کردار خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ ایک طرف ایران ہے، جس کے ساتھ پاکستان کی طویل سرحد، تاریخی روابط اور مشترکہ علاقائی مفادات وابستہ ہیں، دوسری طرف سعودی عرب ہے، جس کے ساتھ پاکستان کے مذہبی، معاشی، دفاعی اور تزویراتی تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مسلم دنیا کو ایک نئے تصادم سے بچانے کی کوشش میں پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی کردار ادا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا گزشتہ ہفتے تہران کا ایک روزہ دورہ اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اس دورے کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی اور پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف سے ملاقاتیں ہوئیں۔ بعدازاں تہران میں ہونے والے مشترکہ اجلاس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی شرکت اور ترکی کے انٹیلیجنس چیف ابراہیم قالن کی آمد نے سفارتی رابطوں کو مزید اہمیت دی۔ تاہم اس اجلاس کا نمایاں پہلو سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی اپنے وفد کے ہمراہ تہران آمد تھی۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان موجود تاریخی بداعتمادی اور علاقائی اختلافات کے پس منظر میں اس نوعیت کا براہِ راست رابطہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کے پیچھے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا جو کردار بیان کیا جا رہا ہے، وہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطوں اور مذاکرات کو اہمیت دے رہا ہے۔پاکستان کے لیے یہ کردار محض دو برادر مسلم ممالک کے درمیان مصالحت کی کوشش نہیں، بلکہ اپنی قومی سلامتی سے جڑا ہوا معاملہ بھی ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کسی وسیع تصادم کی صورت میں پاکستان کے لیے غیر جانب دار رہنا اور دونوں سے تعلقات برقرار رکھنا کہیں زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔ خلیج میں جنگ کا پھیلاؤ پاکستانی معیشت، توانائی کی قیمتوں، ترسیلاتِ زر اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کے روزگار کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ چنانچہ کشیدگی کم کرنے کی کوشش اپنے قومی مفادات کے تحفظ کا تقاضا بھی ہے۔ پاکستان کسی فریق کے خلاف صف بندی کا حصہ بننے کے بجائے اصولی طور پر علاقائی امن، ریاستوں کی خودمختاری اور تنازعات کے پْرامن حل کی حمایت کرتا ہے۔ کامیاب سفارت کاری کا مطلب یہ نہیں کہ ہر اختلاف فوراً ختم ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ اختلافات کے باوجود رابطے برقرار رہیں اور تنازعات کو جنگ تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی، ممکنہ نئے حملوں کے خدشات، اسرائیل کی داخلی سیاست اور انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال، نیز خلیجی ممالک کو لاحق سلامتی کے خطرات، یہ سب ایسے عوامل ہیں جو کسی بڑے تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔ یمن کا تنازع بھی اس کشیدگی کا اہم حصہ ہے۔ سعودی عرب حوثیوں کے حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتا ہے، جبکہ ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔ ان اختلافات کو حل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ فریق براہِ راست بات چیت کریں، ایک دوسرے کے خدشات کو سمجھیں اور ایسے قابلِ عمل انتظامات پر متفق ہوں جن سے حملوں کے خطرات کم کیے جا سکیں۔مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے ایران میں یہ تشویش موجود ہو سکتی ہے کہ مسلم ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کسی وقت اس کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ تہران میں براہِ راست مذاکرات اس خدشے کو کم کرنے اور یہ واضح کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں کہ علاقائی دفاعی تعاون کا مقصد کسی دوسرے مسلم ملک کو تنہا کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس بات کی حمایت کرے کہ دفاعی معاہدے سلامتی کے تحفظ اور جنگ کی روک تھام کا ذریعہ بنیں، نہ کہ باہمی بداعتمادی میں اضافے کا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ معاہدے کے مقاصد، حدود اور علاقائی اثرات کے بارے میں شفاف مکالمہ ہو اور ایران سمیت تمام متعلقہ ممالک کے تحفظات کو سنا جائے۔مسلم دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ فرقہ وارانہ تقسیم اور سیاسی رقابتوں نے اسے بارہا نقصان پہنچایا ہے۔ آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ مذہبی اختلاف کو نفرت اور دشمنی کا ذریعہ نہ بننے دیا جائے۔ پاکستان، جہاں مختلف مسالک کے مسلمان آباد ہیں، اس حوالے سے مکالمے، رواداری اور مشترکہ مفادات کی اہمیت کو اجاگر کر سکتا ہے۔پاکستان کے لیے سفارتی کامیابی کا اندازہ صرف ملاقاتوں اور مشترکہ تصاویر سے نہیں ہوگا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ آیا ان رابطوں کے نتیجے میں کشیدگی کم ہوتی ہے، حملوں کے خطرات گھٹتے ہیں اور مستقل مذاکرات کا کوئی نظام قائم ہوتا ہے یا نہیں۔پاکستان کو اس موقع پر اپنی سفارتی کوششوں کو مستقل پالیسی میں ڈھالنا چاہیے۔ ایران اور سعودی عرب کے ساتھ اعلیٰ سطح کے رابطے جاری رہیں، ترکی اور دوسرے علاقائی ممالک کو بھی امن کی کوششوں میں شامل کیا جائے اور کسی ممکنہ جنگ کی صورت میں شہریوں، معیشتوں اور علاقائی استحکام کو پہنچنے والے نقصان سے بچنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر غور ہو۔ ایران ایک بڑی عسکری اور علاقائی قوت ہے، جبکہ سعودی عرب مسلم دنیا میں روحانی مقام کے ساتھ معاشی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان کشیدگی کم ہونا پورے خطے کے مفاد میں ہے، اس کے لیے سفارتی توازن، مسلسل رابطے اور عملی پیش رفت ناگزیر ہیں۔
مصنف کے بارے میں
اداریہ رونامہ ۹۲ نیوز
یہ پروفائل روزنامہ ۹۲ نیوز کی اداریہ ٹیم سے متعلق ہے۔ اس ٹیم کے بارے میں مزید سوانحی تفصیلات درج نہیں ہیں۔
پروفائل اور تمام تحریریںاس مضمون کا حوالہ کیسے دیں
اداریہ رونامہ ۹۲ نیوز. «تہران مذاکرات اور مسلم اتحاد کا امتحان.» اقبال فورم، 28 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=53234.
تبصرے