مرکزی مواد پر جائیں

تہران اجلاس اور اسرائیلی انتخابات

26 اکتوبر 2026ء کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ وفود نے تہران کا تاریخی دورہ کر کے ایرانی صدر اور عسکری قیادت سے ملاقات کی، جو ایران کے خلاف ممکنہ…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

تہران اجلاس اور اسرائیلی انتخابات

26اکتوبر 2026ء کو مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور سکیورٹی کے کئی اہم ذمہ داران کے ساتھ ایک اجلاس میں شرکت کی۔ یہ اجلاس تاریخی ہی نہیں تاریخ ساز تھا۔ اس ملاقات کی اہم ترین بات یہ تھی کہ کئی دہائیوں کی سعودی عرب اور ایران کی کشیدگی اور سرد مہری کے بعد مفاہمت کی فضا اتنی گرم جوشی تک پہنچی کہ سعودی وزیر دفاع پرنس خالد بن سلمان‘ جو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے بھائی ہیں‘ اجلاس میں شرکت کیلئے بنفس نفیس آئے۔ اس اجلاس کا انعقاد پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایران کے ساتھ شٹل ڈپلومیسی کی بنا پر ممکن ہو سکا۔ اجلاس کے اہداف واضح تھے۔ سب سے بڑا مقصد تو یہ تھا کہ امریکہ ایران پر اگلا ممکنہ حملہ نہ کرے اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے خطے کو جنگ کے منڈلاتے سیاہ بادلوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی یمن کے حوثیوں کی طرف سے سعودی عرب پر کیے جانے والے حملوں کا سلسلہ بھی بند کرایا جائے۔ اس اجلاس کا ہمارے نزدیک اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ ایران پر مسلط کردہ مشترکہ امریکی اسرائیلی جنگ کے دوران سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ریاستوں کو اندازہ ہو گیا کہ امریکہ ان کے دفاع سے لاتعلق ہو گیا ہے۔ اس نے عربوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ اس حوالے سے لگتا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں نے بھانپ لیا ہے کہ مستقبل قریب میں امریکہ کے کیا ارادے ہیں۔ امریکی چینل اے بی سی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ جمعرات کے روز امریکی ملٹری اور اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے درمیان ایران پر نئے حملوں کی منصوبہ بندی کیلئے صلاح مشورہ کیا گیا۔ اس کے ایک دن بعد‘ 23اکتوبر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک بار پھر ایران پر حملے کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں امریکہ نے خلیج کی ریاستوں کو بھی خبردار کر دیا ہے کہ ایران پر نئے حملوں کے بعد ممکنہ ایرانی ردِعمل کی صورت میں اپنا دفاع آپ کرنا ساڈے تے نہ رہنا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئے حملے کے عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی ورلڈ بینک نے بھی خبردار کیا ہے کہ نئی ممکنہ جنگ کی صورت میں عالمی منڈی میں اجناس کی قیمتوں میں 23 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ ایران پر مسلط کردہ امریکی اسرائیلی جنگ کے آغاز سے پاکستان اور قطر خطے کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانے کیلئے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔ انہی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ کا ایک اعلیٰ سطحی وفد نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں اسلام آباد آیا تھا۔ امریکہ ایران کے بالواسطہ اور براہِ راست مذاکرات ابھی تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوئے۔ کئی بار بات بنتے بنتے بگڑ گئی۔ ثالثی کرانے والے مذکورہ دونوں ممالک ایران سے کوئی بات منوا لیتے ہیں تو امریکہ کوئی نیا مطالبہ لے کر میدان میں آ جاتا ہے۔ امریکہ مزاجِ مشرق کو سمجھتا ہے نہ ایران کی گزشتہ نصف صدی کی تاریخ اور اس کے اسلامی و ایرانی تشخص کے ارتقا پر اس کی نظر ہے۔ کسی دن شام ڈھلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک نئی امید کی شمع روشن کریں گے مگر اگلے روز صبح دم دھمکیاں دینا شروع کر دیں گے‘ جو کام شیریں بیانی سے ہو سکتا ہے وہ لٹھ برداری سے نہیں ہو سکتا۔ صدر ٹرمپ کو اب تک اندازہ ہو جانا چاہیے تھا کہ ایرانی قدامت پسند ہوں یا جدت پسند‘ سب ایران کے قومی وقار اور ملی افتخار کے بارے میں یک زبان ہیں۔ اندرونِ خانہ چاہے ان کے سینکڑوں اختلافات ہوں مگر بیرونی حملے کی صورت وہ سب سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر دکھا چکے ہیں اور آئندہ بھی ایسی کسی جارحیت کے موقع پر ان کا یہی ردِعمل اور رویہ ہو گا۔
26اکتوبر کو عرب و عجم کا یہ نہایت منفرد و نادر اجلاس تہران میں منعقد ہوا جس میں مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کی اعلیٰ قیادت ہر طرح کے تحفظات کو خیر باد کہہ کر تہران گئی۔ وہاں ایرانی صدر کی سربراہی میں ایرانی سول و ملٹری قیادت نے ان کا پُرتپاک خیر مقدم کیا۔ ایک روز بعد 27اکتوبر کو اسرائیل میں عام انتخابات تھے۔ اس اہم موقع پر اسرائیل کے سفاک اور خونخوار وزیراعظم کو بڑا واضح پیغام گیا کہ حرم کی پاسبانی اور خطے کے دفاع کیلئے مسلمان ایک ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی عوام کو اچھی طرح اندازہ ہو گیا تھا کہ ساری دنیا میں اسرائیل کے خلاف ہر طرف جو نفرت کا اُبلتا ہوا لاوا نظر آ رہا ہے اس کی ذمہ داری اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر عائد ہوتی ہے۔ 120 ارکان کی پارلیمنٹ میں کسی بھی جماعت کو کم از کم 61سیٹیں حاصل کر کے ہی برتری مل سکتی ہے۔ ایسی واضح برتری کسی اسرائیلی جماعت کو نہیں ملی۔ نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور اس کے ساتھ شامل دیگر جماعتوں کے اتحاد کو 53 جبکہ اپوزیشن کو 48سیٹیں ملی ہیں۔ عرب اتحاد کو 19 سیٹیں ملی ہیں۔ اس سے پہلے انہیں زیادہ سے زیادہ دس سیٹیں ملتی رہی ہیں۔ اسرائیل کے اندر موجود یہ عرب وہ ہیں جنہوں نے تمام تر اسرائیلی مظالم کے باوجود 1948ء میں اپنا وطن نہیں چھوڑا تھا۔ یہ عرب اتحاد خالصتاً سیاسی عرب جماعتوں کا اتحاد ہے۔اگرچہ عرب اتحاد کے سربراہ کے بقول وہ اپوزیشن کے ساتھ تعاون کر کے حکومت سازی میں ان کی مدد کر سکتے ہیں‘ تاہم حکومت میں شامل ہونے سے یہ جماعتیں گریزاں ہیں۔ نیتن یاہو اور اپوزیشن اتحاد کی پالیسیوں میں کوئی بہت بڑا بنیادی فرق نہیں۔ اسرائیل کا اپوزیشن اتحاد بھی حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا چاہتاہے۔ تاہم یہ اتحاد مغربی کنارے میں مزید توسیعی عزائم نہیں رکھتا۔ اس اتحاد میں شامل ایک پارٹی کے سربراہ (سابق اسرائیلی وزیراعظم یئر لِپڈ) ارضِ مقدس میں دو ریاستی فارمولے کے حق میں ہے۔ اگرچہ دائیں بازو کا یہ یہودی الائنس عرب اتحاد سے پارلیمنٹ میں حمایت کا اتنا خواہاں نہیں مگر اس کے بغیر وہ کولیشن حکومت نہیں بنا سکتے۔اسرائیلی کنیسٹ میں عرب قیادت والی جماعتیں (جیسا کہ ‘جوائنٹ لسٹ اور رعام) اسرائیل کی جانب سے غزہ پر عائد فوجی ناکہ بندی‘ تجارتی سامان پر پابندیوں اور وہاں پہنچنے والی انسانی امداد پر عائد پابندیوں کی مخالفت کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مغربی کنارے میں یہودی قبضوں کو بھی روکنا چاہتے ہیں۔
گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران سپر پاور امریکہ کے خلاف ڈٹ جانے والے ایران کی جرأتمندی کو سراہا جا رہا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اب ایران اپنی حکیمانہ سفارتکاری کا سکہ بھی دنیا سے منوائے۔ تازہ خبروں کے مطابق امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ معاملات کو ایک بار پھر سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ ایران اپنے عرب پڑوسیوں اور قطر اور پاکستان جیسے ثالثوں کے ساتھ مل کر نئے مذاکرات کو کامیاب بنائے۔ عرب و عجم کے اس ابھرتے ہوئے اتحاد سے مسئلہ فلسطین کے مستقل حل کے امکانات روشن ہو جائیں‘ نیز گریٹر اسرائیل کے صہیونی عزائم کو لگام بھی ڈالی جا سکے گی۔ تاریخ نے ایران کو موقع دیا ہے کہ وہ شاعر مشرق کی تمنا کے مطابق تہران کو مشرق کا جنیوا ثابت کر دے۔ اس سے شاید کرۂ ارض کی تقدیر تو نہ بدلے مگر ہمارے خطے کی تقدیر ان شاء اللہ ضرور بدل جائے گی۔

مصنف کے بارے میں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

ڈاکٹر حسین احمد پراچہ. «تہران اجلاس اور اسرائیلی انتخابات.» اقبال فورم، 31 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=53578.

حوالہ دینے کے انداز

ڈاکٹر حسین احمد پراچہ. (31 اکتوبر 2026). تہران اجلاس اور اسرائیلی انتخابات. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/?p=53578

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔