مرکزی مواد پر جائیں

یہ ہے حقیقی جمہوریت

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے ذریعے بیلٹ کی طاقت سے ٹرمپ انتظامیہ کی جنگی پالیسیوں کو شکست ملی ہے، جس میں صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتنیاہو کی جانب سے ایران…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

یہ ہے حقیقی جمہوریت

امریکہ کے حالیہ مڈ ٹرم انتخابات کے نتائج نے عالمی منظر نامے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے ۔کل تک خودپرستی غرور اور تکبر میں اکڑی ہوئی گردنیں، مجرموںکی طرح جھک گئی ہیں اوریہ کرشمہ کسی بندوق یا بلٹ کے زور پر نہیںبلکہ انتہائی پرامن طریقے سے یعنی بیلٹ کے ذریعے ہوا ہے ۔اسی لیے تو جمہوریت کو آج بھی ابھی تک کے تمام سیاسی نظاموں پر فوقیت حاصل ہےکیونکہ اس نے انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ پرامن طریقے سے انتقالِ اقتدار کو ممکن بنایا ،جو جمہوریت کی آمد سے پہلے کسی دیوانےکے خواب کی طرح تھا۔پوری انسانی تاریخ ہر جائز و ناجائز طریقے سے اقتدار کے حصول ، اقتدار کو قائم رکھنے اور اپنے مخالفین کے خون سے ہاتھ رنگنے کا نام تھا۔اسی لیے ریاست کے تمام وسائل عوامی فلاح و بہبود کی بجائے اقتدارکے حصول اور اسے برقرار رکھنے کی تگ ودو میں صرف ہو جاتےتھے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں سے قائم اس جہانِ رنگ و بو میں انسان نے سب سے زیادہ اور برق رفتاری سے ترقی صرف چند سو سال پہلے ہی شروع کی جب انقلابِ فرانس اور برطانیہ کے صنعتی انقلاب کے بعدکلیسا کو سیاست سے علیحدہ کر دیا گیا اور اقتدار کے حصول کیلئے جمہوریت کا پرا من راستہ چنا گیا ۔جس میں ایک مخصوص مدت کے بعد عوام کو اپنے نمائندے یا حکومت چننے کا موقع دیا جانے لگا اور عوامی احتساب کی وجہ سے معاشرے میں علمی، معاشی اور معاشرتی ترقی کے دروازے کھلنےلگے چنانچہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ مہذب معاشرے اور جمہوری اقدار کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ایسے معاشروں میں جب قومی سطح پر کوئی مشکل فیصلے کا وقت آتا ہے تو رائے عامہ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے ۔جس سے مسائل کے حل کیلئے واضح سمت متعین کرنے میں مدد ملتی ہے اور بڑے سے بڑا بحران بھی ٹل جاتا ہے۔ جبکہ ہمارے جیسے ملکوں میں جہاں جمہوریت کے نام پر فسطائیت سے کام لیا جاتا ہے۔ ہر انتخاب بحران حل کرنے کی بجائے پوری قوم کو ایک نئے بحران میں دھکیل دیتا ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں نہ تو انتخابات شفاف اور منصفانہ ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کے نتائج قبول کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ پاکستان میں ہونیوالے70ءکے انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے ملک ٹوٹ گیا۔ جبکہ 1977ءکے انتخابات کے بعد ملک میں ایک طویل مارشل لا لگ گیا ۔جس نے ملک کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا اور پاکستان دہشت گردی کا گڑھ بن گیا جس سے ابھی تک چھٹکارا حاصل نہیں ہوسکا ۔

امریکی تاریخ میں موجودہ بحران بڑے بحرانوں میں سے ایک تھا جس میں منتخب حکومت نے جو وعدے کیے تھے ان میں سرِ فہرست یہ وعدہ تھا کہ امریکہ دنیا میں مزید کسی جنگ کا آغاز نہیں کرے گا لیکن صدر ٹرمپ نے آتے ہی بغیر کسی وجہ کے وینزویلا اور پھر ایران کے خلاف لڑائی کا آغاز کر دیا۔ جس سے پٹرول اور تجارتی نقل و حرکت کا بحران پیدا ہوا اور پوری دنیا خصوصاً امریکہ میں مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان آگیا ۔لیکن عوامی مشکلات کی پروا کیے بغیر ٹرمپ نے نتن یاہو کے ساتھ مل کر پہلے غزہ میں بے گناہ فلسطینیوں کی نسل کشی کی اور پھر ایران پر حملوں کا آغاز کر دیا۔ صدر ٹرمپ کے عامیانہ بیانات سےیقین ہی نہیں آتا تھا کہ وہ امریکہ جیسی سپر پاور کا صدر ہے۔ لگتا تھا وہ تیسری دنیا کے کسی ملک کا ڈکٹیٹر ہے جو تہذیبوں کو تباہ کر دینے کے بیانات دے کر اپنے مظلوم عوام کو بہلا رہاہے۔ کسی کوکچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ٹرمپ اور اس کے چند قریبی ساتھیوں کا ٹولہ امریکہ اور پوری دنیا کو جس تیزی سے تباہی کی طرف لے جا رہا ہے اسے کون روکے گا اور پھر اس کا جواب تین نومبر کو آیا کہ جس ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہو اور جمہوری عمل شفاف ہو وہاں اگر ٹرمپ کی کامیابی کی شکل میں عوام غلطی سے خود ایک بحران کو جنم دے سکتے ہیں تو اس کی اصلاح بھی وہ اسی عمل کے ذریعے کر سکتے ہیں۔ امریکی عوام نے 2024ءمیں صدر ٹرمپ کو منتخب کرنے کی غلطی کا کفارہ تین نومبر 2026 ءکے مڈ ٹرم انتخابات میں کر دیا ہے اور ایک گولی چلائے بغیر ٹرمپ کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے ہیں۔ صرف یہی نہیں ٹرمپ کے علاوہ ایران کی حکومت کی تبدیلی کے سب سے بڑے دعویدار نیتن یاہو کو بھی اپنے عام انتخابات میں ہزیمت اٹھانا پڑی ہے ۔گویا ایران میں حکومتی تبدیلی کے دونوں بڑےکرداروں صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کی اپنی حکومتیں خطرے میں پڑ گئی ہیں ۔

اور یہ نیک کام کسی اور نے نہیں حقیقی منصفانہ انتخابات نے کر دکھایا ہے۔ ٹرمپ اورنیتن یاہو نے اپنے اپنے انتخابات میں مذہبی انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلامو فوبیا سے کام لیا تھا لیکن شومی قسمت کہ اسرائیل میں عرب اتحاد نے پہلی مرتبہ 19 سیٹوں پر کامیابی حاصل کر کے بادشاہ گر کا مقام حاصل کر لیا ہے اور امریکہ میں مصری نژاد مسلمان ڈاکٹر عبدالرحمان محمدالسید نے امریکی تاریخ میں پہلے مسلم سینیٹر بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ یہ کسی ایک شخص کا نہیں اس نظام کا کمال ہے جسے جمہوریت کہتے ہیں۔جو حالات کے مطابق حقیقی لیڈرشپ کو جنم دیتی ہے۔ جن ملکوں میں اشخاص کی بجائے نظام کی حکومت ہوتی ہے وہ زیادہ ہچکولے برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔امریکی مڈ ٹرم انتخابات سے جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان خوفناک جنگ کو روکنے میں مدد ملے گی اور اسکے نتیجے میں مہنگائی اور بےروزگاری میں کمی ہوگی وہیں ہمارے جیسے ملکوں میں بھی جمہوریت پسندوں کا یقین اور حوصلے بلند ہوں گے اور ان کا اس نظریے پر اعتماد پکا ہوگا کہ بدترین جمہوریت بھی بہترین آمریت سے بہتر ہوتی ہےاور جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔

مصنف کے بارے میں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

خالد جاوید جان. «یہ ہے حقیقی جمہوریت.» اقبال فورم، 7 نومبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=54495.

حوالہ دینے کے انداز

خالد جاوید جان. (7 نومبر 2026). یہ ہے حقیقی جمہوریت. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/?p=54495

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔