مکہ دفاعی معاہدہ یا امریکی حکمت عملی کا نیا جال ؟

مکہ دفاعی معاہدہ یا امریکی حکمت عملی کا نیا جال ؟

مکہ مکرمہ کے قصر الصفا میں 7 اگست 2026ء کو سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط مغرب اور جنوب ایشیا میں ایک بڑے سکیورٹی ارتقا کی نمائندگی کرتے ہیں۔ 2025ء کے دوطرفہ سعودی-پاکستان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے اور اسلامی ملٹری کاؤنٹر ٹیررازم کولیشن کے وسیع تر فریم ورک کو بنیاد بناتے ہوئے، یہ سہ فریقی معاہدہ نیٹو طرز کا آرٹیکل 5 کا اجتماعی دفاعی عہد متعارف کرواتا ہے: یعنی ان تینوں ممالک میں سے کسی ایک ریاست پر مسلح حملہ تمام ریاستوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ظاہری طور پر، مکہ معاہدے کا مقصد تین مختلف اسٹریٹجک ستونوں کو یکجا کر کے غیر مبہم لیکن معروف خطرات کے خلاف سہ فریقی ہم آہنگی پیدا کرنا ہے، یعنی سعودی عرب کی مالیاتی طاقت، توانائی کا اثر و رسوخ اور اسلامی دنیا میں مرکزی سفارتی اثر؛ ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی (ڈرونز، ایرو اسپیس، نیول)، جنگ آزمودہ فوجی انفراسٹرکچر اور نیٹو کا آپریشنل تجربہ؛ اور سب سے اہم، پاکستان کی کثیر تعداد میں جنگ دیدہ فوجی افرادی قوت، روایتی ردِعامل کی صلاحیتیں اور ایٹمی صلاحیت۔ تاہم، ایک واضح ’تھریٹ میٹرکس‘ اور مشترکہ جوابی اقدامات کی تشکیل، پیچیدہ علاقائی اور بین الاقوامی جیو پولیٹیکل حقائق کے سامنے سیاسی عزم کے اظہار کا اصل امتحان ہوگی۔
سب سے پہلے علاقائی اثرات، علاقائی امن کے لیے اس کے مثبت و منفی پہلوؤں، اور ممکنہ اسٹیک ہولڈرز کے ردِعمل اور اسٹریٹجک حکمتِ عملی پر نظر ڈالتے ہیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے حکام نے زور دیا کہ ’مسلمانوں کو حقیقی بھائی چارے پر انحصار کرنا چاہیے‘، جبکہ کٹر تبصرہ نگاروں اور ایرانی قانون سازوں نے اس معاہدے کو ایک ’کاغذی معاہدہ‘ قرار دے کر مسترد کر دیا جو حقیقی علاقائی سکیورٹی کا متبادل نہیں بن سکتا۔ تہران اس معاہدے کو اپنے علاقائی محور کے خلاف ایک سنی سکیورٹی بلاک قائم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتا ہے۔ یمنی حوثی افواج نے معاہدے پر دستخط کے وقت ہی یمن میں (مارب اور سعودی سرحدی علاقوں کو نشانہ بناتے ہوئے) ڈرون اور میزائل حملوں میں تیزی لائی۔ حوثی قیادت نے اس انتظام کو یمن پر ناگہانی ناکہ بندی نافذ کرنے اور فوجی دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔
اسرائیل خدشات کی وجہ ترکیہ کا ایک ایٹمی صلاحیت کے حامل پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ باقاعدہ دفاعی اتحاد میں شامل ہونا ہے۔ اسرائیلی اسٹریٹجک منصوبہ ساز اس معاہدے کو مغربی ایشیا کی فضائی حددو اور سمندری راستوں میں اسرائیل کی آپریشنل آزادی کو محدود کرنے کا باعث سمجھتے ہیں۔ ہندوستان کی وزارتِ خارجہ نے نوٹ کیا کہ نئی دہلی ان پیش رفتوں کو ’قریب سے دیکھ رہا ہے‘۔ ہندوستان کے بنیادی اسٹریٹجک خدشات میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان گہرے ہوتے ملٹری انڈسٹریل تعلقات اور خلیجی سکیورٹی پر اس کے اثرات شامل ہیں، جہاں لاکھوں ہندوستانی تارکینِ وطن مقیم ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہندوستان کے لیے یہ بات تشویشناک ہے کیونکہ خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے عربوں ڈالر کے معاہدے منسلک ہیں؛ اس کے علاوہ سعودی عرب اور ترکیہ کا کسی بھی مستقبل کے تنازع میں پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونا بھی ہندوستان کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
جہاں تک تینوں ممالک کے عوام اور پارلیمان کو شامل کیے بغیر ہونے والی اس ناگہانی پیش رفت کے پسِ پردہ کارفرما طاقت یعنی امریکا کا تعلق ہے، تو وہ جنگی تھکن اور وسائل کی کمی کے بعد یقیناً اسے ’اسٹریٹجک برڈن شیئرنگ‘ کا نام دے گا۔ امریکی تجزیہ کار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ اقدام علاقائی خطرات کے خلاف اجتماعی فضائی اور میزائل دفاع کی براہِ راست ذمہ داری علاقائی اتحادیوں کے خود سنبھالنے کے امریکی مطالبے کے عین مطابق ہے۔ تاہم، روس-یوکرین جنگ کی وجہ سے پہلے ہی پریشان نیٹو کا نظام مزید الجھ گیا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن امریکی فوجیوں کی تعنیاتی کا دباؤ کم ہونے کا خیرمقدم کرتا ہے، لیکن ترکیہ کی دوہری پہچان، بطور نیٹو رکن ایک غیر نیٹو باہمی دفاعی معاہدے میں شامل ہونا، انٹیلی جنس شیئرنگ کے پروٹوکولز اور معاہداتی ذمہ داریوں پر ممکنہ کشیدگی کو جنم دیتی ہے۔
کئی سوالات جنم لیتے ہیں، جن میں سے کچھ کے جوابات وقت کے ساتھ مل سکتے ہیں، جبکہ بہت سے ایسے بھی ہو سکتے ہیں جنھیں شاید کبھی نہ چھیڑا جائے۔ کیا مکہ معاہدہ ایران اور اس کے حمایت یافتہ حوثی پروکسیز کو سعودی عرب پر حملوں سے روک سکے گا؟ اگر ایران یا حوثی سعودی عرب، آبنائے ہرمز اور باب المندب میں اپنے نشانات جاری رکھتے ہیں تو سہ فریقی ردِعمل کیا ہوگا؟ اس کے پاکستان-ایران دوطرفہ تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، خاص طور پر بلوچستان میں کشیدگی کے حوالے سے؟ کیا مکہ معاہدہ کی تشکیل سے پہلے ایران کو اعتماد میں لیا گیا تھا؟ یا یہ ہندوستان اور اسرائیل کو ایران کے ساتھ پردے کے پیچھے تعلقات استوار کرنے کا موقع فراہم کرے گا؟ فلسطین میں مظالم کے سلسلے اور ٹرمپ کی سرپرستی میں اسرائیل کی جانب سے متنازع ’ابراہیم ایکارڈز‘ کی طرف خاموش پیش رفت کے ساتھ، کیا ایران امریکی ملٹری اثرات کو نشانہ بنانے کے بہانے خلیجی مسلم ممالک کو نقصان پہنچانا بند کرے گا؟ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے آزاد ہونے کے بعد، ٹرمپ گرین لینڈ، میکسیکو، کیوبا اور دیگر ممالک کے بارے میں اپنے خوابوں کو پورا کرنے کی طرف کتنی جلدی لوٹیں گے، اور عالمی امن پر اس کا کیا اثر ہوگا؟ کیا پاکستان نے چین کو اعتماد میں لیا ہے؟ کیا مکہ معاہدہ نیٹو کی طرز پر مسلم ملٹری الائنس کا پیش خیمہ ہے؟ یا مکہ معاہدہ کا نتیجہ مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں مزید چھوٹے ملٹری اتحادوں کی تشکیل کی صورت میں نکلے گا؟ اندرونِ ملک بے شمار چیلنجز، جیسے دہشت گردی کی لعنت، سیاسی، اقتصادی اور مجموعی سکیورٹی بحرانوں کا سامنا کرتے ہوئے، کیا پاکستان کو مکہ معاہدہ میں بڑا کردار ادا کر کے کوئی معنی خیز سکون ملے گا؟ یا ماضی کی طرح، یعنی 1979-1989ء کی افغان جنگ کی طرح، پاکستان اور سعودی عرب کو اس بار ترکیہ کے ساتھ ملا کر امریکا ان تینوں کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کرے گا؟
اگرچہ پاکستان کے لیے باریک تار پر چلنے کا یہ سفر طویل اور سخت ہوتا جا رہا ہے، تاہم کوئی بھی یہ امید اور دعا کر سکتا ہے کہ مکہ معاہدہ کی تشکیل ’تقسیم میں ہی ہماری بقا ہے‘ کے تصور کو ’اتحاد میں ہی ہماری طاقت ہے‘ کے طویل عرصے سے منتظر خواب میں بدل دے گی۔ یقینا پاکستانی قیادت کو موجودہ پیش رفت سے عارضی گھریلو سیاسی فائدہ حاصل کرنے پر کم اور اس بڑھے ہوئے وقار کو ریاست اور پاکستان کے عوام دونوں کے لیے معاشی فائدے میں بدلنے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے، جو توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، نازک سکیورٹی اور سیاسی افراتفری کی وجہ سے شدید معاشی مشکلات برداشت کر رہے ہیں۔ مکہ معاہدہ کے ملٹری اور انٹیلی جنس سکیورٹی آرکیٹیکچر کی موجودگی میں خلیج سے توانائی کی ہموار فراہمی کے ساتھ، ایران-پاکستان آئل اینڈ گیس پائپ لائن منصوبے کا آپریشنل ہونا ایک اچھا شروعاتی نقطہ ہو سکتا ہے۔

اس مضمون کے مصنفین

سلیم قمر بٹ

سلیم قمر بٹ

سابق بریگیڈیئر

مضمون نویس روزنامہ نوائے وقت ، سابق برگیڈئیر

پروفائل دیکھیں

متعلقہ

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔