اداریہ
یہ تحریر اداریے کے طور پر شائع ہوئی ہے۔ اس کے کسی انفرادی مصنف کے بارے میں مزید معلومات درج نہیں۔
پروفائل دیکھیںفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ ایران خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دورے نے اس امید کو تقویت دی ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنے اور کسی قابلِ قبول سفارتی راستے کی تلاش میں اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں ادا کر سکتا ہے۔یہ دورہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کے امکانات کے اشارے سامنے آ رہے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے یہ تاثر کہ ایران کسی معاہدے کو قبول کرنے کے قریب ہو سکتا ہے، ظاہر کرتا ہے کہ طویل محاذ آرائی کے باوجود سفارت کاری کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ اگر واقعی مذاکرات کسی نتیجے کی طرف بڑھ رہے ہیں تو پاکستان کے لیے اس مرحلے پر ایک ذمہ دار، قابلِ اعتماد اور متوازن کردار ادا کرنے کا موقع موجود ہے۔ ایران اس وقت ایک نہایت پیچیدہ صورتِ حال سے دوچار ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی اس امر کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں کہ ملک کو ’’نہ جنگ نہ امن‘‘ کی کیفیت سے نکالا جائے۔ یہی کیفیت خطے کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ مسلسل دھمکیاں، پابندیاں، فوجی دباؤ، جوابی اقدامات اور محدود نوعیت کی جھڑپیں جاری رہیں تو عدم استحکام مستقل شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ایسی صورتحال نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ پوری عالمی معیشت اور خصوصاً توانائی کی منڈیوں کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔دوسری طرف امریکہ کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ اور پابندیوں کو مزید سخت کرنے کے اعلانات نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ پاکستان نہ صرف ایران کا ہمسایہ ہے بلکہ امریکہ کے ساتھ بھی اس کے تاریخی اور سٹریٹجک تعلقات رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے کسی ایک فریق کے کیمپ میں کھڑے ہونے کے بجائے امن، مذاکرات اور علاقائی استحکام کا مقدمہ پیش کرنا زیادہ دانش مندانہ راستہ ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ ایران اسی وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ پاکستان اگر فریقین کے درمیان پیغام رسانی، اعتماد سازی اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ کرے گا بلکہ خطے میں اس کے ذمہ دارانہ کردار کو بھی نمایاں کرے گا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اصل کامیابی اس بات میں ہوگی کہ ابتدائی رابطوں کو مستقل سفارتی عمل میں تبدیل کیا جائے۔اس وقت سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ امریکہ اور ایران ایک دوسرے پر معاہدوں یا جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے دوبارہ تصادم کی طرف نہ چلے جائیں۔ جنگ کے امکانات صرف میزائلوں اور فوجی تیاریوں سے نہیں بڑھتے، بلکہ غلط فہمی، غلط اندازے اور اشتعال انگیز بیانات بھی کسی بڑے بحران کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لیے موجودہ مرحلے میں ہر ایسا رابطہ جو فریقین کو براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی میز پر واپس لائے، خطے کے مفاد میں ہے۔ پاکستان کے لیے اس سفارتی کردار کے ساتھ ایک اور چیلنج بھی موجود ہے۔ اسے اپنی سرحدی سلامتی اور قومی مفادات کو بھی پیشِ نظر رکھنا ہوگا۔ ایران کے ساتھ دوستانہ اور مستحکم تعلقات پاکستان کی ضرورت ہیں، جبکہ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہیں۔ کامیاب سفارت کاری یہی ہے کہ قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے مختلف فریقوں کے درمیان رابطے کے دروازے کھلے رکھے جائیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ جنگ شروع کرنا نسبتاً آسان، مگر اسے ختم کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ایک میزائل حملہ چند منٹ میں کیا جا سکتا ہے، مگر اس کے سیاسی، معاشی اور انسانی اثرات برسوں تک باقی رہتے ہیں۔ اسی لیے آج ضرورت کسی فریق کی فتح سے زیادہ ایک ایسے سمجھوتے کی ہے جس میں تمام فریق اپنے بنیادی مفادات کے تحفظ کا راستہ تلاش کر سکیں۔پاکستان نے ماضی میں بھی مشکل مواقع پر مختلف ممالک کے درمیان رابطے کا کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ بحران پاکستان کو ایک بار پھر یہ موقع فراہم کر رہا ہے کہ وہ محض تماشائی بننے کے بجائے امن کے لیے عملی سفارت کاری کرے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ ایران اسی کوشش کا ایک اہم حصہ دکھائی دیتا ہے۔ اب اصل امتحان دورے کے بعد شروع ہوگا۔ اگر تہران میں ہونے والی بات چیت کو مسلسل سفارتی رابطوں، اعتماد سازی اور قابلِ عمل تجاویز میں تبدیل کیا جا سکا تو یہ دورہ ایک بڑی سفارتی پیش رفت کی بنیاد بن سکتا ہے۔پاکستان کو اس مرحلے پر ایک واضح پیغام دینا چاہیے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، مذاکرات کا راستہ بہرحال جنگ سے بہتر ہے۔ اگر پاکستان اس راستے کو کھولنے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے تو یہ صرف پاکستان کی سفارتی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے ایک اہم خدمت ہوگی۔ سید عاصم منیر کا دورہ ایران اسی امید کی ایک نئی کھڑکی کھولتا دکھائی دے رہا ہے۔مشرق وسطیٰ ، جنوب مشرقی ایشیا ، یورپ اور افریقہ تک اس جنگ سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ امکانات کی نئی کھڑکی کو مستقل سفارتی راستے میں تبدیل کیا جائے۔
یہ تحریر اداریے کے طور پر شائع ہوئی ہے۔ اس کے کسی انفرادی مصنف کے بارے میں مزید معلومات درج نہیں۔
پروفائل دیکھیں
اے آئی اسسٹنٹ
تیز اور قابل اعتماد جواب