سونو نیوز پاکستان سے گفتگو میں اقبال فورم کے ڈائریکٹر محمد حسین باقری کا ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے مستقبل پر تجزیہ

صہیونی لابی اور جنگ پر کنٹرول یہ جنگ محض اسرائیل کے مفادات کے لیے شروع کی گئی ہے۔ نیتن یاہو واحد فیصلہ ساز نہیں ہیں بلکہ وہ امریکہ اور مغرب میں موجود صہیونی لابی اور اسرائیلی قیادت کے نمائندے ہیں،...

Comment تبصرہ
٩,٢٥٦ آراء ·

صہیونی لابی اور جنگ پر کنٹرول

یہ جنگ محض اسرائیل کے مفادات کے لیے شروع کی گئی ہے۔ نیتن یاہو واحد فیصلہ ساز نہیں ہیں بلکہ وہ امریکہ اور مغرب میں موجود صہیونی لابی اور اسرائیلی قیادت کے نمائندے ہیں، جو اس جنگ کے اصل محرک اور مرکزی قوت ہیں۔ اسی لیے اس جنگ کو ختم کرنا یا جاری رکھنا صرف ٹرمپ کے اختیار میں بھی نہیں ہے۔

 وجودی جنگ

ایران اور اسرائیل کے درمیان یہ ایک “وجودی جنگ” ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ اس نوعیت کی جنگیں کبھی مذاکرات کی میز پر اپنے حتمی انجام تک نہیں پہنچتیں بلکہ اس وقت ختم ہوتی ہیں جب ایک فریق مکمل شکست کھا جائے یا غیر مشروط ہتھیار ڈال دے۔

موجودہ مذاکرات دراصل دونوں فریقوں کے لیے صرف سانس لینے اور وقت حاصل کرنے کا موقع ہیں۔

 کیا تیسری عالمی جنگ قریب ہے؟

نہیں، تیسری عالمی جنگ کے آثار نظر نہیں آتے، کیونکہ اس کے لیے چین اور روس جیسی بڑی طاقتوں کی براہِ راست شمولیت اور مغرب کے ساتھ کھلا تصادم ضروری ہے۔

موجودہ تنازع دراصل اسلامی جمہوریہ ایران اور اسرائیلی ریاست کے درمیان ایک براہِ راست نظریاتی جنگ ہے۔

اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کا بنیادی مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی اور ایک “نئے مشرقِ وسطیٰ” کی تشکیل تھا، لیکن یہ منصوبہ ناکام ہو چکا ہے۔

 مذاکرات میں ایران کا مؤقف اور پیشگی شرائط

ایران مذاکرات کے پہلے مرحلے میں اپنے جوہری پروگرام اور یورینیم کی افزودگی پر کسی قسم کی بات چیت نہیں کرے گا۔

ایران کی بنیادی شرائط درج ذیل ہیں:

 ایران کے منجمد اثاثوں (تقریباً 100 سے 120 ارب ڈالر) کے ایک حصے کی رہائی، تاکہ دوسرے فریق کی نیک نیتی ثابت ہو سکے۔

اقتصادی محاصرے کا خاتمہ، تاکہ ایران بھی مرحلہ وار آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول سکے۔

ٹرمپ جنگ اور فوجی کارروائیوں میں جو کچھ حاصل نہیں کر سکے، وہ مذاکرات کی میز پر حاصل کرنا چاہتے ہیں، جو ایک سادہ لوحانہ سوچ ہے۔

 آبنائے ہرمز؛ ایران کا ایٹمی ہتھیار

ایران کا مؤقف مکمل طور پر سنجیدہ ہے؛ آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں جائے گی۔

عام تجارتی جہازوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، تاہم مخالف ممالک کے جہازوں کو گزرنے کے لیے خدماتی اخراجات ادا کرنا ہوں گے۔

آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت ایران کے لیے کسی بھی ایٹمی بم سے زیادہ طاقتور ہے اور ایران اس دباؤ کے ذریعے بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔

 ٹرمپ کا کامیابی کا کارڈ

ٹرمپ کو اس بحران سے نکلنے کے لیے ایک سیاسی کامیابی درکار ہے تاکہ وہ اسے اپنے عوام کے سامنے پیش کر سکیں۔

چونکہ ایرانی قیادت کے فتوے کے مطابق ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کا خواہاں نہیں رہا، اس لیے ٹرمپ پرامن مقاصد کے لیے افزودگی کی سطح (مثلاً 3 سے 5 فیصد) پر کسی معاہدے کو اپنی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کر سکتے ہیں اور اسی بنیاد پر جنگ سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔

 خلیجی ممالک کے ساتھ کشیدگی

ایران نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ اس کی سرزمین پر کسی بھی حملے کا جواب خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر شدید کارروائی کی صورت میں دیا جائے گا۔

کویت میں حالیہ حملے امریکی میرین فورسز کی کارروائیوں کا جواب تھے۔

علاقائی ممالک بخوبی جانتے ہیں کہ اگر جنگ وسیع ہو گئی اور بجلی گھروں، پانی صاف کرنے والے پلانٹس اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، تو گرمیوں کے موسم میں پورا خطہ شدید تباہی کا شکار ہو سکتا ہے۔

اسی لیے ایران اور امریکہ کے درمیان تصادم محدود جوابی حملوں تک رہے گا اور ایک مکمل علاقائی جنگ میں تبدیل نہیں ہوگا

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔