14:05

پاکستان کے 24 نیوز چینل کے پروگرام میں اقبال فورم کے ڈائریکٹر محمد حسین باقری کے خیالات

امریکہ کے مقابلے میں ایران کی چار مرحلوں پر مشتمل حکمتِ عملی: “مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں” مقرر کے مطابق، یہ خیال کہ ایران ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کسی “امن پسند ٹویٹ” کا انتظار کر رہا ہے، مکمل طور...

Comment تبصرہ
٩,٢٥٦ آراء ·

امریکہ کے مقابلے میں ایران کی چار مرحلوں پر مشتمل حکمتِ عملی: “مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں”

مقرر کے مطابق، یہ خیال کہ ایران ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کسی “امن پسند ٹویٹ” کا انتظار کر رہا ہے، مکمل طور پر غلط ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں ایران نے امریکہ کے ساتھ تین مرتبہ مذاکرات کیے، لیکن ہر مرتبہ مذاکرات کے دوران اس پر حملہ ہوا۔ اسی وجہ سے، ان کے مطابق، ایرانی قیادت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں۔

اسی بنیاد پر، مقرر کے مطابق، ایران نے چار مرحلوں پر مشتمل حکمتِ عملی اختیار کی ہے:

1. عالمی توانائی کی منڈی پر شدید دباؤ ڈالنا

مقرر کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب مزید ایک یا دو ماہ تک بند رہیں تو بین الاقوامی کمپنیاں، خلیجی ممالک اور یورپی یونین شدید توانائی بحران کا شکار ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق، اس سے امریکہ کے اندر صدر ٹرمپ پر اپنی پالیسی تبدیل کرنے کے لیے غیر معمولی دباؤ بڑھے گا۔

2. دشمن کے لاجسٹک نظام کو نشانہ بنانا

مقرر کا دعویٰ ہے کہ ایران نے ان فوجی اڈوں اور لاجسٹک مراکز کی نشاندہی کر لی ہے جہاں سے اس کی سرزمین پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے، جن میں اردن، بحرین، کویت اور دیگر مقامات شامل ہیں۔ ان کے مطابق، ایران انہیں ایک ایک کر کے منتخب انداز میں نشانہ بنائے گا۔

3. مسلسل روزانہ نقصان پہنچانا

مقرر کا دعویٰ ہے کہ ایران روزانہ 40 سے 50 میزائل خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی طرف داغ رہا ہے۔ ان کے مطابق، انسانی تاریخ میں یہ ایک بے مثال صورتحال ہے کہ ایران جیسا ملک روزانہ ایک سپر پاور کے تقریباً دس فوجی اڈوں کو میزائل حملوں کی زد میں رکھے۔

4. جنگ کا دائرہ مزید وسیع کرنا (آخری فیصلہ کن مرحلہ)

مقرر کے مطابق، آخری مرحلے میں ایران باب المندب کو مکمل طور پر جنگی حکمتِ عملی کا حصہ بنائے گا اور بحیرہ احمر میں شدید بدامنی اور رکاوٹیں پیدا کرے گا۔

مقرر کا نتیجہ

مقرر کے مطابق، ان اقدامات سے امریکہ ایک اسٹریٹجک بند گلی میں پھنس جائے گا۔ ان کے خیال میں واشنگٹن کے پاس صرف دو راستے رہ جائیں گے: یا تو ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے زمینی فوجی کارروائی کرے، یا پھر پیچھے ہٹ کر ایران کی شرائط قبول کرے۔ ان کے مطابق، اس کے علاوہ کوئی تیسرا راستہ موجود نہیں

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔