اقبال فورم کے سربراہ محمد حسین باقری کا پاکستان کے مقبول جیو نیٹ ورک سے گفتگو میں تجزیه
محمد حسین باقری نے اس انٹرویو میں آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جھڑپوں، ایران کی مزاحمتی صلاحیت اور موجودہ صورتحال کے بنیادی اسباب کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اپنے مؤقف کو درج ذیل اہم نکات میں...
محمد حسین باقری نے اس انٹرویو میں آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جھڑپوں، ایران کی مزاحمتی صلاحیت اور موجودہ صورتحال کے بنیادی اسباب کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اپنے مؤقف کو درج ذیل اہم نکات میں بیان کیا:
ایران–عراق جنگ کے آخری دور، سنہ 1988، سے تاریخی موازنہ
باقری کے مطابق، 1988 میں جب ایران نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 598 قبول کی، تو اس وقت سپاہ پاسداران کے کمانڈر نے امام خمینی کے نام ایک خط میں لکھا تھا کہ خلیج فارس کی جنگ میں امریکہ کی براہِ راست مداخلت کے باعث ایران امریکی بحری افواج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
تاہم، تقریباً 40 سال بعد صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔ اگرچہ امریکی فوجی ٹیکنالوجی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ جدید ہے، لیکن امریکہ اپنے جنگی جہازوں کی موجودگی کے باوجود تقریباً 30 کلومیٹر چوڑی اس آبی گزرگاہ میں بحری جہازوں کی مکمل حفاظت یقینی نہیں بنا سکا۔
ایران کی عسکری طاقت کے توازن میں تبدیلی
باقری کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی عسکری صلاحیت کو اب اپنی سرحدوں سے آگے تک وسعت دے دی ہے۔ انہوں نے اس کی مثال کے طور پر اردن اور شام میں امریکی اڈوں اور رسدی مراکز پر ایران کے حالیہ حملوں کا حوالہ دیا۔
انہوں نے زور دیا کہ آج کا ایران وہ ملک نہیں جو اپنی سرحدوں پر کمزوری کے باعث کسی قرارداد پر دستخط کرنے پر مجبور ہو جائے۔ اب ایران پورے خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے، جو اس کے مخالفین کے لیے انتہائی تشویش ناک ہے۔
امریکہ کے لیے آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت
باقری نے آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو امریکہ کے لیے ایک ایسے “بلیک ہول” سے تشبیہ دی جس سے نکلنا اس کے لیے ممکن نہیں۔
ان کے مطابق، اسی وجہ سے امریکہ متبادل راستوں، مثلاً عمانی راہداری، کو فعال کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ آبنائے ہرمز پر ایران کی بالادستی کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
جھڑپوں کے دوبارہ آغاز اور معاہدے کی خلاف ورزی کی وجہ
باقری نے کہا کہ ایرانی عوام ایک مہذب قوم ہیں اور انہوں نے پوری تاریخ میں کسی ملک پر جارحانہ حملہ نہیں کیا۔
حالیہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد بھی 30 بحری جہاز ایران کی نگرانی میں، بغیر ایک گولی چلائے، بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزرے۔
ان کے مطابق، جھڑپیں دوبارہ شروع ہونے کا اصل ذمہ دار امریکہ ہے، کیونکہ اس نے جہازوں کو عمانی راہداری استعمال کرنے کی ترغیب دی اور انہیں فوجی تحفظ فراہم کیا۔ اس طرح اس نے مفاہمتی یادداشت کی ان شقوں کی کھلی خلاف ورزی کی جن کے تحت تمام بحری جہازوں کو ایران کی نگرانی میں آبنائے ہرمز سے گزرنا تھا۔
باقری کے مطابق، اس اقدام نے ایران کی سلامتی اور قومی وقار کو چیلنج کیا، اس لیے ایران ان خطرات کے مقابلے میں خاموش نہیں رہ سکتا تھا۔
جنگ کی قیمت اور ایرانی عوام کا مؤقف
انہوں نے تسلیم کیا کہ طویل جنگ ایران کے مفاد میں نہیں اور اس کے نتیجے میں مہنگائی، معاشی مشکلات، جانی نقصان اور شہادتوں جیسے بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
تاہم، جب ملک کی سلامتی، بقا اور زندگی و موت کا مسئلہ درپیش ہو تو پھر نفع و نقصان کا حساب نہیں کیا جا سکتا۔
باقری کے نزدیک حتمی حل
اقبال تھنک ٹینک کے سربراہ کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ کے تمام بنیادی مسائل کی جڑ خلیج فارس کے علاقے میں امریکی موجودگی ہے۔
باقری نے کہا کہ اگر امریکہ، جو ان کے مطابق اسرائیل کی حمایت کے لیے خطے میں فوجی اڈے قائم کیے ہوئے ہے، آج ہی اپنے اڈے ختم کر کے واپس چلا جائے تو ایران ایک گولی بھی نہیں چلائے گا۔
ان کے مطابق، امریکہ دنیا اور خطے میں تقریباً 800 فوجی اڈے رکھتا ہے اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے خلیجی ممالک کو قربان کرنا چاہتا ہے۔
لہٰذا، اگر کسی کو جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے تو عالمی رائے عامہ کو ایران کے بجائے امریکہ سے سوال کرنا چاہیے