سنو نیوز کے ساتھ گفتگو میں اقبال فورم کے ڈائریکٹر محمد حسین باقری کے خیالات کا خلاص
ی محمد حسین باقری کے مطابق بعض تجزیہ کار یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اس جنگ کا آغاز ایران نے نہیں کیا۔ عوام کے اندر امریکہ پر عدم اعتماد کے باوجود ایران نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ 14 نکاتی...
ی
محمد حسین باقری کے مطابق بعض تجزیہ کار یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اس جنگ کا آغاز ایران نے نہیں کیا۔ عوام کے اندر امریکہ پر عدم اعتماد کے باوجود ایران نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تاکہ سفارت کاری کو ایک موقع دیا جا سکے۔ ان کے مطابق اگر مستقبل میں کوئی حقیقی سفارتی موقع پیدا ہوتا ہے تو ایران اس کے لیے تیار رہے گا۔
2۔ امریکہ کی وعدہ خلافی اور عمان کوریڈور
باقری کے مطابق امریکہ نے معاہدے کی تقریباً تمام شقوں کی خلاف ورزی کی۔ ایران کے منجمد اثاثے آزاد نہیں کیے گئے، اور آبنائے ہرمز سے ایران کی نگرانی میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے بجائے امریکہ نے “عمان کوریڈور” کے نام سے ایک متبادل راستہ قائم کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز کے بجائے عمان کے راستے سے گزرنے کی ترغیب دی اور اپنی جنگی بحریہ کو ان کی حفاظت کے لیے تعینات کیا، جس سے ایران کی آبنائے ہرمز پر موجود اسٹریٹجک برتری متاثر ہوئی۔
3۔ ایران نے اسٹریٹجک صبر کیوں ختم کیا؟
اس سوال کے جواب میں کہ ایران نے اپنے رہنما کی تدفین کے دوران مزید صبر کیوں نہ کیا، باقری نے کہا کہ معاملہ صرف معیشت یا عارضی سکون کا نہیں بلکہ قومی خودمختاری کا تھا۔
ان کے مطابق اگر ایران عمان کوریڈور کے قیام پر خاموش رہتا تو وہ اپنی سب سے اہم اسٹریٹجک طاقت، یعنی آبنائے ہرمز، کھو دیتا، جس کی جغرافیائی اہمیت دنیا نے چالیس روزہ جنگ کے دوران محسوس کی۔ ان کے بقول ایران نے اس لیے ردعمل دیا کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ خاموشی کی صورت میں ملک کا پورا اسٹریٹجک نظام کمزور ہو جائے گا۔
4۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ منظرنامے
باقری نے مستقبل کے لیے چار ممکنہ منظرنامے پیش کیے:
- جنگ کے ساتھ مذاکرات: موجودہ صورتحال برقرار رہے، محدود کشیدگی جاری رہے اور امریکہ ایران کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے سے روکے، لیکن مکمل جنگ سے گریز کرے۔
- وسیع پیمانے پر جنگ کی واپسی (زیادہ ممکنہ منظرنامہ): ان کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں میں ایران کے 170 مقامات پر امریکی حملوں کے بعد مکمل جنگ کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
- بحری ناکہ بندی: امریکہ ایران کی درآمدات اور برآمدات کو مکمل طور پر روکنے کی کوشش کرے، اگرچہ باقری کے مطابق ایران اس کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
- امریکہ کی جانب سے ایران کی تجاویز قبول کرنا: ان کے مطابق صدر ٹرمپ کے گرد موجود اسرائیل نواز لابیاں اس امکان کو بہت کمزور بنا دیتی ہیں۔
5۔ مبینہ 170 امریکی حملوں کا تجزیہ
باقری کے مطابق بندر عباس، بوشہر، چابہار اور دیگر مقامات پر مبینہ 170 حملے اتفاقی نہیں تھے بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت کیے گئے۔
ان کے مطابق حملوں کا آغاز ساحلی علاقوں سے ہوا اور پھر اندرونی اور جنوب مغربی علاقوں کی طرف پیش قدمی کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ مقصد صرف میزائل تباہ کرنا نہیں بلکہ ایران کی دفاعی لائنوں اور رسد کے راستوں کو پیچھے دھکیلنا اور ایران کی بحالی اور ردعمل کی رفتار کا جائزہ لینا تھا۔ ان کے نزدیک یہ ممکنہ طور پر ایک بڑی جنگ کی تیاری ہے۔
6۔ جوابی کارروائیاں اور نقصانات
باقری نے تسلیم کیا کہ ایران کے دفاعی نظام کو نقصان پہنچا ہے اور ایران کے پاس امریکہ جیسی جدید فضائی دفاعی صلاحیتیں موجود نہیں ہیں۔
تاہم ان کے مطابق ایران کی حکمت عملی میزائلوں، ڈرونز اور تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے اور خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے پر مبنی ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اردن میں امریکی کمانڈ مراکز، کویت میں پیٹریاٹ نظام، متحدہ عرب امارات کے الظفرہ فضائی اڈے پر حملے کیے گئے جبکہ فجیرہ بندرگاہ بھی مؤثر طور پر غیر فعال ہو گئی۔
ان کے مطابق ایران کی منطق یہ ہے: “اگر ہم آبنائے ہرمز استعمال نہیں کر سکتے تو کسی اور کو بھی استعمال نہیں کرنے دیں گے۔”
7۔ یمن (حوثیوں) کا کردار اور سعودی عرب کی صورتحال
باقری کے مطابق یمن کے حوثیوں نے خود کو ایران کے ساتھ “محورِ مزاحمت” کا حصہ قرار دیا ہے اور وہ باب المندب میں بھی آبنائے ہرمز جیسا ماڈل نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کے خیال میں چالیس روزہ جنگ کے دوران سب سے زیادہ معاشی فائدہ سعودی عرب نے اٹھایا کیونکہ اس نے اپنی مشرق سے مغرب جانے والی پائپ لائنوں کے ذریعے تیل کی برآمدات میں اضافہ کیا۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ مکمل پیمانے پر پھیلتی ہے اور حوثی بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو غیر محفوظ بنا دیتے ہیں تو سعودی عرب کی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے