محمد حسین باقری، ڈائریکٹر اقبال فورم، کا فیڈرل پوسٹ ڈیجیٹل میڈیا سے گفتگو کا خلاص

ہ 1. ایران کے بارے میں امریکہ اور ٹرمپ کی حکمتِ عملی واشنگٹن کی پالیسی کو تین الفاظ میں سمیٹا جا سکتا ہے: معیشت، سیاست اور جنگ۔ ٹرمپ اپنے سیاسی ہدف (ایران میں نظام کی تبدیلی) اور معاشی ہدف (ایران...

Comment تبصرہ
٩,٢٥٦ آراء ·

ہ

1. ایران کے بارے میں امریکہ اور ٹرمپ کی حکمتِ عملی

واشنگٹن کی پالیسی کو تین الفاظ میں سمیٹا جا سکتا ہے: معیشت، سیاست اور جنگ۔

ٹرمپ اپنے سیاسی ہدف (ایران میں نظام کی تبدیلی) اور معاشی ہدف (ایران کے توانائی وسائل پر غلبہ حاصل کرنا اور اس کی ممکنہ 28 ٹریلین ڈالر کی معیشت کو روکنا) میں ناکام رہے۔ ان کے اہداف مسلسل تبدیل ہوتے رہے ہیں۔

امریکہ صرف عسکری میدان میں کامیاب رہا، جہاں اس نے اپنی دفاعی صنعتوں کو فروغ دیا اور خلیجی ممالک کو بڑے پیمانے پر اسلحہ فروخت کیا۔

2. میدانِ جنگ اور کاغذی جنگ بندی

کاغذ پر جنگ بندی کے دعووں کے باوجود، باہمی حملے (چابہار/بندر عباس پر حملوں کے مقابلے میں کویت اور بحرین پر میزائل حملے) “جوابی تصادم” کی حکمتِ عملی کے تحت جاری ہیں۔

یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک ٹرمپ باعزت انخلا کے لیے کوئی “کامیاب سفارتی یا سیاسی کارڈ” حاصل نہیں کر لیتے۔

3. علاقائی سفارت کاری

عام تصورات کے برعکس، تہران اور واشنگٹن دونوں اب بھی پاکستان کو اس بحران میں بنیادی ثالث اور اہم سیاسی رابطہ سمجھتے ہیں۔

قطر کا کردار صرف مالی نوعیت کا تھا اور ایران کے منجمد شدہ 6 ارب ڈالر کی رہائی تک محدود رہا۔ دوحہ خلیج تعاون کونسل کے ارکان کی حساسیت کے باعث سیاسی ثالثی میں فعال کردار ادا نہیں کرنا چاہتا۔

عمان نے ایران کی علاقائی اہمیت اور آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک حیثیت کو سمجھتے ہوئے اس آبی گزرگاہ کے مشترکہ انتظام کو قبول کیا ہے۔ عمان اور ترکی اب دبئی سے ایرانی کمپنیوں کی منتقلی کے اہم مراکز بن چکے ہیں۔

بلوچستان میں بدامنی کے باعث پاکستان تقریباً 40 ارب ڈالر کی اس تجارتی منتقلی کو اپنی جانب متوجہ کرنے کا موقع کھو بیٹھا۔

4. ایران اور اسرائیل کا تصادم؛ آبادیاتی بحران اور نیتن یاہو کا مستقبل

ایران اور امریکہ کے تنازع کے برعکس، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشمکش ایک نظریاتی اور وجودی جنگ ہے جس کا حل مذاکرات سے ممکن نہیں، بلکہ صرف ایک فریق کی شدید کمزوری سے ممکن ہے۔

اسرائیل اندرونی تقسیم اور آبادیاتی بحران کا شکار ہے۔ مقبوضہ علاقوں میں عرب آبادی کی تیز رفتار افزائش مستقبل میں “گریٹر اسرائیل” کے منصوبے کو ناکام بنا سکتی ہے۔

نیتن یاہو آئندہ پانچ ماہ میں متوقع انتخابات کے پیش نظر جنگ کو طول دے کر عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ممکن ہے کہ ٹرمپ ایک نئے جوہری معاہدے کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہوئے اور ایران کے بعض اثاثوں کی واپسی کے ذریعے جنگی بحران سے باہر نکل جائیں، لیکن ایران اور اسرائیل کے درمیان پراکسی جنگ اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک تل ابیب پر دو ریاستی حل مسلط نہیں کیا جاتا۔

5. لبنان کی سرخ لکیر اور زمینی حملے کا منظرنامہ

ایران کی جانب سے یہ سخت انتباہ کہ بیروت پر زمینی حملے کی صورت میں اسرائیل کے اندر 250 میزائل داغے جائیں گے اور باب المندب کو بند کر دیا جائے گا، نے وقتی طور پر اسرائیلی فوج کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔

لبنان کے آئندہ انتخابات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسرائیل کے خلاف لبنانی فوج، حکومت اور حزب اللہ کے درمیان موجودہ ہم آہنگی، حزب اللہ کی انتخابی کامیابی کی صورت میں مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔

اگر اسرائیل بیروت کے شیعہ اکثریتی علاقوں پر حملہ کرتا ہے تو ایران براہِ راست اسرائیل پر بمباری کرے گا۔

6. حتمی مؤقف اور پاکستان کے لیے انتباہ

پاکستان نے اب تک نہایت مہارت کے ساتھ سفارتی توازن برقرار رکھا ہے، لیکن اسے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو قابلِ اعتماد شراکت دار نہیں ہیں۔

آئندہ ایک ماہ کے دوران یا تو اسلام آباد جنگ بندی کے معاہدے کی میزبانی کرے گا، یا بحران جاری رہنے کی صورت میں اسے امریکہ کے مفادات اور ایران کے ساتھ ہمسائیگی کے درمیان ایک مشکل انتخاب کرنا پڑے گا۔

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔