اقبال فورم کے سربراہ محمد حسین باقری کے علاقائی صورتحال پر تازہ خیالات

ان دنوں تہران، اسلام آباد اور بیروت کے درمیان بیک وقت جاری سیکیورٹی اور سفارتی سرگرمیوں کو محض معمول کے دوروں کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ میرے نزدیک یہ تمام تحرکات ایک وسیع علاقائی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں،...

Comment تبصرہ
٩,٢٥٦ آراء ·

ان دنوں تہران، اسلام آباد اور بیروت کے درمیان بیک وقت جاری سیکیورٹی اور سفارتی سرگرمیوں کو محض معمول کے دوروں کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ میرے نزدیک یہ تمام تحرکات ایک وسیع علاقائی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

اسی تناظر میں، پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے محسن نقوی کے ذریعے ایران کو خصوصی پیغام بھیجنا، اور تقریباً اسی وقت لبنان کے آرمی چیف جنرل روڈولف ہیکل کو فوری طور پر اسلام آباد مدعو کرنا، نہایت معنی خیز اور اہم پیش رفت ہے۔

خصوصی بات یہ ہے کہ لبنان کے آرمی چیف اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فوجیوں کی تدفین کی تقریب میں شرکت کے فوراً بعد پاکستان روانہ ہوئے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پسِ پردہ اعلیٰ سطح پر اہم رابطے اور ہم آہنگیاں جاری ہیں۔

پاکستان اس وقت صرف ایک روایتی اتحادی کا کردار ادا نہیں کر رہا بلکہ خود کو ایک “بحران اور کشیدگی کے منتظم” کے طور پر پیش کر رہا ہے، جو مختلف طاقتوں کے درمیان رابطے کے ذرائع کو فعال رکھ سکتا ہے۔

امریکہ بھی بخوبی جانتا ہے کہ اگر حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان بڑی جنگ چھڑ گئی تو پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا اور ایران و امریکہ مذاکرات بھی متاثر ہوں گے۔

اسی لیے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوششیں اس امر پر مرکوز ہیں کہ لبنانی فوج کو کسی بڑے تصادم میں داخل ہونے سے روکا جائے تاکہ وہ لبنانی حکومت کے ساتھ مل کر حالات کو قابو میں رکھ سکے۔

پاکستان اس پورے عمل میں اپنے لیے ایک نیا جغرافیائی و سیاسی کردار تلاش کر رہا ہے۔ اسلام آباد چاہتا ہے کہ وہ تہران، واشنگٹن، ریاض، بیجنگ اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان ایک قابلِ اعتماد رابطہ کار کے طور پر سامنے آئے۔

اس تناظر میں جنرل عاصم منیر کا کردار انتہائی اہم دکھائی دیتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ مستقبل میں ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی بڑی پیش رفت یا معاہدے کی صورت میں اسلام آباد مرکزی کردار ادا کرے۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑی سفارتی کامیابی ہوگی اور عالمی سطح پر اس کی اہمیت میں مزید اضافہ کرے گی، اگرچہ کسی حد تک یہ عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔

لہٰذا بعید نہیں کہ پاکستان مختلف سفارتی اور سیکیورٹی ذرائع استعمال کرتے ہوئے لبنان کے محاذ کو پُرسکون رکھنے اور ایران و امریکہ مذاکرات کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہو۔

تاہم زمینی حقائق شاید ان بلند پرواز سیاسی تصورات اور سفارتی منصوبوں سے کچھ مختلف نظر آتے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران جنوبی ایران کے ساحلی علاقوں میں مختلف مقامات اور کشتیوں کو امریکی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب لبنان اور فلسطین میں اسرائیلی حملے مسلسل شدت کے ساتھ جاری ہیں۔

ایران نے واضح طور پر یہ پیغام دیا ہے کہ اگر لبنان میں جنگ بندی قائم نہیں ہوتی تو ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی بھی جنگ بندی یا مفاہمت طویل مدت تک برقرار نہیں رہ سکے گی۔

مزید برآں، ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک اس کے منجمد مالی وسائل کا ایک حصہ آزاد نہیں کیا جاتا، وہ کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقرر کردہ 60 روزہ مہلت بھی اپنے اختتام کے قریب پہنچ رہی ہے۔

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا خطہ ایک نئی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے، یا فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پسِ پردہ سفارت کاری ایک بار پھر جنگ بندی میں توسیع اور اس کے استحکام میں کامیاب ہو جائے گی؟

آنے والے دنوں میں اس سوال کا جواب صرف سیاست اور جنگ کا میدان ہی دے سکے گا

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔