مرکزی مواد پر جائیں

حرم کی پاسبانی کا اعزاز

امتِ مسلمہ کی امیدوں کے مرکز حرمین شریفین اور سعودی عرب کے تحفظ کے لیے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت ضروری عسکری صلاحیتیں فوری منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

حرمین شریفین کی حفاظت

اُمت مسلمہ کی امیدوں کا مرکز حرمین شریفین کے گرد منڈلاتے خطرات کے پیش نظر مکہ دفاعی معاہدے کے مطابق سعودی عرب میں ضروری فوجی صلاحیتیں فراہم کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ریاض میں مکہ دفاعی اتحاد کے اجلاس سے پہلے آئندہ تین سال کے لئے مقرر ہونے والے سیکرٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود نے ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ ریاض میں قائم ہیڈ آفس میں ہونے والے غیر معمولی اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان،سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، ترک وزیر دفاع یشار گولہ، ترک آرمی چیف آف جنرل سٹاف ہجوک بایر اکتار،سعودی چیف آف جنرل سٹاف جنرل فیاض بن حامد، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، سیکرٹری اتحاد لیفٹیننٹ جنرل(ر) نعمان محمود شریک ہوئے۔اجلاس نے اتحاد، اجتماعی دفاع اور خطرات کا مقابلہ کرنے کا پختہ عزم کرتے ہوئے حوثیوں کی طرف سے گھناؤنے حملوں کی مذمت کی، اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے مطابق دفاعی صلاحیتیں فوری سعودیہ منتقل ہوں گی۔ حرمین شریفین کی حفاظت کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے کی منظوری دی گئی۔ سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی قسم کی بھی جارحیت کا مقابلہ اور منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ ہوا۔ پہلے باضابطہ اجلاس میں سعودی عرب کے مختلف شہروں اور مکہ مدینہ میں ہونے والے حملوں کے ذمہ دار حوثیوں کا نام لئے بغیر مذمت کی گئی۔ حرمین شریفین پر کٹ مرنے اور قربان ہونے کا جذبہ اُمت مسلمہ کے ہر نوجوان کے اندر موجود ہے۔ حرمین شریفین ہر مسلمان کی ریڈ لائن ہے وہاں جانا وہاں مر جانا ہر ایک کی دِلی تمنا ہے۔ حرم کی پاسبانی کا اعزاز پاکستان اور ترکیہ کو ملنا دونوں ممالک کے ساتھ،دونوں کے عوام کے لئے بھی بڑا اعزاز ہے۔ سعودی عرب کو قائم ہوئے96 سال ہو گئے ہیں،وہاں آل سعود نے جس انداز میں کام کیا اسلامی معاشرت کو تقویت دی ہے۔ قرآن و سنت کو دستور بنایا ہے دنیا بھر سے عمرہ اور حج کے لئے آنے والوں کیلئے جدید ترین سہولیات کو یقینی بنایا ہے یقینا وہ قابل ستائش ہے گزشتہ کچھ ماہ سے ان دو شہروں مکہ مدینہ جن کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لے رکھا ہے پر مبینہ حملوں سے عالم اسلام سراپا احتجاج ہے پاکستان کا بچہ بچہ حرمین شریفین پر قربان ہو نے کیلئے تیار ہے۔ پاکستانی حکمرانوں اور فیلڈ مارشل کے اقدامات سے اختلاف کا حق ہر کسی کو حاصل ہے مگر جو سفارت کاری اور دور اندیشی پاک سعودیہ سٹرٹیجک معاہدے کی تکمیل ہوئی اور پاک سعودیہ، ترکیہ تین ممالک کے مکہ دفاعی معاہدے کی شکل میں جو اتحاد سامنے آیا وہ اُمت مسلمہ کیلئے بہت بڑی نوید ہے۔ دنیا بھر کے57 سے زائد ممالک میں بسنے والے اربوں مسلمانوں کی دِلی تمنا تھی کہ عالم اسلام کو ایک ہونا چاہئے۔ حرمین شریفین کو مرکز و محور ہونا چاہئے۔ مائیں، بہنیں، بزرگ سالوں سے دُعائیں کرتے آ رہے تھے یقینا یہ دعاؤں کا صلہ ہے مکہ دفاعی معاہدہ کا قیام عمل میں آیا۔
پاک ترکیئے اور سعودیہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے اثرات خطے میں نظر آنا شروع ہو گئے ہیں بہت سے ممالک اس اتحاد کا حصہ بننے کے لئے بیتاب ہیں پاکستان کی سفارتکاری اور ایران کے ساتھ یکجہتی کی وجہ سے ایران جس کو حوثیوں کا پشتی بان کہا جاتا تھا وہ حوثیوں سے لاتعلقی کا اعلان کر رہا ہے اس میں بھی کوئی دو آراء نہیں، ایران، امریکہ اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے پورے عالم اسلام سے جڑے ہوئے ممالک کو ایک دفعہ بیدار ہونے اور اپنی پالیسیاں دوبارہ بنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اسرائیل، بھارت، افغانستان گٹھ جوڑ بھی اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا۔اسرائیل اور امریکہ کس طرح بھارت اور افغانستان کے ذریعے پاکستان کے داخلی اور خارجی محاذوں پر میدان لگائے ہوئے ہیں پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہونے والی سازشوں کو جس طرح ہماری پاک فوج اور اداروں نے بے نقاب کیا وہ قابل ستائش ہے البتہ سعودی عرب کی امریکہ سے حوثیوں کے خلاف مدد کی اپیل میں امریکہ کی طرف سے جواب اور لاتعلق رہنے کے فیصلے نے پورے خطے میں نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ امریکہ جو ہر سطح پر سعودی عرب کے شانہ بشانہ نظر آتا ہے کا حوثیوں کے سعودی شہروں سمیت مکہ مدینہ میں ناکام حملوں پر لاتعلق ہونا عالم اسلام کے لئے بڑا اشارہ ہے۔ اب سوال اٹھتا ہے حوثی کون ہیں، یمن کی سرزمین پر ان کا کیا کردار ہے؟یقینا میرے سمیت پاکستان کی بڑی آبادی سنی سنائی باتوں اور سوشل میڈیا پر چلنے والے ٹیکر سے زیادہ آگاہ نہیں ہو گی۔ یمن کی سرزمین نبیوں کی زمین ہے۔ یمن، شام، لبنان، ایران، عراق ملحقہ ممالک میں درجنوں نبی آئے اور دعوت دین کی سرفرازی کے لئے ذمہ داری ادا کرتے رہے اور بعض دین فطرت پر قربان بھی ہو گئے۔سوال اُٹھتا ہے کیا یمن عالم اسلام کے خلاف ہے اسلامی ممالک کے خلاف برسر پکار ہے، ہر گز نہیں۔
حضرت سلمان علیہ السلام اور ملکہ صبا کے یمن میں حوثی قبیلہ آباد ہے یمن ایک قدیم ملک ہے کئی قدیمی تہذیبوں کے سنگم پر رہا ہے۔ حضرت سلمان علیہ السلام اور ملکہ صبا کے قصے تاریخ کا حصہ ہیں۔ یمن، سعودی عرب اور متحدہ امارات جیسے بہت سے ممالک سے پہلے سے قائم ہے کئی صدیوں تک شمالی یمن میں زیدی اماموں کی حکومت رہی جن کا دعویٰ تھا وہ ہاشمی نسل سے ہیں۔1962ء میں شمالی یمن میں ایک انقلاب آیا ہے زیدی اماموں کی ایک ہزار سالہ حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ یمن برطانیہ اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان تقسیم بھی رہا پھر متحد ہوا لیکن وہاں آباد حوثیوں کو ناانصافی کی ہمیشہ شکایت رہی۔ حوثیوں کی تحریک کو انصار اللہ کہا جاتا ہے۔ یمنی حکومت کے ساتھ حوثیوں کے تصادم کا آغاز2004ء کو اس وقت ہوا جب حکومت نے ایک زیدی شیعہ لیڈر رکن اسمبلی حسین بدر الدین الحوثی کو گرفتار کرنا چاہا،پہلے یہ لڑائی دو صوبوں تک محدود رہی۔2014ء میں دارالحکومت صنعا پر حوثیوں کے قبضے کے بعد2015ء میں سعودی قیادت اتحاد کی مداخلت کے بعد بھرپور خانہ جنگی میں تبدیل ہو گئی۔سعودی عرب کے اتحاد کی مداخلت کی وجہ سے باہم لڑائی کا آغاز ہوا، ٹرمپ نے اپنے پہلے دور میں حوثیوں کی تنظیم کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا صدر بائیڈن نے فیصلہ واپس لیا۔ 2022ء میں بائیڈن نے امارات کے مطالبے پر دوبارہ دہشت گرد قرار دیا۔ سعودی حمایت یافتہ عبدالبو منور ہادی نے2012ء کے یمن صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کی۔2015ء میں لڑائی کے بعد ان کی حکومت ختم ہوئی اب بھی ہادی سعودی عرب کا حمایتی ہے مگر شیعہ انصار اللہ گروپ سعودی عرب اور دیگر امارات جو امریکہ کے قریب ہیں ان کے خلاف ہے۔ اس وقت سعودی فوج نے 2000 سے زائد حوثیوں کا خاتمہ کیا ہے یمنی حکومت بھی سعودیہ کے ساتھ مل کر ان کے خلاف لڑ رہی ہے کون سچا اور کون جھوٹا ہے، کون کس کا آلہ کار ہے، وقت بتائے گا ابھی سب کچھ کہنا قبل ازوقت ہو گا۔

مصنف کے بارے میں

میاں اشفاق انجم

میاں اشفاق انجم

اس پروفائل میں میان اشفاق انجم کے بارے میں صرف نام فراہم کیا گیا ہے۔ ان کی سوانح، قومیت یا درجہ کی مزید تفصیلات درج نہیں ہیں۔

پروفائل اور تمام تحریریں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

میاں اشفاق انجم. «حرم کی پاسبانی کا اعزاز.» اقبال فورم، 16 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=52002.

حوالہ دینے کے انداز

میاں اشفاق انجم. (16 اکتوبر 2026). حرم کی پاسبانی کا اعزاز. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/?p=52002

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔