مرکزی مواد پر جائیں

اسرائیلی انتخابات اور تیسری عالمی جنگ؟

اسرائیلی انتخابات کے غیر حتمی نتائج اور عدم استحکام کے بعد نتن یاہو اپنی سیاسی بقا اور امریکی مڈٹرم انتخابات میں ٹرمپ کی مدد کے لیے ایران کے خلاف شدید فوجی کارروائی…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

تیسری عالمی جنگ

27 اکتوبر 2026ء کو ہونیوالے اسرائیلی انتخابات اسرائیل میں گزشتہ پانچ سال کے دوران ہونیوالے چھٹے عام انتخابات تھے۔ جن کے بارے میں یہ پشین گوئیاں کی جا رہی تھیں کہ ان میں موجودہ وزیراعظم نتن یاہو بری طرح ہار جائیں گے اور انکے قریبی حریف سابق آرمی چیف اور اپوزیشن اتحاد کے سربراہ آئزن کوٹ بھاری اکثریت سے کامیاب ہو جائیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اسرائیل میں اسکے قیام کے بعد آج تک کبھی کسی سنگل پارٹی نے سادہ اکثریت یعنی 61 سیٹیں نہیں جیتیں جو 120کے ایوان میں حکومت بنانے کیلئے ضروری ہوتی ہیں۔ اسرائیل میں ہمیشہ مختلف سیاسی اتحادوں کی حکومت رہی ہے۔ موجودہ انتخابات میں جو تصویر سامنے آئی ہے وہ بھی گزشتہ 80برس کا عکس ہے یعنی کوئی اتحاد سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں کر سکا۔ نتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد نے 53جبکہ جنرل آئزن کوٹ کے بائیں بازو کے اتحاد نے 48 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ اس مرتبہ عرب جماعتوں کے اتحاد نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 19نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے جو اسرائیلی انتخابات میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔ یاد رہے کہ عرب اسرائیل کی کل آبادی کا 20فیصد ہیں اور یہ ان عربوں کی اولاد ہیں جو 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے وقت کسی بھی وجہ سے وہاں سے نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکے اور اسرائیل میں ہی رہ گئے۔ یہ اسرائیل کے باقاعدہ شہری ہیں اور انہیں ووٹ ڈالنے کا بھی حق حاصل ہے لیکن انہیں اسرائیل میں ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور انہیں پسماندہ رکھنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے ۔اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ ان عربوں کی ہمدردیاں ہمیشہ فلسطینیوں کے ساتھ ہیں اور وہ اسرائیل کی یہودی ریاست کی شناخت میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان عربوں نے ان عام انتخابات میں پہلے کی نسبت انتہائی سرگرمی سے حصہ لیکر اور 19نشستیں جیت کر یہ ثابت بھی کر دیا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی وجہ سے ان عربوں نے فلسطینیوں کیساتھ اپنی یکجہتی ثابت کرنے کیلئے ان انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس پوزیشن میں آگئے ہیں کہ انکی شرکت کے بغیر اسرائیل میں کوئی بھی حکومت نہیں بن سکتی۔ نتن یاہو نے تو اپنی انتخابی مہم میں دائیں بازو کے یہودیوں کو بار بار متنبہ بھی کیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لئے گھروں سے نکلیں تاکہ اسرائیل حکومت میں عرب اتحاد کو شامل نہ کیا جا سکے۔ کیا آئزن کوٹ کا بائیں بازو کا اتحاد ان عرب نمائندوں کے ساتھ ملکر حکومت بنا لے گا؟ عام حالات میں تو اس مفروضے کا مکمل طور پر امکان ہوتا ہے لیکن اسرائیل میں ترقی پسند، لبرل اور بایاں بازو کہلانے والے اسرائیلی ریاست کی نسل پرستی اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے حوالے سے دائیں بازو سے کوئی مختلف نظریہ نہیں رکھتے اور وہ بھی عرب اتحاد کے ساتھ حکومت بنانے سے گریز کریں گے۔ ان کا واحد اختلاف نیتن یاہو کی ذات پر ہے اور وہ صرف نتن یاہو کو ہٹانا چاہتے ہیں۔

غیر یقینی کی یہ صورتحال اگر برقرار رہتی ہے اور تین مہینے تک نئی حکومت تشکیل نہیں دی جا سکتی تو اسرائیلی صدر اسرائیلی آئین کے مطابق نئے انتخابات کا حکم دے سکتا ہے گزشتہ انتخابات میں نتن یا ہو کو اپنی مخلوط حکومت بنانے میں 18دن لگے تھے۔ اب نئی حکومت کے بننے تک نیتن یا ہو ہی عبوری وزیراعظم رہیگا نئے انتخابات سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ یا تو دائیں بازو کے اتحاد کے کچھ منتخب نمائندے اپوزیشن اتحاد کے ساتھ مل جائیں یا اپوزیشن اتحاد کی کوئی پارٹی نتن یاہو کے ساتھ اتحاد کر لے ۔جس کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ امریکی صدر ٹرمپ کی تمام ہمدردیاں نتن یاہو کے ساتھ ہیں۔

ان انتخابات نے ایک انتہائی خطرناک صورتحال پیدا کر دی ہے کیونکہ اگلے کچھ دنوں یا ہفتوں کے دوران نتن یا ہو صدر ٹرمپ کے ساتھ مل کر ایران کیخلاف کوئی بڑی اور شدید فوجی کارروائی کر سکتا ہے جسکے نتیجے میں اگر ایران کو گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں یا اسے بھاری نقصان پہنچتا ہے تونتن یاہو اور ٹرمپ اپنے اپنے انتخابات میں اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یاد رہے امریکہ میں بھی مڈ ٹرم انتخابات میں صرف چند ہفتے باقی رہ گئے ہیں ۔یہ وہ صورتحال ہے جس کا ادراک ایران اور دنیا کے دیگر ممالک کو بھی ہے۔ یہی وہ خطرہ ہے جس کے حوالے سے پاکستان ،ترکیہ اور سعودی عرب کے وفود تہران میں ایرانی قیادت سے ملے اور خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔اسی امکانی صورتحال کی وجہ سے امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی یورپی ممالک نے اپنے عوام کو پانی اور خوراک ذخیرہ کرنے کے بارے میں وارننگ دیدی ہے اور اپنی فوجوں کو الرٹ کر دیا ہے یوں لگتا ہے کہ تیسری عالمی جنگ غیرعلانیہ طور پر شروع ہو چکی ہے۔ ساری دنیا کساد بازاری ،مہنگائی اور بے روزگاری کی زد میں ہے۔ فرانس ، برازیل اور یورپ کے دیگر کئی ممالک میں مہنگائی کیخلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔روس اور یوکرین کی جنگ ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے، پاک بھارت کشیدگی اپنے عروج پر ہے جس میں اب افغانستان بھی شامل ہو چکا ہے۔یمن میں سعودی مخالف حوثی باغیوں نے خلیج عرب اور مشرق وسطیٰ میں میں جاری کشیدگی کو اور بڑھا دیا ہے۔آبنائے ہرمز کی بندش اس خطے کے بڑے ممالک چین بھارت اور پاکستان میں سیاسی اور معاشی ہیجان برپا کر سکتی ہے اور اگلے چند دنوں یا ہفتوں میں نتن یاہو اور ٹرمپ کی کوئی بھی مہم جوئی تیسری عالمی جنگ کے باقاعدہ آغاز کا باعث بن سکتی ہے۔ کیونکہ دنیا میں ہر طرف پھیلی ہوئی افرا تفری کی وجہ سے جنگ سے پہلے کے تمام لوازمات پورے ہو چکے ہیں اب صرف اس بارود کو ماچس کی جلتی ہوئی تیلی دکھانے کی ضرورت ہے۔

مصنف کے بارے میں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

خالد جاوید جان. «اسرائیلی انتخابات اور تیسری عالمی جنگ؟.» اقبال فورم، 31 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=53574.

حوالہ دینے کے انداز

خالد جاوید جان. (31 اکتوبر 2026). اسرائیلی انتخابات اور تیسری عالمی جنگ؟. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/?p=53574

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔