مکہ دفاعی معاہدہ اور مسلم نیٹو کی تشکیل

مکہ دفاعی معاہدہ اور مسلم نیٹو کی تشکیل

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والا سہ ملکی دفاعی معاہدہ بین الاقوامی سطح پر اہم ترین موضوع کے طور پر زیرِ بحث ہے۔ کئی مسلم ممالک اور ان کی نمائندہ تنظیم او آئی سی نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے اس اہم تزویراتی اقدام کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ اہم پیش رفت اور اسلامی ممالک کی یکجہتی اور چیلنجزکے خلاف مشترکہ عزم کا عکاس ہے۔ یہ معاہدہ خطے اور مسلم دنیا میں امن و استحکام کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے اور یہ ایک ایسے بنیادی ستون کی تشکیل کرتا ہے جو بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور رکن ملکوں کے درمیان یکجہتی و تعمیری شراکت داری کو فروغ دیتا ہے۔ اس سلسلے میں حرمین شریفین مذہبی امور کے سربراہ ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس کا کہنا ہے کہ مقدس ماحول میں معاہدے کا طے پانا خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ معاہدے کے حوالے سے بحرین نے کہا ہے کہ معاہدہ تینوں برادر ممالک کی شاندار دفاعی صلاحیتوں اور عسکری مہارت کا اعتراف ہے۔ یمن نے بھی اس معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا اور اسے بحیرۂ احمر، خلیجِ عدن اور باب المندب کی سلامتی کے تناظر میں اہم قرار دیا۔
اسی طرح، ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب میں دفاعی معاہدہ نیٹو آرٹیکل پانچ کے اصول کی طرح ہے۔ نیٹو کا آرٹیکل پانچ اجتماعی دفاع کا اصول ہے، یعنی ایک رکن پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوتا ہے۔ معاہدے کے تحت نیٹو کی طرز پر وزارتی کمیٹی اور سعودی عرب میں جنرل سیکرٹریٹ قائم ہو گا۔ انھوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں تعاون اور سلامتی کے لیے ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مصر بھی تکنیکی معاملات حل ہونے کے بعد اس اتحاد میں شامل ہو سکتا ہے۔
ایک طرف مسلم دنیا کے تین اہم ترین ارکان کے مابین طے پانے والے دفاعی معاہدے کو خطے میں استحکام کی نوید قرار دیا جا رہا ہے تو دوسری جانب امریکی سینیٹرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف شروع کی گئی غیر قانونی جنگ کے خاتمے کے لیے پھر قرارداد پیش کر دی ہے۔ کولوراڈو کی نمائندگی کرنے والے امریکی سینیٹر جان ہیکن لوپر نے ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ہم نے ابھی ایک قرارداد پیش کی ہے تاکہ صدر ٹرمپ کی ایران کے ساتھ غیر قانونی جنگ کو روکا جا سکے۔ اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ امریکی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، گیس اور کھاد کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی ہیں جبکہ ہمارے فوجی ذخائر میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف جنگ روکنے کی قرارداد مسترد کر دی تھی۔
ادھر، ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ دباؤ کے سامنے جھکنے والے نہیں لیکن جنگ یا جارحیت کے خواہاں بھی نہیں ہیں۔ اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ایران صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں اور سلامتی کا تحفظ کر رہا ہے، اگر ایران کے خلاف دبائو اور دھمکیاں ختم ہو جائیں تو کشیدگی جاری رکھنے کی کوئی وجہ نہیں رہے گی۔ مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ مذاکرات کے ذریعے ایران لبنان میں جنگ روکنے، ناکہ بندی ختم کروانے اور بعض پابندیوں میں نرمی کروانے میں کامیاب رہا۔ ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم جنگ کریں، یہی اسرائیل بھی چاہتا ہے تاکہ ہمیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکے، ہم سرینڈر نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ امریکا ایران پر حملوں کے لیے خطے کے ممالک کی سر زمین استعمال کر رہا ہے، ہم اس کے خلاف اپنا دفاع کریں گے۔ ایران اپنے حقوق کے حصول اور تنازعات حل کے لیے جنگ کی بجائے مذاکرات اور سفارتکاری کو ترجیح دیتا ہے۔
ایرانی صدر کے علاوہ دیگر اہم عہدیداران بھی مذاکرات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جنگ بندی کی طرف آنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے بھی صدر ٹرمپ کو ایران جنگ سے نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔ امریکی ٹی وی کے مطابق، جنرل ڈین کین ایران جنگ سے باہر نکلنے کا رستہ تلاش کررہے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک جنگ بڑھانے کے فوجی آپشن کا نتیجہ الٹا نکلنے کا خدشہ ہے اور محض فضائی طاقت کی بنیاد پر یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ جنگ بڑھانے کے خلاف سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلیف، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس سے بھی اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں اور ساتھ ہی جنگ ختم کرنے کے امکانات ڈھونڈنے کا ذکر کر چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے مخالف ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ فضائی حملوں سے ایران کو معاہدے پرآمادہ کیا جا سکتا ہے تاہم جنرل کین سمیت کئی دیگر کے نزدیک ایسا نہیں ہوگا بلکہ دیگر آپشنز اختیار کیے جانے چاہئیں۔
یہ ایک افسوس ناک بات ہے کہ امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی صرف اس خطے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے مسلسل پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔ اس کشیدگی کے دوران ایران نے جہاں سعودی عرب سمیت مختلف خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات اور فوجی اڈوں کا نشانہ بنایا وہیں ان ملکوں کے انفراسٹرکچر پر بھی حملے کیے گئے جن کا کوئی بھی جواز ہرگز قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ اسی تناظر میں بعض حلقوں کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ مل کر جو دفاعی معاہدہ کیا ہے وہ ایران مخالف اقدام ثابت ہو سکتا ہے، تاہم ترک وزیر خارجہ نے اس بات کی صاف الفاظ میں وضاحت کر دی ہے کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف نہیں ہے۔
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب تینوں مسلم دنیا کے بہت اہم ارکان ہیں اور ان کے درمیان ہونے والا معاہدہ ایک ایسی غیر معمولی پیش رفت ہے جس کا اثر بہت دیر تک اور بہت دور تک محسوس کیا جائے گا، تاہم حاقان فیدان کے مطابق یہ معاہدہ اگر واقعی مسلم نیٹو کی بنیاد رکھ رہا ہے تو پھر بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 2017ء کے آغاز میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں 41 مسلم ممالک کی افواج کے اشتراک سے جس اسلامی عسکری اتحاد کی بنیاد رکھی گئی تھی وہ کس مقصد کے لیے تشکیل دیا گیا تھا؟ اس سلسلے میں یہ کہنا ضروری ہے کہ مسلم نیٹو اگر واقعی قائم کرنی ہے تو ایران کو لازماً اس کا حصہ ہونا چاہیے تاکہ مسلم مخالف قوتوں کو واضح طور پر یہ پیغام دیا جا سکے کہ بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر مسلمان متحد اور یک جہت ہیں۔

اس مضمون کے مصنفین

اداریہ

اداریہ

یہ تحریر اداریے کے طور پر شائع ہوئی ہے۔ اس کے کسی انفرادی مصنف کے بارے میں مزید معلومات درج نہیں۔

پروفائل دیکھیں

متعلقہ

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔