31:43

ٹارپیڈو ڈپلومیسی؛ کیا آبنائے ہرمز کا تعطل بڑے دھماکے پر ختم ہوگا؟

محمد حسین باقری، اقبال فورم کے ڈائریکٹر، نے سونو نیوز کے ایک مقبول پوڈکاسٹ میں کہا کہ خطہ اس وقت “معاشی سرد جنگ” کی حالت میں ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں ایران کی عسکری تیاری اور موجودہ مرحلے پر...

Comment تبصرہ
٩,٢٥٦ آراء ·

محمد حسین باقری، اقبال فورم کے ڈائریکٹر، نے سونو نیوز کے ایک مقبول پوڈکاسٹ میں کہا کہ خطہ اس وقت “معاشی سرد جنگ” کی حالت میں ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں ایران کی عسکری تیاری اور موجودہ مرحلے پر جوہری مذاکرات کی بے اثری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ امریکہ کی بحری ناکہ بندی جاری رہی تو ایران آنے والے دنوں میں سخت فوجی ردعمل کی طرف جا سکتا ہے۔ دوسری جانب انہوں نے پاکستان کے کردار کو ایک اہم زمینی راستہ اور قابلِ اعتماد ثالث قرار دیا۔

مذاکراتی حکمتِ عملی میں تبدیلی؛ جوہری مسئلے سے علاقائی سلامتی تک

ایران نے اپنی نئی تجاویز میں فی الحال جوہری مسئلہ اور یورینیم افزودگی کو ترجیح سے خارج کر دیا ہے۔ تہران کی موجودہ حکمتِ عملی یہ ہے کہ پہلے بحری ناکہ بندی اور امریکہ کی جانب سے ہونے والے معاشی نقصانات کا تعین کیا جائے۔ ایران اب کمزور پوزیشن سے مذاکرات نہیں کر رہا بلکہ آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو سب سے بڑے دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

بحری ناکہ بندی = جنگ کا تسلسل

ایران کے نزدیک صرف گولی نہ چلنے کا مطلب امن نہیں ہے۔ معاشی ناکہ بندی اور جہازوں کی آمدورفت روکنا بھی جنگ کا تسلسل ہے۔ اگر یہ سفارتی تعطل آئندہ دنوں میں ختم نہ ہوا تو ایران اپنی عسکری طاقت، جیسے ٹارپیڈو، ڈرون اور تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے اپنی تجارتی راہیں کھولنے کی کوشش کرے گا۔ یعنی ایران ناکہ بندی توڑنے کے لیے خود فوجی اقدام شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

معاشی برداشت اور عوامی مشکلات

بحری ناکہ بندی نے ایران کی اندرونی معیشت پر براہِ راست اثر ڈالا ہے، جس سے کرنسی کی قدر میں کمی اور اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے باوجود ایران غیر رسمی بحری راستوں کے ذریعے چین جیسے ممالک کو تیل برآمد کرتا رہا ہے۔ تاہم اگر تیل کے ذخائر بھر جائیں اور برآمدات رک جائیں تو ایران کو سخت ردعمل دینا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان؛ معاشی سانس اور قابلِ اعتماد ثالث

اس صورتحال میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہے۔ زمینی ٹرانزٹ راستوں کا کھلنا اور کراچی و گوادر بندرگاہوں کا استعمال ایران کے لیے سنہری موقع ہے تاکہ وہ بحری ناکہ بندی کو بائی پاس کر سکے۔ ایران پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد ثالث اور اس بحران میں اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے۔

مستقبل کی پیشگوئی؛ معاہدہ یا تصادم؟

باقری کے مطابق دنیا آئندہ دنوں میں دو میں سے ایک منظر دیکھے گی: یا تو بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے فوری معاہدہ ہوگا، یا خطہ براہِ راست فوجی تصادم کے نئے مرحلے میں داخل ہوگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ طویل مدت میں ایران برتری حاصل کرے گا کیونکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی توانائی کا دنیا میں کوئی متبادل موجود نہیں

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔