نئے رہنما کے انتخاب کی حیثیت اور نوعیت
انہوں نے زور دیا کہ ایران میں نئے رہنما کا انتخاب مکمل طور پر اندرونی معاملہ ہے اور امریکہ جیسے ممالک کو اس میں مداخلت یا رائے دینے کا کوئی حق نہیں۔
باقری کے مطابق یہ انتخاب مجلس خبرگان کے ذریعے تقریباً 90 فیصد ووٹوں کی اکثریت سے متعدد امیدواروں میں سے کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مغربی میڈیا شیعہ مذہب میں “روحانی قیادت” اور “ولایتِ فقیہ” کے تصور کو درست طور پر نہیں سمجھتا۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی شخصی اور علمی خصوصیات
انہوں نے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو سیاسی اور مذہبی امور میں تجربہ کار (56 سال کی عمر میں) قرار دیا، جو 25 سال تک اپنے والد کے ساتھ ملکی امور میں شریک رہے اور 17 سال سے اعلیٰ سطح پر تدریس کر رہے ہیں اور درجہ اجتہاد حاصل کر چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئے رہنما کو فقہی علم کے ساتھ ساتھ معاشی امور میں بھی مہارت حاصل ہے اور ان کے فوجی اداروں اور پاسداران انقلاب کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔
ایران کا موقف: کشیدگی اور مذاکرات
باقری نے کہا کہ ایران نے کبھی جنگ کا آغاز نہیں کیا، لیکن اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے خودمختاری اور تنصیبات پر حملوں کے جواب میں اسے جوابی کارروائی کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے گریز کی وجہ مخالف فریق کی وعدہ خلافیاں اور مذاکرات کے دوران حملے ہیں، اور سوال اٹھایا کہ ایسے حالات میں بات چیت کیسے ممکن ہے۔
علاقائی اور عالمی اثرات
باقری نے خبردار کیا کہ ایران پر حملے جاری رہے تو اس کے اثرات پورے خلیج اور عالمی توانائی منڈی تک پھیلیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر خطے کے ممالک امریکہ کو اپنے ہوائی اڈے استعمال کرنے دیں تو وہ ایران کے لیے جائز ہدف ہوں گے۔
امریکی حکومت کا تجزیہ
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ خارجہ پالیسی میں ایک کامیابی تلاش کر رہا ہے، لیکن وقت ثابت کرے گا کہ وہ نہ نظام کو گرا سکے گا اور نہ ہی ایرانی عوام کو سڑکوں پر لا سکے گا۔