10:31

محمد حسین باقری؛ اقبال فورم کے سربراہ نے پاکستان کے نیوز چینل 365 کے ساتھ گفتگو میں کہا:

1. پاکستان کا کردار اور "گریٹر اسرائیل" کا خطرہباقری کے مطابق پاکستان کے پاس سفارتی ذرائع سے ایران پر مسلط جنگ کو روکنے اور ثالثی کرنے کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی حکام سے مسلسل...

Comment تبصرہ
٩,٢٥٦ آراء ·

1. پاکستان کا کردار اور “گریٹر اسرائیل” کا خطرہ
باقری کے مطابق پاکستان کے پاس سفارتی ذرائع سے ایران پر مسلط جنگ کو روکنے اور ثالثی کرنے کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں اور وہ بحران کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ “گریٹر اسرائیل” کا منصوبہ، جس کا مقصد نیل سے فرات تک اثر و رسوخ بڑھانا ہے، نہ صرف ایران بلکہ پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے لیے بھی خطرہ ہے، لہٰذا پاکستان کو اس اسٹریٹجک حقیقت کو سمجھنا چاہیے اور اس کے مقابلے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

2. ایران کی دفاعی صلاحیت اور حکمت عملی
انہوں نے زور دیا کہ ایران کی تمام دفاعی صلاحیتیں سابق رہبر کے اسٹریٹجک وژن کے تحت تیار کی گئی ہیں تاکہ اسرائیل اور امریکہ کی توسیع پسندی کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ان کے مطابق 17 دن کی جھڑپوں کے بعد ایران امریکہ اور اسرائیل کے منصوبوں کو ناکام بنانے میں کامیاب رہا ہے۔

3. تنازع کے خاتمے کے لیے ایران کی شرائط
باقری نے دو بنیادی شرائط بیان کیں:

  • نقصانات کا ازالہ: امریکہ کو ایران پر حملوں سے ہونے والے تمام نقصانات کا ازالہ کرنا ہوگا، بصورت دیگر ایران یہ نقصانات خود وصول کرے گا۔
  • فوجی اڈوں کا خاتمہ: امریکہ کو ہمسایہ ممالک میں اپنے فوجی اڈے بند کرنا ہوں گے جو ایران کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔

4. مغربی اتحادیوں میں اختلافات
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے روایتی اتحادیوں جیسے جرمنی، اسپین، اٹلی اور برطانیہ کے درمیان اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ممالک سمجھ چکے ہیں کہ امریکہ اپنے مفادات کے لیے انہیں قربان کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے دعووں کے برعکس، ایران مزید مضبوط ہوا ہے اور اس کی میزائل اور ڈرون صلاحیتیں بدستور طاقتور ہیں۔

5. آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور معاشی دباؤ
باقری نے کہا کہ ایران نے بغیر کسی فائرنگ کے آبنائے ہرمز پر اپنا اسٹریٹجک کنٹرول برقرار رکھا ہے۔ اس سے عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ اور معاشی خدشات پیدا ہوئے ہیں، حتیٰ کہ برطانیہ بھی اس پر تشویش ظاہر کر رہا ہے۔

6. اسٹریٹجک صبر اور ثقافتی استقامت
آخر میں انہوں نے ایرانی ثقافت کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ جیسے قالین بننے میں برسوں لگتے ہیں یا روایتی کھانے تیار ہونے میں وقت لگتا ہے، ویسے ہی ایرانی قوم بہت صبر والی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایران نے 8 سال تک عراق کے خلاف مزاحمت کی اور جب تک امریکہ اور اسرائیل کو حملے کی بھاری قیمت کا احساس نہیں ہوتا، یہ مزاحمت جاری رہے گی۔

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔