محمد حسین باقری؛ ڈائریکٹر اقبال فورم آج میں آپ کے ساتھ تین اہم نکات شیئر کرنا چاہتا ہوں
پہلا نکتہ: امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی امن اور پاکستان کا کردار ایران پاکستان، سعودی عرب، امارات یا خطے کے کسی بھی ملک سے بہتر جانتا ہے کہ صرف چند جملے کہہ کر امریکہ اور اسرائیل کی دوستی اور...
پہلا نکتہ: امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی امن اور پاکستان کا کردار
ایران پاکستان، سعودی عرب، امارات یا خطے کے کسی بھی ملک سے بہتر جانتا ہے کہ صرف چند جملے کہہ کر امریکہ اور اسرائیل کی دوستی اور حمایت کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔ نہ صرف ایران اس کا طریقہ جانتا ہے بلکہ اگر آپ اسلامی انقلاب سے پہلے کی تاریخ دیکھیں تو شاہ کے دور میں یہی ہوا تھا؛ امریکی اور اسرائیلی ایران کے دلدادہ تھے اور جب شاہ خطے کے ممالک کا دورہ کرتا تھا تو حکمران اس کے سامنے جھک جاتے تھے۔
ایران آج صرف یہ کہہ کر کہ وہ اسرائیل کے ساتھ سمجھوتہ کر لے گا اور ان کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنے گا، 28 ٹریلین ڈالر کی آمدنی اور دنیا کی چھٹی بڑی معیشت بن سکتا ہے، اور تمام بڑی طاقتیں اس کی منڈی میں داخل ہونے کے لیے قطار میں کھڑی ہو جائیں گی۔ اس لیے اپنے فیصلوں میں محتاط رہیں۔ اگر آج ایران مشکلات اور جنگ کا سامنا کر رہا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کے سامنے جھکنا نہیں چاہتا اور فلسطینی عوام کی حمایت سے دستبردار نہیں ہونا چاہتا۔ یقین رکھیں کہ اسرائیل ایک دن پاکستان کو نقصان پہنچانے کا بھی منصوبہ بنائے گا۔ میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ ایران، دشمن کے پاکستان تک پہنچنے سے پہلے آخری مضبوط مورچہ ہے؛ اپنی زبان اور قلم سے اس مورچے کو کمزور نہ کریں۔
دوسرا نکتہ: پاکستان کے کردار کی قدر اور اسلام آباد کی موجودہ حیثیت
میں نے گزشتہ ایک ماہ میں بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ بطور ثالث پاکستان کا کردار بہت اہم ہے۔ ہم پاکستان کی حکومت، ریاست اور عوام کا اس اقدام پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ آج پاکستان کی ثالثی صرف ٹرمپ یا امریکہ کی وجہ سے نہیں ہے۔ اس سے پہلے چین، روس اور ترکی نے بھی ثالثی کی پیشکش کی تھی لیکن ایران نے قبول نہیں کیا۔ اگر آج پاکستان کی عالمی حیثیت میں اضافہ ہوا ہے اور دنیا کی توجہ اسلام آباد کی طرف مبذول ہوئی ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران نے پاکستان کو ثالث کے طور پر قبول کیا ہے۔ امید ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں مثبت پیش رفت ہوگی اور پاکستان کی کوششیں کامیاب ہوں گی تاکہ قومی وقار کی بنیاد پر اسلام آباد میں مذاکرات دوبارہ شروع ہوں۔
تیسرا نکتہ: ان لوگوں کے لیے جواب جو ایران کو دھمکی دیتے ہیں یا مذاکرات پر مجبور کرتے ہیں
ایران گزشتہ 40 برسوں سے تمام پابندیوں اور ناانصافیوں کے باوجود تنہا امریکہ اور اسرائیل کے مقابل کھڑا ہے، اور اس کے باوجود اس کی فلاح و بہبود اور بنیادی ڈھانچہ (جیسے پانی، بجلی اور گیس) خطے کے کئی ممالک سے بہتر ہے۔ جب آپ ایران کے خلاف دھمکی آمیز زبان استعمال کرتے ہیں تو یاد رکھیں کہ بھارتی میڈیا فوراً آپ کے پیغامات کو اردو سے فارسی میں ترجمہ کر کے ایران میں نشر کر دیتا ہے، جس سے عوام اور حکام کی رائے آپ کے بارے میں بدل سکتی ہے۔
آپ بطور ثالث اپنے دائرہ کار سے باہر نہ جائیں اور نہ ہی جذبات کو عقل پر غالب آنے دیں۔ ایران کو مجبور نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ صرف اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے اپنے بنیادی حقوق اور قومی وقار سے دستبردار ہو جائے۔ محتاط رہیں کہ آپ اپنی زبان اور قلم کے ذریعے ان طاقتوں کے ساتھ نہ کھڑے ہوں جو اسلامی ممالک کی ترقی نہیں چاہتے۔