12:02

محمد حسین باقری، سیاسی امور کے ماہر اور تہران میں قائم اقبال فورم کے سربراہ نے ہم نیوز پاکستان کے ساتھ گفتگو میں امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ سے متعلق تازہ پیش رفت کا تجزیہ پیش کیا۔

1. ٹرمپ کے 5 روزہ جنگ بندی اعلان کا تجزیہباقری نے کہا کہ ٹرمپ کی 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن ناکام ہو گئی ہے اور 5 روزہ وقفے کا اعلان دراصل اس ناکامی کا اعتراف ہے۔ انہوں نے کہا کہ...

Comment تبصرہ
٩,٢٥٦ آراء ·

1. ٹرمپ کے 5 روزہ جنگ بندی اعلان کا تجزیہ
باقری نے کہا کہ ٹرمپ کی 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن ناکام ہو گئی ہے اور 5 روزہ وقفے کا اعلان دراصل اس ناکامی کا اعتراف ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھمکی سے مذاکرات تک کے مختصر عرصے میں 6 اہم عوامل نے امریکہ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا:

  • جنگی اخراجات: روزانہ اخراجات اربوں ڈالر تک پہنچ گئے ہیں اور امریکی کانگریس اس کی مخالفت کر رہی ہے۔
  • امریکی معیشت: شرح سود میں کمی کی امید ختم ہو چکی ہے اور شدید مہنگائی کا خطرہ ہے۔
  • اتحادیوں کی پسپائی: 22 ممالک کی حمایت کے اعلان کے باوجود کسی نے عملی فوجی مدد فراہم نہیں کی۔
  • سپلائی چین میں خلل: بڑی کمپنیوں (جیسے TSMC) نے چِپس کی کمی اور عالمی ٹیکنالوجی پر اثرات کی وارننگ دی ہے۔
  • توانائی بحران: بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے شدید بحران اور سپلائی میں کمی کی تصدیق کی ہے۔
  • امریکی انتخابات کا دباؤ: ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور عوامی ناراضی نے ٹرمپ پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

2. براہ راست مذاکرات کی تردید
باقری نے واضح کیا کہ اعلیٰ ایرانی حکام کے دفاتر (جیسے قالیباف، عراقچی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل) سے تصدیق کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہوئے۔ انہوں نے ٹرمپ کے دعووں کو عالمی منڈیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے “جھوٹ” قرار دیا۔

3. کشیدگی ختم کرنے کے لیے ایران کی شرائط
انہوں نے کہا کہ ایران کی شرائط واضح ہیں اور جب تک یہ پوری نہ ہوں، کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے:

  • ہمسایہ ممالک سے امریکی فوجی اڈوں کا مکمل خاتمہ۔
  • ایران کو پہنچنے والے تمام نقصانات کا معاوضہ۔
  • تحریری اور قابلِ اعتماد ضمانت کہ دوبارہ حملہ نہیں ہوگا۔

4. فوجی حکمت عملی اور دفاعی طاقت

  • حملہ آور مرحلہ: ایران دفاعی مرحلے سے نکل کر جوابی حملوں کی پالیسی اپنا چکا ہے۔
  • میزائل ذخائر: ایران کے پاس برسوں کی جنگ کے لیے کافی میزائل موجود ہیں اور ابھی صرف محدود صلاحیت استعمال ہو رہی ہے۔
  • میزائل کی درستگی: اہداف پر نشانہ لگنے کی شرح 12 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے، جو دشمن کے دفاعی نظام (THAAD اور Patriot) کے دباؤ کو ظاہر کرتی ہے۔

5. زمینی حملے کی صورت میں وارننگ
باقری نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ جزیرہ خارک جیسے مقامات پر زمینی حملہ کرے تو ایران “جوابی قبضہ” کی حکمت عملی اختیار کرے گا، جس میں کویت یا بحرین میں امریکی تنصیبات پر کنٹرول حاصل کرنا شامل ہو سکتا ہے۔

6. پاکستان کے ساتھ تعلقات
انہوں نے آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کے حوالے سے کہا کہ نئی خارجہ پالیسی میں پاکستان کو برادر اور دوست ملک کے طور پر خاص اہمیت حاصل ہے اور ایران اس ہمسایہ ملک کو جذباتی اور اسٹریٹجک نظر سے دیکھتا ہے۔

خلاصہ:
باقری کے مطابق ایران اس وقت برتر پوزیشن میں ہے اور ٹرمپ صرف ایک “جیت کا تاثر” بنا کر باعزت راستہ نکالنا چاہتا ہے، جبکہ ایران اپنے مکمل حقوق کے حصول تک پیچھے نہیں ہٹے گا۔

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔