محمد حسین باقری، ایقبا ل تھنک ٹینک کے سربراہ، نے چینل 92 پاکستان کو انٹرویو میں کہا کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہای کو ایران کا نیا رہنما منتخب کیے جانے کے ساتھ ہی اسلامی انقلاب کی رگوں میں نئی روح پھونک دی گئی ہے۔
اس بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار کے اہم نکات:
قیادت کا انتخاب اور قانونی عمل کا تسلسل
باقری نے زور دیا کہ مجتبیٰ خامنہای کا بطور نیا رہنما انتخاب مکمل طور پر قانونی عمل ہے جو مجلسِ خبرگان کے ذریعے انجام پایا۔ انہوں نے بیرونی دباؤ یا دھمکیوں (جیسے ٹرمپ) کے کسی بھی اثر کو مسترد کیا۔
انہوں نے نئے رہنما کی نمایاں خصوصیات میں اعلیٰ ذہانت، دینی (فقہی) تعلیم میں مہارت، اور مصنوعی ذہانت اور بڑے صنعتی منصوبوں جیسے جدید شعبوں میں تجربہ شامل بتایا۔
عسکری حکمت عملی: جوابی کارروائی
ایران جنگ شروع کرنے والا ملک نہیں ہے، لیکن اس کی حکمت عملی متناسب جواب پر مبنی ہے۔ اگر ایران کے تیل کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا تو خطے اور آبنائے ہرمز میں دشمن کے ٹینکرز اور اثاثے جائز ہدف ہوں گے۔ حتمی مقصد امریکہ اور اسرائیل پر جنگ کی لاگت بڑھا کر انہیں جنگ بندی پر مجبور کرنا ہے۔
مذاکرات کی سرخ لکیر
پسِ پردہ مذاکرات کی خبریں غلط ہیں۔ موجودہ موقف یہ ہے: “جب تک ایران پر جنگ مسلط ہے، کسی بھی سطح پر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔” ایران زبردستی یا پہلے سے طے شدہ مذاکرات قبول نہیں کرتا۔
ہمسایہ ممالک کو سخت انتباہ
ہمسایہ ممالک غیر جانبداری کا دعویٰ نہیں کر سکتے اگر وہ دشمن کو اپنی زمین یا فضائی حدود استعمال کرنے دیں۔ جو بھی اڈہ ایران کے خلاف استعمال ہوگا وہ فوجی جوابی کارروائی کا جائز ہدف ہوگا۔
دفاعی خود کفالت اور اتحادیوں کا کردار
ایران کی ڈرون اور میزائل صلاحیت 100٪ مقامی ہے اور روس یا چین کے پرزوں پر انحصار نہیں کرتی۔ روس کے ساتھ تعاون زیادہ تر انٹیلیجنس سطح پر ہے جبکہ چین کے ساتھ تعلقات موجودہ حالات میں تیل کی خرید و فروخت کے تناظر میں ہیں۔