میدانی صورتحال اور میزائل حملے:
باقری نے تصدیق کی کہ حالیہ دنوں میں امریکی اور اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایران پر 10,500 سے زیادہ مرتبہ بمباری کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پورے ایران میں ہر گھنٹے دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں اور صورتحال انتہائی سنگین ہے۔
اس کے جواب میں ایرانی افواج نے تل ابیب، حیفا اور خلیجی عرب ممالک میں امریکی اڈوں پر بڑے پیمانے پر میزائل حملے کیے جن میں امریکی اور اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔
جنگ کے دوران مذاکرات کی افواہیں:
باقری نے جنگ کے دوران ایران کی مذاکرات کی خواہش سے متعلق خبروں کو “مکمل جھوٹ” قرار دیا۔
انہوں نے کہا: “جب ہم پر بم برس رہے ہوں تو کوئی ایرانی عہدیدار مذاکرات کی بات نہیں کرتا اور نہ کرے گا۔”
ان کے مطابق مذاکرات کی شرط صرف یہی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل جنگ مکمل طور پر بند کریں، کیونکہ جنگ کی ابتدا انہی نے کی ہے۔
رہبری اور مجلسِ خبرگان:
انہوں نے کہا کہ مجلس خبرگان 80 فقیہوں اور علما پر مشتمل ہے جو قانونی طریقہ کار کے مطابق نئے رہنما کے انتخاب پر غور کر رہے ہیں۔
انہوں نے اسرائیلی میڈیا کی جانب سے مخصوص ناموں کے ذکر کو مسترد کیا اور کہا کہ یہ عمل قیادت کے انتخاب میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی تفصیلات:
باقری نے کہا کہ رہبر کے گھر پر حملہ صبح 9:30 بجے ہوا اور 30 ٹام ہاک بنکر بسٹر میزائل داغے گئے۔
انہوں نے کہا کہ خطرے کا علم ہونے کے باوجود انہوں نے پناہ لینے سے انکار کیا اور کہا:
“ایرانی عوام کے پاس پناہ گاہیں نہیں، وہ اپنے گھروں میں رہتے ہیں، میں بھی اپنے گھر میں رہوں گا۔”
عوامی حوصلہ اور حکومتی صورتحال:
باقری کے مطابق سخت فوجی دباؤ کے باوجود حکومتی خدمات جاری ہیں اور عوام مضبوطی سے ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں، جس اتحاد کو انہوں نے “تاریخ میں بے مثال” قرار دیا۔