06:20

محمد حسین باقری، ڈائریکٹر اقبال فورم کا تہران میں شہید رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کے حوالے سے ویڈیو پیغام

بالآخر چار ماہ کے بعد آج صبح آٹھ بجے، تہران کے وقت کے مطابق، ہم نے مقامِ معظم رہبری حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے جسدِ مطہر پر نمازِ جنازہ ادا کی۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے چار جولائی، یعنی امریکہ...

Comment تبصرہ
٩,٢٥٦ آراء ·

بالآخر چار ماہ کے بعد آج صبح آٹھ بجے، تہران کے وقت کے مطابق، ہم نے مقامِ معظم رہبری حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے جسدِ مطہر پر نمازِ جنازہ ادا کی۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے چار جولائی، یعنی امریکہ کی آزادی کی ڈھائی سوویں سالگرہ کے عین موقع پر، اپنے شہید رہبر کی تدفین سے قبل آخری الوداعی رسومات ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس انتخاب میں امریکیوں کے لیے ایک واضح پیغام تھا۔ آج شہید رہبر کی نمازِ جنازہ میں “انتقام، انتقام” اور “جنگ، جنگ تا فتح” کے نعرے ایرانی قوم کے واضح اور دوٹوک پیغام کی عکاسی کر رہے تھے۔

گزشتہ دو دنوں میں تقریباً ساٹھ لاکھ افراد تہران میں اسلامی انقلاب کے شہید رہبر آیت اللہ خامنہ ای کی آخری زیارت کے لیے موجود تھے۔ چھیاسی سرکاری وفود، جن میں ایک ہزار سے زائد سیاسی، ثقافتی، سماجی اور میڈیا شخصیات شامل تھیں، ان میں پاکستان نے سب سے بڑے اور نمایاں وفود میں سے ایک بھیجا، جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ میں ایک مرتبہ پھر پاکستان کی عوام، حکومت اور ریاستی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

آج دو روزہ عوامی دیدار کے بعد تہران میں نمازِ جنازہ کی تقریب منعقد ہوئی۔ کل تہران میں ان کا جنازہ نکالا جائے گا۔ پرسوں، یعنی منگل کے روز، ان کے جسدِ مطہر کو قم منتقل کیا جائے گا جہاں جنازے کی ایک اور تقریب منعقد ہوگی۔

بدھ کے روز ان کے جسدِ مطہر کو عراق منتقل کیا جائے گا، جہاں تقریباً ساٹھ برس بعد مرحوم رہبر کو دوبارہ روضۂ مبارک امام حسین علیہ السلام اور روضۂ مبارک حضرت علی علیہ السلام کی زیارت نصیب ہوگی۔

کربلا اور نجف میں شاندار جنازوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ جمعرات کو نمازِ جنازہ کے بعد ان کے جسدِ مطہر کو مشہد منتقل کیا جائے گا، جہاں روضۂ امام رضا علیہ السلام کے صحن میں نماز اور جنازے کی تقریب کے بعد تدفین انجام پائے گی۔

آج میں نے مصلائے تہران میں بہت بڑا اجتماع دیکھا۔ میرے اندازے کے مطابق تقریباً تیس لاکھ افراد نمازِ جنازہ میں شریک ہوئے۔ الحمدللہ، یہ تقریب بغیر کسی مسئلے یا حادثے کے بہترین انداز میں منعقد ہوئی۔ میرے خیال میں یہ تقریب اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ بلکہ شاید پوری عالمِ اسلام کی تاریخ میں ایک تاریخی واقعے کے طور پر درج ہوگی۔

میرے پاس موجود معلومات کے مطابق، ایرانی حکومت نے آج کی تقریب کے لیے تقریباً چھ ہزار کولنگ سسٹم نصب کیے تھے۔ ڈھائی ہزار ایمبولینسیں اور اکیس ہیلی کاپٹر بھی تعینات کیے گئے تھے۔ تہران بھر میں مختلف مواکب قائم کیے گئے تھے جہاں سوگواروں میں پانچ کروڑ سے زائد کھانے تقسیم کیے گئے۔

آج کی تقریب ایک مکتب، ایک عظیم ذمہ داری اور مستقبل کی نسلوں، ملتِ ایران اور شاید پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے امید کا پیغام تھی۔

میرا عقیدہ ہے کہ ہر رہنما اپنے بعد ایک میراث چھوڑ جاتا ہے۔ جب میں آیت اللہ خامنہ ای کی زندگی اور ان کی شہادت کے انداز پر نظر ڈالتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ ان کی میراث قومی خودمختاری، ارضی سالمیت اور ملک کے لیے اسٹریٹجک خود انحصاری کا تحفظ تھی۔ آج ایرانی عوام کی اپنے رہبر سے محبت اور ان کا اتحاد ایک بڑے، زیادہ طاقتور، زیادہ خودمختار اور زیادہ کامیاب ایران کی نوید دیتا ہے۔

“میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اس مرحوم رہبر کے درجات بلند فرمائے اور ان کی پاک روح کو صدرِ اسلام کے شہداء اور اسلامی انقلاب کے شہداء کی رفاقت عطا فرمائے۔”

آپ کی توجہ کا شکریہ

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔