محمد حسین باقری، سربراہ اقبال فورم اور بین الاقوامی امور کے ماہر کا پاکستان کے ہم نیوز کے ساتھ انٹرویو

ایران کی میزائل طاقت اور اسرائیل پر حملے ایران میں جانی و مالی نقصان:باقری نے کہا کہ ایران میں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 1350 تک پہنچ گئی ہے جن میں 35 فیصد عام شہری ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیل نے...

Comment تبصرہ
٩,٢٥٦ آراء ·

ایران کی میزائل طاقت اور اسرائیل پر حملے

ایران میں جانی و مالی نقصان:
باقری نے کہا کہ ایران میں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 1350 تک پہنچ گئی ہے جن میں 35 فیصد عام شہری ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیل نے اسکولوں، اسپتالوں اور دکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور تہران پر روزانہ 40 سے 50 بار بمباری ہو رہی ہے۔


ایران کا بھرپور جواب:

انہوں نے تصدیق کی کہ ایران اب تک اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے خلاف 3500 میزائل اور 4000 ڈرون استعمال کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ایران نے نیا ڈرون “حدید” (شاہد 131 کا جدید ورژن) اور ہائپرسونک و کلسٹر “خرمشہر-4” میزائل 1500 کلو وار ہیڈ کے ساتھ استعمال کیے ہیں۔


جہاز “دنا” کا واقعہ اور بھارت پر الزام:

باقری نے دعویٰ کیا کہ بحر ہند میں امریکی آبدوز نے ایرانی جہاز “دنا” کو انتہائی قریب سے (ایک میل کے فاصلے سے) تارپیڈو سے نشانہ بنایا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاز کی درست معلومات لیک ہو چکی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ چاہ بہار بندرگاہ میں بھارتی کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور وہاں حال ہی میں جاسوس گرفتار کیے گئے ہیں جنہوں نے ممکنہ طور پر معلومات امریکہ اور اسرائیل کو فراہم کیں۔

ان کے مطابق حملے کے بعد 80 ایرانی ملاح ڈوب رہے تھے لیکن امریکہ نے جنیوا کنونشن کے برخلاف انہیں بچانے کی کوشش نہیں کی۔


بھارت اور اسرائیل کے حامیوں کو سخت پیغام:

باقری نے خبردار کیا کہ اگر بھارت کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی تو وہ ایران کا اگلا ہدف ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا:
“ایران اپنے دشمنوں کے معاملے میں کوئی رعایت نہیں کرتا۔ اگر امریکہ اور اسرائیل کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے تو بھارت کو بھی کیا جائے گا اگر اس کی مداخلت ثابت ہوئی۔”


پاکستان کے بارے میں رہنما کی اسٹریٹجک ہدایت:

باقری نے آیت اللہ خامنہ ای سے منسوب ایک بات یاد دلائی کہ ایران ہمیشہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور اسے اپنا “اسٹریٹجک ڈیپتھ” سمجھتا ہے، اور سرحدی و مالی معاملات میں بھائی چارے اور تعاون پر زور دیتا رہا ہے۔


خلاصہ:

باقری کے مطابق ایران اس وقت ایک “مکمل جنگ” میں کامیاب ہو رہا ہے اور جغرافیہ اور میزائل طاقت کے ذریعے طاقت کا توازن اپنے حق میں کر چکا ہے۔

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔