اسلامی جمہوریہ ایران، مرحوم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے فتوے کے مطابق، ایٹمی بم بنانے کے درپے نہیں تھا۔ تاہم اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر نظام کی تبدیلی کے مقصد سے کی گئی جارحیت ممکن ہے کہ ایران کی نئی قیادت کو فوجی بازدارندگی کے لیے ایٹمی ہتھیار بنانے کا حکم دینے پر مجبور کرے۔
دو ہفتوں سے زائد وقت گزرنے کے باوجود امریکہ اور اسرائیل اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں، جن میں نظام کی تبدیلی، میزائل شہروں کی تباہی اور افزودہ یورینیم پر قبضہ شامل تھا۔
جتنا زیادہ یہ جنگ طول پکڑے گی، اتنا ہی یہ امریکہ کے لیے نقصان دہ اور ایران کے لیے فائدہ مند ہوگی۔ پاسداران انقلاب اب بھی آبنائے ہرمز پر مضبوط کنٹرول رکھتے ہیں، اور یمن میں حوثی گروہ جلد ہی باب المندب پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے۔ اس صورت میں عالمی توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا اور دنیا کو توانائی کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ کے متضاد بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ وہ جنگ کو مؤثر طریقے سے سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اپنے نئے مؤقف میں انہوں نے برطانیہ اور حتیٰ کہ چین سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے فوجی دستے بھیجیں۔
امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا الزام لگا کر حملہ کیا، جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون کر رہا تھا۔ تل ابیب اور واشنگٹن کا مقصد، جیسا کہ وہ خود اعتراف کر چکے ہیں، ایران میں نظام کی تبدیلی ہے تاکہ نیل سے فرات تک “گریٹر اسرائیل” کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔