جنگ اور حملوں کے بارے میں:
باقری نے کہا کہ ایران میں سب کو معلوم تھا کہ حملہ ہونے والا ہے، اور مذاکرات صرف ایک کھیل تھے تاکہ دنیا کو دکھایا جا سکے کہ ایران جنگ پسند نہیں ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں تقریباً 1500 مقامات پر بمباری کی، اور تہران میں روزانہ 30 سے 40 بار حملے ہوئے۔
عوامی ردعمل اور مغرب کی غلطی:
انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک کا خیال تھا کہ حملوں کے بعد عوام سڑکوں پر آ کر حکومت کو گرا دیں گے، لیکن اس کے برعکس ہوا—لوگ سوگ اور حمایت کے لیے باہر نکل آئے۔
انہوں نے ایران کی قیادت کے قتل کو حملہ آوروں کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا اور کہا کہ وہ خود اپنے کھودے ہوئے گڑھے میں پھنس جائیں گے۔
جانشینی اور ممکنہ نام:
ان کے مطابق ایران کے آئین کے تحت جلد نیا رہنما منتخب کیا جائے گا۔
انہوں نے مجلس خبرگان میں زیر بحث ناموں کا ذکر کیا: سید مجتبیٰ خامنہ ای، سید حسن خمینی، حسن روحانی، آیت اللہ اعرافی اور اعتماد (اعتمادی)۔
انہوں نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اور حسن خمینی کے امکانات زیادہ ہیں اور نیا رہنما نوجوان توانائی کے ساتھ سابقہ پالیسی کو جاری رکھے گا۔
انسانی صورتحال اور جانی نقصان:
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کے حملے صرف فوجی اہداف تک محدود نہیں بلکہ اسکولوں اور اسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ میناب میں ایک اسکول پر حملے میں 170 طالبات شہید ہوئیں، لیکن عالمی میڈیا نے اسے سنسر کیا۔
ان کے مطابق 20 اسکول اور 4 اسپتال مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
امریکی نقصانات:
انہوں نے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی نقصانات پر شدید سنسرشپ ہے، اور امریکہ صرف 5 ہلاکتوں کا اعتراف کرتا ہے جبکہ اصل تعداد دبئی اور دیگر مقامات پر کہیں زیادہ ہے۔