محمد حسین باقری، ڈائریکٹر اقبال فورم کا پاکستان کے ایک مقامی چینل کے ساتھ انٹرویو، جس میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کی تازہ صورتحال پر گفتگو کی گئی

محمد حسین باقری، ڈائریکٹر اقبال تھنک ٹینک کا پاکستان کے ایک مقامی چینل کے ساتھ انٹرویو، جس میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کی تازہ صورتحال پر گفتگو کی گئی باقری نے کہا کہ...

Comment تبصرہ
٩,٢٥٦ آراء ·

محمد حسین باقری، ڈائریکٹر اقبال تھنک ٹینک کا پاکستان کے ایک مقامی چینل کے ساتھ انٹرویو، جس میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کی تازہ صورتحال پر گفتگو کی گئی

باقری نے کہا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے قم میں مجلس خبرگان کی عمارت، تہران میں صدارتی دفتر اور قومی سلامتی کونسل کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق اسرائیل کا مقصد ایران کے نئے رہنما کے انتخاب کے عمل کو روکنا ہے، لیکن ایران اور اس کے عوام اس جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات درست سمت میں جا رہے تھے اور ایران نے یورینیم افزودگی کے معاملے پر لچک دکھائی تھی۔ ان کے مطابق اسرائیل نے اس وقت حملہ کیا جب ویانا میں حتمی اور تکنیکی مذاکرات ہونے والے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل دونوں ایران میں نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں، جو اب دنیا پر واضح ہو چکا ہے۔

باقری نے مزید کہا کہ جب امریکہ اپنے فوجیوں کے بڑھتے ہوئے جانی نقصانات دیکھے گا تو وہ جنگ ختم کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔

انہوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ایران صرف خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنا رہا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل عرب ممالک کو بھی اس جنگ میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران اسرائیل کے “گریٹر اسرائیل” منصوبے کی آخری رکاوٹ ہے، اور اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو شام، اردن، سعودی عرب اور مصر جیسے ممالک متاثر ہو سکتے ہیں۔

باقری کے مطابق ایران اقتصادی، طبی اور دفاعی شعبوں میں خود کفیل ہے اور ایک سال تک جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل صرف چند ہفتوں تک ہی اس جنگ کو جاری رکھ سکتے ہیں۔

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔