اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور ایرانی صدر
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایرانی صدر کا خطاب منطق اور دلیل پر مبنی ایک اثر انگیز تقریر تھی، جس میں امریکی صدر کی جانب سے ایران کو دہشت گرد کہے…
مصنوعی ذہانت کا تجزیہ
اقوام متحدہ 1945ء میں دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کے بعد اِس اُمید پر قائم ہوا کہ آنے والی نسلوں کو جنگ کی ہولناکی سے بچایا جا سکے۔ جنرل اسمبلی کا ہال ایک ایسا عالمی فورم ہے جہاں تقریباً پوری انسانیت کی سیاسی آوازیں ایک جگہ جمع ہوتی ہیں۔یہاں بہت سی یادگار تقریریں کی گئیں اور اس بار ایرانی صدر کی تقریر بھی ایسی ہی تھی جو شاید آئندہ بھی یاد رکھی جانے والی تقریروں میں سے ایک ہو گی جس میں منطق، دلیل اورشعور یکجا دکھائی دئیے۔ اس بین الاقوامی فورم پردنیا تک اپنا پیغام پہنچانے کے لمحات کو جس موثر انداز سے استعمال کیا گیا اس کو یقینی طور پر سراہا جانا چاہئے۔یہ محض تقریر نہیں بلکہ دل کی آواز تھی جو براہ راست دلوں پر اثر انداز ہو رہی تھی جس کا محور امریکی صدر کا کہا گیا ایک جملہ تھا کہ ”ایران دہشت گرد ہے“۔
ایرانی صدر نے کہا کہ میں نے کل ایک تقریر تیار کی تھی لیکن امریکن صدر نے اپنی گفتگو میں ہمیں ”دہشت گرد“ قرار دیا حالانکہ ہم سب سے زیادہ اس کا شکار ہیں۔میں ایک ایسے ملک سے آیا ہوں جہاں ہمارے سپریم لیڈر کو بغیر کسی قانونی جواز کے قتل کر دیا گیا۔میں ایک ایسے ایران سے آیا ہوں جہاں ہمیں دہشت گرد کہنے والوں نے سکول کی معصوم ننھی کلیوں پربمباری کر کے انہیں شہید کیاجن کا کوئی جرم نہیں تھا۔ہمارے میدانوں کے کھیلتے بچوں پر مہلک ہتھیاروں سے حملہ کر کے انہیں قتل کیا گیا۔ ہماری قیادت کو نشانہ بنایا گیا، ہمارے سائنسدانوں کو قتل کیا گیا، ہمارے انفراسٹرکچر کو تباہ کیا گیا جس کا کوئی جوازنہیں تھا۔ امریکہ اسرائیل نے دنیا کے جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہو کر ہم پر حملہ کیا، ہماری قوم ثابت قدم رہی اور ہم نے اپنا دفاع کیا۔انہوں نے ہمیں نقصان پہنچایا لیکن ہم نے سر نہیں جھکایا اور گھٹنے نہیں ٹیکے۔ہم نے جواب دیا اور بھرپور جواب دیا لیکن ہم نے شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا۔انہوں نے ہماری یونیورسٹیوں، صحت کے مراکز ہمارے سکولوں کو نشانہ بنایا جو سب بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور پھر ہمیں ہی دہشت گر د کہا جا رہا ہے۔ جب میں نے صدر کے طور پر ذمہ داری سنبھالی تو انہوں نے ہمارے مہمان اسماعیل ہانیہ کو قتل کر دیا۔غزہ میں 80ہزار سے زیادہ لوگوں کو قتل کیا گیا، لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے اور وہاں دنیا کے مہلک ترین ہتھیاروں سے انسانوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے کیا وہ ہم کر رہے ہیں؟ ہم بغیر کسی تسلط کے صرف آزادانہ طور پر رہنا چاہے ہیں اور کیا یہ کوئی جرم ہے اور اسے دہشت گردی کہیں گے؟ہمیں بتایا جائے کہ ہم دنیا میں کہاں عدم استحکام اور کسی کے جانی مالی نقصان کا سبب ہیں؟ ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں طاقتور انسانیت، عدل، انصاف اور جمہوریت کے بارے میں سوچنے کی بجائے خود عدم استحکام اور تباہی کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔ گزشتہ 200سال سے ایران نے کسی ملک یا خطے پر حملہ نہیں کیااس کے باوجود ہمیں خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے، ہمارے انسانی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں، چار دہائیوں سے معاشی پابندیوں میں جکڑ کر رکھا گیا ہے اور پھر ہم ہی دہشت گرد ہیں۔ اب جو راستہ ہم نے چنا ہے اس میں ہمیں اپنا دفاع کرنے کے لئے صرف اور صرف طاقت کی ضرورت ہے۔یہ طاقت کسی پر حملہ کرنے کے لئے نہیں بلکہ اپنی قوم کی ترقی اور بیرونی جارحیت کو روکنے کے لئے ہے۔پُرامن جوہری ترقی ہماری غذائی ضرورت، صحت عامہ، صنعتی ترقی اور بجلی کی فراہمی کے لئے ہماری فطری ضرورت ہے۔ ایران یہ ہر گز نہیں چاہتا کہ جوہری ٹیکنالوجی چند مٹھی بھر خصوصی لوگوں کی ملکیت ہو۔ آبنائے ہرمز کے پانیوں میں ہم یہ نہیں چاہتے کہ کچھ لوگوں کو اس آبی گزرگاہ پر آزادانہ رسائی حاصل ہو اور وہ اسے اپنے مفاد اور مقاصد کے لئے استعمال کریں اور اسے ہم پر جارحیت مسلط کرنے کے لئے استعمال کیا جائے۔ فلسطین عالمی برادری کے ضمیر کا ایک کھلا زخم بنا ہوا ہے اور بین الاقوامی فورمز کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ہم فلسطین کو نظر انداز کرتے ہوئے امن کی بات نہیں کر سکتے کیونکہ اس کے بغیر دنیا میں اَمن کی بات ناپائیدار ہے۔ مزاحمت جاری رہے گی،اگر ایک صورت کمزور ہو گی تو دوسری سامنے آ جائے گی جو شاید پہلی سے زیادہ پریشان کن ہو۔ کوئی بھی جیتا جاگتا باشعور انسان غنڈہ گردی کے آگے مزاحمت کرے گا اور کیا اس کے حق دفاع کو دہشت گردی کہا جائے گا؟ ہمارے خطے کے مسائل کو ہمارے خطے کے ذریعے سے حل ہونا چاہیے باہر کی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر نہیں۔کسی بھی ہمسایہ ملک کو کسی بڑی طاقت کا آلہ کار بن کر اپنے قریب کے لوگوں کے لئے خطرہ نہیں بننا چاہئے۔ہمارے کچھ ہمسائیوں نے ایسا کیا اور انہوں نے اس کے بعد دیکھ لیا کے ہم اس کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہمیں کسی بیرونی طاقت کے گٹھ جوڑ سے فتح نہیں کیا جا سکتا۔ اس فورم کا مقصد باہمی اعتماد ہے جو صرف الفاظ سے نہیں بلکہ دہرے معیار سے پرہیز کر کے حاصل ہو سکتا ہے۔ایران جب مذاکرات کی میز پر بیٹھا تھا اس وقت بھی اس پر حملہ کیا گیا، جب مذاکرات کو ایک حتمی شکل دے دی گئی پھر بھی اس پر حملہ کیا گیا اورپھر ہم دہشت گرد ہیں؟ ایرانی خصوصی سلوک نہیں بلکہ مساوی حقوق چاہتے ہیں۔ ہمیں اکیسویں صدی میں طاقتوروں کو بالادستی کے دور میں جانے کی اجازت ہر گز نہیں دینی چاہئے۔ ایران دنیا کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے اپنے یقین اور ثابت قدمی کو سامنے رکھتے ہوئے اشتراک کی دعوت دیتا ہے۔ ہمیں دھمکانے والوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہم طاقت کی زبان کو قبول کیے بغیر مکالمے،سفارتکاری اور مذاکرات کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں لیکن سرنگوں ہونے کے لئے ہر گز نہیں۔
مصنف کے بارے میں
ڈاکٹر سرور حسین
ڈاکٹر سرور حسین ایک مصنف ہیں، تاہم فراہم کردہ معلومات میں ان کی زندگی یا تصانیف کے بارے میں مزید تفصیل درج نہیں۔ ان کی قومیت اور درجہ بھی درج نہیں۔
- سیاست
اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں
ڈاکٹر سرور حسین. «اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور ایرانی صدر.» اقبال فورم، 27 ستمبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=49812.
تبصرے