مرکزی مواد پر جائیں

توانائی بحران اور ٹرمپ خاندان کی کمائی

خلیج فارس اور بحرِ ہند میں جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بندش سے پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران اور یورپ کی شدید سردی کا فائدہ اٹھاتے…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

ٹرمپ خاندان

ان دنوں یورپ میں خون جما دینے والی اور ہڈیوں تک کو ٹھٹھرا دینے والی ہولناک سردی کا راج شروع ہو چکا ہے۔ اِس خوفناک تباہی اور عالمی معاشی دوزخ کے عین درمیان، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ان کا خاندان اور کاروباری حلیف اربوں ڈالر کا کمیشن بنانے کے لیے میدان میں سرگرم ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ خلیج فارس اور بحرِ ہند میں برپا ہونے والی خونریز جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بندش ہو چکی ہے۔ اس خوفناک صورتحال کو جواز بناتے ہوئے، ٹرمپ گروپ اس وقت روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے خفیہ اور اعلانیہ رابطے کر رہا ہے۔ وہ روس سے سستا ڈیزل، تیل اور ایل این جی کے سپلائی ٹھیکے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ انتہائی سردی میں تڑپتے ہوئے یورپی عوام کو مہنگے داموں ایندھن بیچ کر ذاتی تجوریاں بھر سکیں۔ چین کا معاشی گھیراؤ کرنے کے لیے امریکہ اور اس کے عرب و یورپی حلیفوں نے جو عسکری بساط بچھائی تھی، وہ خود اْن کے لیے الٹی پڑ چکی ہے۔ امریکی انتظامیہ نے وینزویلا اور ایران کے توانائی ذخائر سے چینی صنعتی اژدھے کو محروم کرنے کی سازش کی تھی۔ اس کے نتیجے میں برپا ہونے والے قیامت خیز بحران نے خود امریکہ اور یورپ کی توانائی کی شہ رگ کاٹ دی ہے۔ قطر کی ایل این جی سپلائی اور سعودی عرب، کویت اور عراق سے خام تیل کی فراہمی مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے۔ امریکی حماقت کے باعث خلیجی تیل کی معطلی اور اپنی ایل این جی یورپ نہ پہنچ پانے کی وجہ سے پورا یورپی براعظم شدید ترین معاشی مصائب میں جکڑا جا چکا ہے۔ دوسری طرف، یورپی یونین اور امریکی پابندیوں کے خوفناک جال کی وجہ سے یورپی ممالک براہِ راست روس سے گیس یا تیل خریدنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ یورپ کی اسی مجبوری اور ہنگامی ضرورت کو ٹرمپ خاندان اور ان کے ساتھیوں نے تاریخ کے سب سے بڑے توانائی سودے کا موقع بنا لیا ہے۔ بلومبرگ اور وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے صیہونی داماد جیرڈ کْشنر کے ذریعے کریملن اور روسی تیل کمپنیوں کا رخ کیا ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ نجی امریکی کنسورشیم کا خول بنا کر روس سے سستا ڈیزل اور گیس خریدی جائے اور پھر اسے یورپی عوام کو بلیک میل کر کے اربوں ڈالر کے منافع پر فروخت کیا جائے۔ اِس گھناؤنے کھیل میں نہ امریکی ریاست کا کوئی فائدہ ہے اور نہ عام امریکیوں کا؛ یہ صرف ٹرمپ خاندان اور صیہونی تیل نوابوں کی جیبیں بھرنے کا ایک مجرمانہ گورکھ دھندا ہے۔اس خطرناک کھیل کی باریکیوں کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ سعودی عرب، امارات اور بحرین جیسی خلیجی ریاستیں ایران پر امریکی حملوں کے اتحاد میں تو شامل تھیں لیکن وہ چین کو تیل کی فراہمی بند کرنے کے امریکی منصوبے کا حصہ نہیں بننا چاہتی تھیں۔ امریکہ کی بھڑکائی ہوئی اس جنگ کی آگ نے پورے خلیج کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ پہلے ایرانیوں نے خلیجی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا اور اب یمن کے حوثی مجاہدین درستگی کے ساتھ سعودی تیل پائپ لائنز اور ریفائنریز کو تباہ کر رہے ہیں۔ آپ حوثیوں پر جتنی چاہیں تباہی مسلط کر دیں، نامعلوم مقامات سے ہائی ٹیک ڈرونز اور میزائل چھوڑ کر سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو خاکستر کیا جا رہا ہے۔ عالمی دفاعی تجزیہ کاروں کے تخمینوں کے مطابق، دنیا کی 70 فیصد توانائی کی ضروریات پوری کرنے والے اس خلیجی خطے کی سپلائی کٹنے سے امریکی اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو کی سطح نچلے ترین درجے پر پہنچ چکی ہے۔ باخبر دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ریاستیں آج جس بند گلی میں کھڑی ہیں، وہاں سے نکلنے کا واحد راستہ امریکی کیمپ چھوڑ کر چینی کیمپ میں شمولیت ہے۔ چین پلک جھپکتے میں طاقت کا توازن بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔گیارہ ارب ڈالر کی لاگت سے بنی اور سالانہ 55 ارب کیوبک میٹر گیس منتقل کرنے والی نارڈ اسٹریم پائپ لائن ستمبر 2022ء کے پراسرار دھماکوں کے باوجود اپنی ایک لائن سے 100% محفوظ اور فعال ہے۔ رائٹرز اور فنانشل ٹائمز کے انکشافات گواہ ہیں کہ خلیجی تیل معطل ہوتے ہی، ڈونلڈ ٹرمپ اکتوبر 2026ء کے اسی جاری مہینے میں جیرڈ کْشنر اور اسٹیو وٹکوف کے ذریعے اسی پائپ لائن پر ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس معاشی بحران کا استحصال کرتے ہوئے، صیہونی سرمایہ داران اور کارپوریٹ مافیا اربوں ڈالر کا منافع اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کی تیاری کر چکے ہیں۔ جرمنی کی فیڈرل نیٹ ورک ایجنسی کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سستی روسی گیس کو ٹھکرانے کے بعد جرمن گھرانے 80% مہنگی گیس کا عذاب جھیل رہے ہیں اور جرمن صنعتوں کی پیداوری لاگت میں 200 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ جرمن چانسلر میرز یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ سستی روسی توانائی کو خیرباد کہنا ان کے ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی معاشی خودکشی ثابت ہوئی۔ کھیل صرف پائپ لائن تک محدود نہیں ہے۔ کریملن کے ایوانوں میں ولادیمیر پوٹن نے جیرڈ کْشنر کو روس کی دیوہیکل تیل کمپنی “لوک آئل” کی 20 ارب ڈالر کی بین الاقوامی سلطنت سستے داموں بیچنے کی پیشکش کر دی ہے۔ اس میں یورپ اور امریکہ کی ریفائنریز، پیٹرول پمپس کا نیٹ ورک اور میکسیکو کے خلیج میں واقع تیل کے کنویں شامل ہیں۔ گیم پلان یہ ہے کہ صیہونی سرمائے کا حامل ٹرمپ کی سرپرستی میں چلنے والا کنسورشیم اسے خریدے گا، ٹرمپ انتظامیہ پابندیوں کے قوانین کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دے گی اور اربوں ڈالر کا منافع ٹرمپ خاندان، جیرڈ کْشنر اور ان حلیفوں کے ذاتی اکاؤنٹس میں جائے گا۔ اس سفاکانہ کھیل کی الٹی گنتی اب شروع ہو چکی ہے۔ یو ایس آف شور ڈائریکٹوریٹ کے مطابق، لوک آئل کی فروخت کے امریکی لائسنس 22 اور 29 اکتوبر کو ختم ہو رہے ہیں اور اس کے فوراً بعد 3 نومبر کو امریکی مڈ ٹرم انتخابات کا میدان سجنے والا ہے۔ جہاں ڈیموکریٹس کی کامیابی ٹرمپ کے اس خواب کو چکنا چور کر سکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

غیور ترمذی

غیور ترمذی

غیور ترمذی کو فراہم کردہ معلومات میں ۹۲ نیوز کا کالم نویس بتایا گیا ہے۔ ان کی سوانح، قومیت یا رتبے کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

پروفائل اور تمام تحریریں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

غیور ترمذی. «توانائی بحران اور ٹرمپ خاندان کی کمائی.» اقبال فورم، 20 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=52422.

حوالہ دینے کے انداز

غیور ترمذی. (20 اکتوبر 2026). توانائی بحران اور ٹرمپ خاندان کی کمائی. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/?p=52422

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔